ٹیگ کے محفوظات: گیر

کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 74
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں
وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں
اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں
ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں
بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں
فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
احمد فراز

ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 88
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی
یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی
وہ میرے پاؤں کو چُھونے جُھکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی
شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی
کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی
پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی
بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی
ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی
کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
پروین شاکر

صبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچ

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 69
شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ
صبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچ
اے ستم گر رگِ جاں میں ہے مری پیوستہ
دم نکل جائے گا سینے سے مرے تیر نہ کھینچ
حور پر بھی کوئی کرتا ہے عمل دنیا میں
رنجِ بے ہودہ بس اے عاملِ تسخیر نہ کھینچ
عشق سے کیا ہے تجھے شکل تری کہتی ہے
حسنِ تقریر کو آہیں دمِ تقریر نہ کھینچ
ہے یہ سامان صفائی کا عدو سے کیوں کر
دستِ مشاطہ سے یوں زلفِ گرہ گیر نہ کھینچ
اے ستم پیشہ کچھ امیدِ تلافی تو رہے
دستِ نازک سے مرے قتل کو شمشیر نہ کھینچ
چارہ گر فکر کر اس میں، کہ مقدر بدلے
ورنہ بے ہودہ اذیت پئے تدبیر نہ کھینچ
کون بے جرم ہے جو شائقِ تعزیر نہیں
شوقِ تعزیر سے تو حسرتِ تقصیر نہ کھینچ
وجد کو زمزمۂ مرغِ سحر کافی ہے
شیفتہ نازِ مغنیِ و مزامیر نہ کھینچ
مصطفٰی خان شیفتہ

دیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 60
پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاق
دیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق
بے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخشش
محروم ہیں کس واسطے تعزیر کے مشتاق
رہتے تھے بہم جن سے مثالِ ورق و حرف
اب ان کی رہا کرتے ہیں تحریر کے مشتاق
لکھتا ہوں جو میں آرزوئے قتل میں نامے
ہیں میرے کبوتر بھی ترے تیر کے مشتاق
کیوں قتل میں عشاق کے اتنا ہے تغافل
مر جائیں گے ظالم دمِ شمشیر کے مشتاق
اے آہ ذرا شرم کہ وہ کہتے ہیں اکثر
مدت سے ہیں ہم آہ کی تاثیر کے مشتاق
سیماب تھا دل، جل کے سو اب خاک ہوا ہے
لے جائیں مری خاک کو اکسیر کے مشتاق
کیا ہجر کے دن آنے میں ہے عذر سنیں تو
ہم ہیں ملک الموت کی تقریر کے مشتاق
دل سرد کے سن کے ترے لالۂ موزوں
تھے شیفتہ ہم محسنِ تاثیر کے مشتاق
مصطفٰی خان شیفتہ

آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 101
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں! کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!
بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی
آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہماراَدمِ تحریر بھی تھا؟
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے

دیوان ششم غزل 1897
خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے
سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے
اب نہ حسرت رہے گی مرنے تک
موسم گل میں ہم اسیر ہوئے
میں ہی درویش خوار و زار نہیں
عشق میں بادشہ فقیر ہوئے
ہے شرارت کا وقت عہد شباب
تم لڑکپن ہی سے شریر ہوئے
گھر کو اس کے خراب ہی دیکھا
جس کے یہ چشم و دل مشیر ہوئے
شور جن کے سروں میں عشق کا تھا
وے جواں سارے پاے گیر ہوئے
یاں کی خلقت کی ہے زباں الٹی
کہتے ہیں اندھوں کو بصیر ہوئے
نہ ہوئے ہم نظیریؔ سے یوں تو
شعر کے فن میں بے نظیر ہوئے
بات کا ہم سے ان کو کب ہے دماغ
میر درویشی میں امیر ہوئے
میر تقی میر

سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے

دیوان ششم غزل 1879
جو جنون و عشق کی تدبیر ہے
سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے
وصف اس کا باغ میں کرنا نہ تھا
گل ہمارا اب گریباں گیر ہے
دیکھ رہتا ہے جو دیکھے ہے اسے
دلربا آئینہ رو تصویر ہے
پاے گیر اس کے نہ ہوں کیوں درد مند
حلقہ حلقہ زلف وہ زنجیر ہے
صید کے تن پر ہیں سب گلہاے زخم
کس قدر خوش کار اس کا تیر ہے
مدت ہجراں نے کی نے کچھ کمی
میرے طول عمر کی تقصیر ہے
خط نہ لکھتے تھے سو تاب دل گئی
دفتروں کی اکثر اب تحریر ہے
رکھ نظر میں بھی خراب آبادیاں
اے کہ تجھ کو کچھ غم تعمیر ہے
سخت کافر ہیں برہمن زادگاں
مسلموں کی ان کے ہاں تکفیر ہے
گفتگو میں رہتے تھے آگے خموش
ہر سخن کی اب مرے تقریر ہے
نظم محسنؔ کی رہی سرمشق دیر
اس مرے بھی شعر میں تاثیر ہے
مر گئے پر بھی نہ رسوائی گئی
شہر میں اب نعش بھی تشہیر ہے
کیا ستم ہے یہ کہ ہوتے تیغ و طشت
ذبح کرنے میں مرے تاخیر ہے
میر کو ہے کیا جوانی میں صلاح
اب تو سارے میکدے کا پیر ہے
میر تقی میر

سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے

دیوان پنجم غزل 1778
گردن کش زمانہ تو تیرا اسیر ہے
سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے
چشمک کرے ہے میری طرف کو نگاہ کر
وہ طفل شوخ چشم قیامت شریر ہے
تنکا سا ہو رہا ہے تن آگے ہی سوکھ کر
اب ننگ کیا فقیر جو سب میں حقیر ہے
جھڑ باندھ دے ہے رونے جو لگتا ہوں صبح کو
ہے چشم تر کہ غیرت ابر مطیر ہے
اک دو اجل رسیدہ جو صید آئے کب کھنچا
پرپیچ جال گیسوئوں کا جرگہ گیر ہے
جوں جوں بڑھاپا آتا ہے جاتے ہیں اینٹھتے
کس مٹی کا نہ جانیے اپنا خمیر ہے
اس خوبصورتی سے نہ صورت نظر پڑی
سورت تلک تو سیر کی وہ بے نظیر ہے
پر جوہر اس کی تیغ ہے نامہ براے قتل
پیغام مرگ عاشقوں کو اس کا تیر ہے
پوچھو اسی سے مضطرب الحال دل کی کچھ
وہ آفتاب چہرئہ روشن ضمیر ہے
جوں طفل شوخ و شنگ و جوان بلند طبع
شائستۂ فلک ہے اگر چرخ پیر ہے
فریاد شب کی سن کے کہا بے دماغ ہو
دیکھو تو اس بلا کو یہ شاید کہ میر ہے
میر تقی میر

اس دل کے تئیں پیش کش تیر کریں گے

دیوان اول غزل 568
صید افگنوں سے ملنے کی تدبیر کریں گے
اس دل کے تئیں پیش کش تیر کریں گے
فریاد اسیران محبت نہیں بے ہیچ
یہ نالے کسو دل میں بھی تاثیر کریں گے
دیوانگی کی شورشیں دکھلائیں گے بلبل
آتی ہے بہار اب ہمیں زنجیر کریں گے
وا اس سے سرحرف تو ہو گوکہ یہ سر جائے
ہم حلق بریدہ ہی سے تقریر کریں گے
رسوائی عاشق سے تسلی نہیں خوباں
مر جاوے گا تو نعش کو تشہیر کریں گے
یارب وہ بھی دن ہوئے گا جو مصر سے چل کر
کنعاں کی طرف قافلے شب گیر کریں گے
ہر چند کہ ان ترکوں میں ہو جلد مزاجی
پر کام میں ملنے کے یہ تاخیر کریں گے
شب دیکھی ہے زلف اس کی بجز دام اسیری
کیا یار اب اس خواب کی تعبیر کریں گے
غصے میں تو ہووے گی توجہ تری ایدھر
ہر کام میں ہم جان کے تقصیر کریں گے
نکلا نہ مناجاتیوں سے کام کچھ اپنا
اب کوئی خراباتی جواں پیر کریں گے
مکھڑے کے ترے دیکھنے والوں کے مقابل
لاوے گا کوئی مہ کو تو تعزیر کریں گے
شیخوں کے نہ جا سبحہ و سجادہ پہ ہرگز
مقدور تلک اپنے یہ تزویر کریں گے
بازیچہ نہیں میر کے احوال کا لکھنا
اس قصے کو ہم کرتے ہی تحریر کریں گے
میر تقی میر

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

دیوان اول غزل 523
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنی
سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں
ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں
ان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کے
گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہے
نے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
ایک دم تھی نمود بود اپنی
یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
یعنی مانند صبح دنیا میں
ہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سے
میر جی ان سے مل فقیر ہوئے
میر تقی میر

کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 399
ہر دم وہ شوخ دست بہ شمشیر کیوں نہ ہو
کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو
اب تو جگر کو ہم نے بلا کا ہدف کیا
انداز اس نگاہ کا پھر تیر کیوں نہ ہو
جاتا تو ہے کہیں کو تو اے کاروان مصر
کنعاں ہی کی طرف کو یہ شب گیر کیوں نہ ہو
حیراں ہیں اس قدر کہ اگر اب کے جایئے
پھر منھ ترا نہ دیکھیے تصویر کیوں نہ ہو
تونے تو رفتہ رفتہ کیا ہم کو ننگ خلق
وحشت دلا کہاں تئیں زنجیر کیوں نہ ہو
جوں گل کسو شگفتہ طبیعت کا ہے نشاں
غنچہ بھی کوئی خاطردل گیر کیوں نہ ہو
ہووے ہزار وحشت اسے تو بھی یار ہے
اغیار تیرے ساتھ جو ہوں میر کیوں نہ ہو
میر تقی میر

عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں

دیوان اول غزل 351
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں
اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا
پند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں
سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ
مے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب التعزیر ہوں
نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھے
ایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں
جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں
اس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں
جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کارد
یہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں
کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی
گرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں
یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گذرانیے
منصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں
اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جی
باز آئو ورنہ اپنے نام کو میں میر ہوں
میر تقی میر

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

دیوان اول غزل 27
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا
جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار
ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا
کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر
اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر
کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم
قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے
تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک
مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے
فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا
عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں
رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میر کا
میر تقی میر

جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
وُہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے
جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے
رشتۂ موجد و ایجاد کی منطق سمجھو
یہ جہاں دستِ جہاں گیر سے باہر ہی رہے
جبر مجبور ہے، چھپ کر بھی نہیں چھپ سکتا
شور زنجیر کا زنجیر سے باہر ہی رہے
یوں کہ کچھ عکس نمائی کا ہمیں شوق نہ تھا
چشمِ آئینہ ِٔ تشہیر سے باہر ہی رہے
وُہ ارادہ مجھے دے، اے مری ترکیبِ وجود!
جو عمل داریِٔ تقدیر سے باہر ہی رہے
المیے میرے زمانے کے مجھے سہنے پڑے
چشمِ غالب سے، دلِ میر سے باہر ہی رہے
آفتاب اقبال شمیم

اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل
اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل
اپنے دل کی راکھ چن کر، کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میں
میں بھی اک سیّال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیرِ دل
میں نہ سمجھا، ورنہ ہنگاموں بھری دنیا میں، اک آہٹ کے سنگ
کوئی تو تھا، آج جس کا قہقہہ دل میں ہے دامن گیرِ دل
رُت بدلتے ہی چمن جُو ہم صفیر اب کے بھی کوسوں دور سے
آ کے جب اس شاخ پر چہکے، مرے دِل میں بجی زنجیرِ دل
کیا سفر تھا، بےصدا صدیوں کے پل کے اس طرف، اس موڑ تک
پے بہ پے ابھرا سنہری گرد سے اک نالۂ دلگیرِ دل
وار دنیا نے کیے مجھ پر تو امجد میں نے اس گھمسان میں
کس طرح، جی ہار کر، رکھ دی نیامِ حرف میں شمشیرِ دل
مجید امجد

تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 40
مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا
کام دنیا کا ہے تیر اندازی
ہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا
سنگ بنیاد ہیں ہم اس گھر کا
جو کسی طرح نہ تعمیر ہوا
سفر شوق کا حاصل معلوم
راستہ پاؤں کی زنجیر ہوا
عمر بھر جس کی شکایت کی ہے
دل اسی آگ سے اکسیر ہوا
کس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا
کون اب داد سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
باقی صدیقی