ٹیگ کے محفوظات: گیری

گدائی رات کو کرتا ہوں خجلت سے فقیری میں

دیوان پنجم غزل 1696
طلب ہے کام دل کی اس کے بالوں کی اسیری میں
گدائی رات کو کرتا ہوں خجلت سے فقیری میں
نگہ عزلت میں اس ابرو کماں کی تھی ادھر یعنی
لگا تیر اس کا چھاتی میں ہماری گوشہ گیری میں
نظیر اس کی نظر آئی نہ سیاحان عالم کو
سیاحت دور تک کی ایک ہے وہ بے نظیری میں
حزیں آواز ہے مرغ چمن کی کیا جنوں آور
نہیں خوش زمزمہ ویسا ہماری ہم صفیری میں
جوانی میں نہ رسوائی ہوئی تا میر غم کھینچا
ہوئے اطفال تہ بازار گاہک جی کے پیری میں
میر تقی میر