ٹیگ کے محفوظات: گہرا

میں ایسا چاہتا کب تھا پر ایسا ہو گیا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 81
مرے خواب سے اوجھل اُس کا چہرہ ہو گیا ہے
میں ایسا چاہتا کب تھا پر ایسا ہو گیا ہے
تعلق اب یہاں کم ہے ملاقاتیں زیادہ
ہجومِ شہر میں ہر شخص تنہا ہو گیا ہے
تری تکمیل کی خواہش تو پوری ہو نہ پائی
مگر اک شخص مجھ میں بھی ادھورا ہو گیا ہے
جو باغِ آرزو تھا اب وہی ہے دشتِ وحشت
یہ دل کیا ہونے والا تھا مگر کیا ہو گیا ہے
میں سمجھا تھا سیئے گی آگہی چاکِ جنوں کو
مگر یہ زخم تو پہلے سے گہرا ہو گیا ہے
میں تجھ سے ساتھ بھی تو عمر بھر کا چاہتا تھا
سو اب تجھ سے گلہ بھی عمر بھر کا ہو گیا ہے
ترے آنے سے آیا کون سا ایسا تغیر
فقط ترکِ مراسم کا مداوا ہو گیا ہے
مرا عالم اگر پوچھیں تو اُن سے عرض کرنا
کہ جیسا آپ فرماتے تھے ویسا ہو گیا ہے
میں کیا تھا اور کیا ہوں اور کیا ہونا ہے مجھ کو
مرا ہونا تو جیسے اک تماشا ہو گیا ہے
یقینا ہم نے آپس میں کوئی وعدہ کیا تھا
مگر اس گفتگو کو ایک عرصہ ہو گیا ہے
اگرچہ دسترس میں آ گئی ہے ساری دنیا
مگر دل کی طرف بھی ایک در وا ہو گیا ہے
یہ بے چینی ہمیشہ سے مری فطرت ہے لیکن
بقدرِ عمر اس میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے
مجھے ہر صبح یاد آتی ہے بچپن کی وہ آواز
چلو عرفانؔ اٹھ جاؤ سویرا ہو گیا ہے
عرفان ستار

نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 16
پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا
آزمائش میں کہاں عشق بھی پُورا اُترا
حسن کے آگے تو تقدیر کا لکھا اُترا
دُھوپ ڈھلنے لگی،دیوار سے سایا اُترا
سطح ہموار ہُوئی،پیار کا دریا اُترا
یاد سے نام مٹا،ذہن سے چہرہ اُترا
چند لمحوں میں نظر سے تری کیا کیا اُترا
آج کی شب میں پریشاں ہوں تو یوں لگتا ہے
آج مہتاب کا چہرہ بھی ہے اُترا اُترا
میری وحشت رمِ آہو سے کہیں بڑھ کر تھی
جب مری ذات میں تنہائی کا صحرا اُترا
اِک شبِ غم کے اندھیرے پہ نہیں ہے موقوف
تونے جو زخم لگایا ہے وہ گہرا اُترا
پروین شاکر

کاش میں پیڑوں کا سایہ ہوتا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 7
جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
کاش میں پیڑوں کا سایہ ہوتا
تو جو اس راہ سے گزرا ہوتا
تیرا ملبوس بھی کالا ہوتا
میں گھٹا ہوں، نہ پَون ہوں، نہ چراغ
ہم نشیں میرا کوئی کیا ہوتا
زخم عریاں تو نہ دیکھے کوئی
میں نے کچھ بھیس ہی بدلا ہوتا
کیوں سفینے میں چھپاتا دریا
گر تجھے پار اترنا ہوتا
بن میں بھی ساتھ گئے ہیں سائے
میں کسی جا تو اکیلا ہوتا
مجھ سے شفّاف ہے سینہ کس کا
چاند اس جھیل میں اترا ہوتا
اور بھی ٹوٹ کے آتی تری یاد
میں جو کچھ دن تجھے بھولا ہوتا
راکھ کر دیتے جلا کر شعلے
یہ دھواں دل میں نہ پھیلا ہوتا
کچھ تو آتا مری باتوں کا جواب
یہ کنواں اور جو گہرا ہوتا
نہ بکھرتا جو فضا میں نغمہ
سینۂِ نَے میں تڑپتا ہوتا
اور کچھ دور تو چلتے مرے ساتھ
اور اک موڑ تو کاٹا ہوتا
تھی مقدّر میں خزاں ہی تو شکیبؔ
میں کسی دشت میں مہکا ہوتا
شکیب جلالی

یہ صراحی میں پھول نرگس کا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 44
میری مانند خودنگر، تنہا
یہ صراحی میں پھول نرگس کا
اتنی شمعیں تھیں تیری یادوں کی
اپنا سایہ بھی اپنا سایہ نہ تھا
میرے نزدیک تیری دوری تھی
کوئی منزل تھی، کوئی عالم تھا
ہائے وہ زندگی فریب آنکھیں
اس نے کیا سوچا، میں نے کیا سمجھا
صبح کی دھوپ ہے کہ رستوں پر
منجمد بجلیوں کا اک دریا
گھنگھروؤں کی جھنک منک میں بسی
تیری آہٹ، میں کس خیال میں تھا
کون یاد آ گیا تھا، یاد نہیں
دل بھی اک ضرب بھول بھول گیا
سارے بندھن کڑے سہی، لیکن
تجھ سے یہ ربط، دھندلا اور گہرا
پھر کہیں دل کے برج پر کوئی عکس
فاصلوں کی فصیل سے ابھرا
پھول مرجھا نہ جائیں بجروں میں
مانجھیو! کوئی گیت ساحل کا
وقت کی سرحدیں سمٹ جاتیں
تیری دوری سے کچھ بعید نہ تھا
عمر جلتی ہے، بخت جلووں کے
زیست مٹتی ہے، بھاگ مٹی کا
رہیں دردوں کی چوکیاں چوکس
پھول لوہے کی باڑ پر بھی کھلا
جو خود ان کے دلوں میں تھا تہہِ سنگ
وہ خزانہ کسی کسی کو ملا
لاکھ قدریں تھیں زندگانی کی
یہ محیط اک عجیب زاویہ تھا
سانس کی رو میں رونما طوفاں
تیغ کی دھار پر بہے دھارا
ہے جو یہ سر پہ گیان کی گٹھڑی
کھول کر بھی اسے کبھی دیکھا؟
روز جھکتا ہے کوئے دِل کی طرف
کاخِ صد بام کا کوئی زینہ
امجد، ان آنسوؤں کو آگ لگے
کتنا نرم اور گراں ہے یہ دریا
مجید امجد