ٹیگ کے محفوظات: گہرائیاں

جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
سُر اداسی کے بکھیریں سانس کی شہنائیاں
جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں
منتظر رہ رہ کے آنکھیں اِس قدر دھندلا گئیں
فرقِ روز و شب تلک جانیں نہ اب بینائیاں
رنگ پھیکے پڑ گئے کیا کیا رُتوں کے پھیر سے
گردشوں سے صورتیں کیا کیا نہیں گہنائیاں
جاگنے پر، تخت سے جیسے چمٹ کر رہ گئے
ہاتھ جن کے، سو کے اُٹھنے پر لگیں دارائیاں
لے کے پیمانے گلوں کی مسکراہٹ کے رُتیں
ناپنے کو آ گئیں پھر درد کی گہرائیاں
اُس سے ہم بچھڑے ہیں ماجد ابکے اِس انداز سے
پت جھڑوں میں جیسے پتوں کو ملیں رُسوائیاں
ماجد صدیقی

ہاتھوں سے دُور ہونے لگیں اُس جسم کی گولائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
قوسیں مہکتے لمس کی رَس گھولتی رعنائیاں
ہاتھوں سے دُور ہونے لگیں اُس جسم کی گولائیاں
شاخوں سے جھڑتے پُھول سی، سر پرامڈتی دھول سی
حق میں ہمارے ہو چلیں، کیا کیا کرم فرمائیاں
ہر کُنج سے چھلکا کئے کیا کیا خزینے لطف کے
لپٹیں تھیں جیسے مشک کی اُس حسن کی پہنائیاں
اُس شوخ کے الطاف کی ،ہم سے نہ ناپی جاسکیں
دل کو جو ارزانی ہوئیں ،اُس درد کی گہرائیاں
ہم کو اکیلا چھوڑ کر، جب سے وہ چنچل جا چکا
ہر سمت اگنے لگ پڑیں، ڈستی ہوئی تنہائیاں
ماجد صدیقی

مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 59
دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں
آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں
ہر حسن سادہ لوح نہ دل میں اُتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں
پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
احمد فراز