ٹیگ کے محفوظات: گھیروں

بولیں خاموشی کے گھیروں میں چٹختے پتے

چار سُو چُپ کا سماں ہو کوئی آواز نہ ہو
بولیں خاموشی کے گھیروں میں چٹختے پتے
پھر سے گھنگھور سیہ رات، خزاں کا یہ سماں
پھر سے گلشن کے اندھیروں میں چٹختے پتے
تجھ سے تو اچھے ہیں اے شامِ بہارِ خاموش
سیر سرما کے سویروں میں چٹختے پتے
گُم ہوئیں شہر کی شورش میں صدائیں میری
دب گئے دُھول کے ڈھیروں میں چٹختے پتے
اب کمی مجھ کو نہیں کوئی ہوئے ہم آواز
دِل کی تنہائی کے ڈھیروں میں چٹختے پتے
اپنے ہر شعر میں گوندھا ہے خزاں کو میَں نے
جاوداں زبروں میں زیروں میں چٹختے پتے
لے گئے توڑ کے پھل لوگ یہاں سے یاؔور
رہ گئے جھولتے بیروں میں چٹختے پتے
یاور ماجد