ٹیگ کے محفوظات: گھڑی

نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی
نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی
شاخ سے کٹ کر کسی کالر پہ گل سج جائے گا
وُہ کہ جو ہونٹوں پہ آئے گی ہنسی، رُک جائے گی
ہوتے ہوتے خشک موسم، ہاتھ دِکھلا جائے گا
ہوتے ہوتے پیڑ کی، بالیدگی رُک جائے گی
ہم نے ماجدؔ کب یہ سوچا تھا کہ جسم و جان کو
سینچتی ہے جو وہ موجِ تازگی، رُک جائے گی
ماجد صدیقی

تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 123
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے
اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں
راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے
کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے
یاد کرنے کے لیئے عمر پڑی ہو جیسے
تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر
یہ گرہ اب کے مرے دل میں‌ پڑی ہو جیسے
منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں
اپنے ہی پاؤں میں‌ زنجیر پڑی ہو جیسے
آج دل کھول کے روئے ہیں‌ تو یوں‌ خوش ہیں‌ فراز
چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے
احمد فراز

ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 98
ہر ایک شکل میں صورت نئی ملال کی ہے
ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے
ہم اپنے ہجر میں تیرا وصال دیکھتے ہیں
یہی خوشی کی ہے ساعت، یہی ملال کی ہے
ہمارے خانہءِ دل میں نہیں ہے کیا کیا کچھ
یہ اور بات کہ ہر شے اُسی ملال کی ہے
ابھی سے شوق کی آزردگی کا رنج نہ کر
کہ دل کو تاب خوشی کی نہ تھی، ملال کی ہے
کسی کا رنج ہو، اپنا سمجھنے لگتے ہیں
وبالِ جاں یہ کشادہ دلی ملال کی ہے
نہیں ہے خواہشِ آسودگیءِ وصل ہمیں
جوازِ عشق تو بس تشنگی ملال کی ہے
گزشتہ رات کئی بار دل نے ہم سے کہا
کہ ہو نہ ہو یہ گھٹن آخری ملال کی ہے
رگوں میں چیختا پھرتا ہے ایک سیلِ جنوں
اگرچہ لہجے میں شائستگی ملال کی ہے
عجیب ہوتا ہے احساس کا تلون بھی
ابھی خوشی کی خوشی تھی، ابھی ملال کی ہے
یہ کس امید پہ چلنے لگی ہے بادِ مُراد؟
خبر نہیں ہے اِسے، یہ گھڑی ملال کی ہے
دعا کرو کہ رہے درمیاں یہ بے سخنی
کہ گفتگو میں تو بے پردگی ملال کی ہے
تری غزل میں عجب کیف ہے مگر عرفان
درُونِ رمز و کنایہ کمی ملال کی ہے
عرفان ستار

ہر شاخ گل چمن میں بھیچک ہوئی کھڑی ہے

دیوان دوم غزل 1045
کس فتنہ قد کی ایسی دھوم آنے کی پڑی ہے
ہر شاخ گل چمن میں بھیچک ہوئی کھڑی ہے
واشد ہوئی نہ بلبل اپنی بہار میں بھی
کیا جانیے کہ جی میں یہ کیسی گل جھڑی ہے
نادیدنی دکھاوے کیونکر نہ عشق ہم کو
کس فتنۂ زماں سے آنکھ اپنی جا لڑی ہے
وے دن گئے کہ پہروں کرتے نہ ذکر اس کا
اب نام یار اپنے لب پر گھڑی گھڑی ہے
آتش سی پھک رہی ہے سارے بدن میں میرے
دل میں عجب طرح کی چنگاری آ پڑی ہے
کیا کچھ ہمیں کو اس کی تلوار کھا گئی ہے
ایسی ہی اک جڑی ہے اس نے جہاں جڑی ہے
کیا میر سر جھکاویں ہر کم بغل کے آگے
نام خدا انھوں کی عزت بہت بڑی ہے
میر تقی میر

وہ طبع تو نازک ہے کہانی یہ بڑی ہے

دیوان دوم غزل 1044
کیا حال بیاں کریے عجب طرح پڑی ہے
وہ طبع تو نازک ہے کہانی یہ بڑی ہے
کیا فکر کروں میں کہ ٹلے آگے سے گردوں
یہ گاڑی مری راہ میں بے ڈول اڑی ہے
ہے چشمک انجم طرف اس مہ کے اشارہ
دیکھو تو مری آنکھ کہاں جاکے لڑی ہے
کیا اپنی شررریزی کہیں پلکوں کی صف کی
ہم جانتے ہیں ہم پہ جو یہ باڑھ جھڑی ہے
وے دن گئے جو پہروں لگی رہتی تھیں آنکھیں
اب یاں ہمیں مہلت کوئی پل کوئی گھڑی ہے
ایسا نہ ہوا ہو گا کوئی واقعہ آگے
اک خواہش دل ساتھ مرے جیتی گڑی ہے
کیا نقش میں مجنوں ہی کے تھی رفتگی عشق
لیلیٰ کی بھی تصویر تو حیران کھڑی ہے
جاتے ہیں چلے متصل آنسو جو ہمارے
ہر تار نگہ آنکھوں میں موتی کی لڑی ہے
کھنچتا ہی نہیں ہم سے قدخم شدہ ہرگز
یہ سست کماں ہاتھ پر اب کتنی کڑی ہے
گل کھائے ہیں افراط سے میں عشق میں اس کے
اب ہاتھ مرا دیکھو تو پھولوں کی چھڑی ہے
وہ زلف نہیں منعکس دیدئہ تر میر
اس بحر میں تہ داری سے زنجیر پڑی ہے
میر تقی میر

کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 37
کیا روپ دوستی کا؟ کیا رنگ دشمنی کا؟
کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا
اک تنکا آشیانہ، اک راگنی اثاثہ
اک موسمِ بہاراں، مہمان دو گھڑی کا
آخر کوئی کنارا اس سیلِ بےکراں کا؟
آخر کوئی مداوا اس دردِ زندگی کا؟
میری سیہ شبی نے اک عمرآرزو کی
لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا
شاید اِدھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ
بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بلب کبھی کا
اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں
مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بےرخی کا
اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں
لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا
او مسکراتے تارو! او کھلکھلاتے پھولو!
کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا
مجید امجد

شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 631
آگ میں برگ وسمن کی جھڑی لگ سکتی ہے
شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے آنے کی خوشی میں اسکے
بام پہ قمقموں کی اک لڑی لگ سکتی ہے
اس کے وعدہ پہ مجھے پورا یقیں ہے لیکن
لوٹ آنے میں گھڑی دو گھڑی لگ سکتی ہے
رک بھی سکتی ہے یہ چلتی ہوئی اپنی گاڑی
میخ ٹائر میں کہیں بھی پڑی لگ سکتی ہے
جب کوئی ساتھ نہ دینے کا ارداہ کر لے
ایک نالی بھی ندی سے بڑی لگ سکتی ہے
دامِ ہمرنگ زمیں غیر بچھا سکتے ہیں
کوچۂ یار میں دھوکا دھڑی لگ سکتی ہے
اِس محبت کے نتائج سے ڈر آتا ہے مجھے
اِس شگوفے پہ کوئی پھلجھڑی لگ سکتی ہے
میں میانوالی سے آسکتاہوں ہر روز یہاں
خوبصورت یہ مجھے روکھڑی لگ سکتی ہے
جرم یک طرفہ محبت ہے ازل سے منصور
اِس تعلق پہ تجھے ہتھکڑی لگ سکتی ہے
منصور آفاق

میں بڑا تھا میری مشکل بھی بڑی ہونی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 490
ہر قدم پر کوئی دیوار کھڑی ہونی تھی
میں بڑا تھا میری مشکل بھی بڑی ہونی تھی
سایہ ء ابرِ رواں ساتھ کہاں تک چلتا
میں مسافر تھا مسافت تو کڑی ہونی تھی
موت کی سالگرہ آج منانی تھی مجھے
آج تو دس تھی محرم کی جھڑی ہونی تھی
صبحِ تقریب! ذرا دیر ہوئی ہے ورنہ
یہ گھڑی اپنے تعارف کی گھڑی ہونی تھی
بورڈ پر سرخ سا اک پن بھی لگا ہونا تھا
اور اس میں کوئی تتلی بھی گڑی ہونی تھی
اور کیا ہونا تھا دروازے سے باہر منصور
دن رکھا ہونا تھا یا رات پڑی ہونی تھی
منصور آفاق

شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 481
روشنی سائے میں کھڑی ہے ابھی
شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی
دیکھنا ہے اسے مگر اپنی
آنکھ دیوار میں گڑی ہے ابھی
آسماں بھی مرا مخالف ہے
ایک مشکل بہت بڑی ہے ابھی
ایک بجھتے ہوئے تعلق میں
شام کی آخری گھڑی ہے ابھی
ہم سے مایوس آسماں کیا ہو
موتیوں سے زمیں جڑی ہے ابھی
ایک ٹوٹے ہوئے ستارے کی
میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے ابھی
موسمِ گل ہے میرے گلشن میں
شاخ پر ایک پنکھڑی ہے ابھی
وہ کھلی ہے گلاب کی کونپل
میری قسمت کہاں سڑی ہے ابھی
سایہء زلف کی تمازت ہے
رات کی دوپہر کڑی ہے ابھی
اس میں بچپن سے رہ رہا ہوں میں
آنکھ جس خواب سے لڑی ہے ابھی
میں کھڑا ہوں کہ میرے ہاتھوں میں
ایک دیمک زدہ چھڑی ہے ابھی
آگ دہکا نصیب میں منصور
برف خاصی گری پڑی ہے ابھی
منصور آفاق

دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 439
یاد کے فلور پرچائے ہے پڑی ہوئی
دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی
پھانسیوں پہ جھولتی اک خبرہے موت کی
اپنی اپنی طے شدہ سوچ میں گڑی ہوئی
بدمزاج وقت ہے کچھ ملال خیز سا
اختتامِ سال سے شام ہے لڑی ہوئی
آتے جاتے دیکھ کر درد کچھ مرے ہوئے
اک الست مست کی ذات میں جھڑی ہوئی
بولتے تھے عادتاً کم بھرے ہوئے دماغ
دانش و شعور کی شوخ پنکھڑی ہوئی
آتی جاتی گاڑیاں موڑ کاٹنے لگیں
چلتے چلتے وہ گلی روڈ پر کھڑی ہوئی
چلنے والا تار پرمسخروں میں کھو گیا
جب صراطِ وقت پر آخری گھڑی ہوئی
آدمی کے گوشت کی ریشہ رشہ داستاں
صدرِ امن گاہ کے دانت میں اڑی ہوئی
منصور آفاق

دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 381
دیکھتے لپک تیرے طنز کی تو ہم بھی ہیں
دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے آدمی تو ہم بھی ہیں
کھلتے کھلتے کھلتے ہیں اپنی اپنی دنیا میں
تم اگر تجسس ہو سنسنی تو ہم بھی ہیں
تم سہی سیہ بدلی آنسوئوں کے موسم کی
آس پاس مژگاں کے کچھ نمی تو ہم بھی ہیں
عشق کی شریعت میں کیا جو قیس پہلے تھے
ہجر کی طریقت میں آخری تو ہم بھی ہیں
جانتے ہیں دنیا کو درد کا سمندر ہے
اور اس سمندر میں اک گلی تو ہم بھی ہیں
پیڑ سے تعلق تو ٹوٹ کے بھی رہتا ہے
سوختہ سہی لیکن شبنمی تو ہم بھی ہیں
دو گھڑی کا قصہ ہے زندگی محبت میں
دو گھڑی تو تم بھی ہو دو گھڑی تو ہم بھی ہیں
جیل کی عمارت ہے عاشقی کی صحبت بھی
بیڑیاں اگر تم ہو ہتھکڑی تو ہم بھی ہیں
نام وہ ہمارا پھر اک کرن کے ہونٹوں پر
وقت کے ستارے پر۔ ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
کیا ہوا جو ہجراں کی رہ رہے ہیں مشکل میں
یار کے شبستاں میں یاد سی تو ہم بھی ہیں
دیدنی زمانے میں بے خبر بہاروں سے
گلستانِ حیرت کی اک کلی تو ہم بھی ہیں
مانا عشق کرنے کا کچھ پتہ نہیں تم کو
دلبری کی بستی میں اجنبی تو ہم بھی ہیں
یہ الگ گوارا ہم وقت کو نہیں لیکن
جس طرح کے ہوتے ہیں آدمی تو ہم بھی ہیں
کربلا کی وحشت سے، سلسلہ نہیں لیکن
ساحلوں پہ دریا کے تشنگی تو ہم بھی ہیں
ہیر تیرے بیلے میں آنسوئوں کے ریلے میں
خالی خالی بیلے میں بانسری تو ہم بھی ہیں
تم چلو قیامت ہو تم چلو مصیبت ہو
بے بسی تو ہم بھی ہیں ، بے کسی تو ہم بھی ہیں
صبح کے نکلتے ہی بجھ تو جانا ہے ہم کو
رات کی سہی لیکن روشنی تو ہم بھی ہیں
دیکھتے ہیں پھولوں کو، سوچتے ہیں رنگوں کو
خوشبوئوں کے مکتب میں فلسفی تو ہم بھی ہیں
ایک الف لیلیٰ کی داستاں سہی کوئی
دوستو کہانی اک متھ بھری تو ہم بھی ہیں
منصور آفاق

میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 368
یاد کے گلی میں دو اجنبی مسافر ہیں
میرے ساتھ خوشبو اور روشنی مسافر ہیں
گھر میں کمپیوٹر کی صرف ایک کھڑکی ہے
ورنہ قیدیوں کے دل ہر گھڑی مسافر ہیں
چند ٹن بیئر کے ہیں چند چپس کے پیکٹ
رات کی سڑک ہے اور ہم یونہی مسافر ہیں
کون ریل کو سگنل لالٹین سے دے گا
گاؤں کے سٹیشن پر اک ہمی مسافر ہیں
نیند کے جزیرے پر، آنکھ کی عمارت میں
اجنبی سے لگتے ہیں ، یہ کوئی مسافر ہیں
شب پناہ گیروں کے ساتھ ساتھ رہتی ہے
روشنی کی بستی میں ہم ابھی مسافر ہیں
اور اک سمندر سا پھر عبور کرنا ہے
خار و خس کی کشتی ہے کاغذی مسافر ہیں
چند اور رہتے ہیں دھوپ کے قدم منصور
شام کی گلی کے ہم آخری مسافر ہیں
منصور آفاق

رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 19
اے چاند پتہ تیرا کسی سے نہیں ملتا
رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا
او پچھلے پہر رات کے، جا نیند سے کہہ دے
اب خواب میں بھی کوئی کسی سے نہیں ملتا
کیوں وقتِ مقرر پہ ٹرام آتی نہیں ہے
کیوں وقت ترا میری گھڑی سے نہیں ملتا
میں جس کے لیے عمر گزار آیا ہوں غم میں
افسوس مجھے وہ بھی خوشی سے نہیں ملتا
یہ ایک ریاضت ہے خموشی کی گپھا میں
یہ بختِ ہنر نام وری سے نہیں ملتا
وہ تجھ میں کسی روز ضرور آ کے گرے گی
دریا تو کبھی جا کے ندی سے نہیں ملتا
دہلیز پہ رکھ جاتی ہے ہر شام جو آنکھیں
منصور عجب ہے کہ اسی سے نہیں ملتا
منصور آفاق