ٹیگ کے محفوظات: گھڑس

اے ابر تر آکر ٹک ایدھر بھی برس ظالم

دیوان دوم غزل 857
اب سوکھی ہی جاتی ہے سب کشت ہوس ظالم
اے ابر تر آکر ٹک ایدھر بھی برس ظالم
صیاد بہار اب کے سب لوٹوں گا کیا میں ہی
ٹک باغ تلک لے چل میرا بھی قفس ظالم
کس طور کوئی تجھ سے مقصود کرے حاصل
نے رحم ترے جی میں نے دل میں ترس ظالم
کیوں سر چڑھے ہے ناحق ہم بخت سیاہوں کے
مت پیچ میں پگڑی کے بالوں کو گھڑس ظالم
جوں ابر میں روتا تھا جوں برق تو ہنستا تھا
صحبت نہ رہی یوں ہی ایک آدھ برس ظالم
کیا کھولے ہوئے محمل یاں گرم حکایت ہے
چل راہ میں کچھ کہتا مانند جرس ظالم
مطلق نہیں گنجائش اب حوصلے میں اپنے
آزار کوئی کھینچے یوں کب تئیں بس ظالم
سررشتۂ ہستی کو ہم دے چکے ہاتھوں سے
کچھ ٹوٹے ہی جاتے ہیں اب تار نفس ظالم
تاچند رہے گا تو یوں داغ غم اس مہ کا
چھاتی تو گئی تیری اے میر بھلس ظالم
میر تقی میر

جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر

دیوان دوم غزل 809
آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر
جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر
فرصت سے اس چمن کی کل روکے میں جو پوچھا
چشمک کی ایک گل نے میری طرف کو ہنس کر
ہم موسے ناتواں تھے سو ہوچکے ہیں کب کے
نکلے ہو تم پیارے کس پر کمر کو کس کر
جی رک گیا کہیں تو پھر ہوئے گا اندھیرا
مت چھیڑ ابر مجھ کو یوں ہی برس برس کر
کیا ایک تنگ میں ہوں اس زلف پرشکن سے
اس دام میں موئے ہیں بہتیرے صید پھنس کر
اک جمع کے سر اوپر روز سیاہ لایا
پگڑی میں بال اپنے نکلا جو وہ گھڑس کر
اس قافلے میں کوئی دل آشنا نہیں ہے
ٹکڑے گلے کے اپنے ناحق نہ اے جرس کر
صیاد اگر اجازت گلگشت کی نہیں ٹک
دیوار باغ کو تو بارے درقفس کر
بے بس ہے میر تجھ بن رہتا نہیں دل اس کا
ٹک تو بھی اے ستم جو جور و ستم کو بس کر
میر تقی میر