ٹیگ کے محفوظات: گھٹ

دن تھے جو بُرے وہ کٹ رہے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
طوفان غموں کے چھٹ رہے ہیں
دن تھے جو بُرے وہ کٹ رہے ہیں
اُبھرے تھے نظر میں جو الاؤ
اک ایک وہ اب سمٹ رہے ہیں
اِدبار کے سائے جس قدر تھے
اُمید کی ضو سے گھٹ رہے ہیں
اب جاں کا محاذ پُرسکوں ہے
دشمن تھے جو سر پہ ہٹ رہے ہیں
چہروں سے اُڑے تھے رنگ جتنے
ماجدؔ! وہ سبھی پلٹ رہے ہیں
ماجد صدیقی

وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 94
لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے
خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں
ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے
ملنا__دوبارہ ملنے کو وعدہ__جُدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے
روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد
بادل جو آسمان پہ چھائے تھے،چھٹ گئے
کِس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل
آئی ہوا تو کِتنے ورق ہی اُلٹ گئے
شہرِ وفا میں دُھوپ کا ساتھی کوئی نہیں
سُورج سروں پہ آیا تو سائے بھی گھٹ گئے
اِتنی جسارتیں تو اُسی کو نصیب تھیں
جھونکے ہَوا کے،کیسے گلے سے لپٹ گئے
دستِ ہَوا نے جیسے درانتی سنبھال لی
اب کے سروں کی فصل سے کھلیان پٹ گئے
پروین شاکر

دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 20
ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا
لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں
پہونچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا
یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر
یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا
بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون
پتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا
اب کون جائے کوئے ملامت کو چھوڑ کر
قدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا
گنبد کا کیا قصور اسے کیوں کہوں برا
آیا جدھر سے تیر، ادھر ہی پلٹ گیا
رکھتا ہے خود سے کون حریفانہ کشمکش
میں تھا کہ رات اپنے مقابل ہی ڈٹ گیا
جس کی اماں میں ہوں وہ ہی اکتا گیا نہ ہو
بوندیں یہ کیوں برستی ہیں، بادل تو چھٹ گیا
وہ لمحۂِ شعور جسے جانکنی کہیں
چہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا
ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور
رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا
اک حشر سا بپا تھا مرے دل میں اے شکیبؔ
کھولیں جو کھڑکیاں تو ذرا شور گھٹ گیا
شکیب جلالی

ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 166
جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے
ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے
رنگِ سرشاری کی تھی جِن سے رَسَد
دل کی ان فصلوں کے جنگل کٹ گئے
اک چراغاں ہے حرم میں دیر میں
جشن اس کا ہے دل و جاں بٹ گئے
شہرِ دل اور شہرِ دنیا الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے
ہو گیا سکتہ خردمندوں کو جب
مات کھاتے ہی دوانے ڈٹ گئے
چاند سورج کے عالم اور واپسی
وہ ہوا ماتم کہ سینے پھٹ گئے
کیا بتائیں کتنے شرمندہ ہیں ہم
تجھ سے مِل کر اور بھی ہم گھٹ گئے
جون ایلیا

ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا

دیوان دوم غزل 743
سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا
ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا
عالم میں جاں کے مجھ کو تنزہ تھا اب تو میں
آلودگی جسم سے ماٹی میں اٹ گیا
ظلم و جفا و جور پر اصرار اس قدر
ہٹ دیکھ دیکھ تیری دل اپنا بھی ہٹ گیا
اب وہ سماں نہیں ہے کہ وہ کام جان خلق
مغموم ہم کو دیکھ کے دوڑا لپٹ گیا
دشوار سیتے ہیں گے جو بے ڈھب پھٹے ہے جیب
بے طوریوں سے اس کی دل اپنا تو پھٹ گیا
دامان و جیب دونوں ہوئے ٹکڑے ایک جا
اب کے یہ کام ہاتھ سے میرے سمٹ گیا
خاطر اگر ہو جمع پریشانی بھی نبھے
سو دل تو دو طرف تری زلفوں سے بٹ گیا
ٹک رات اس کے منھ سے ہوا تھا مقابلہ
پھر ماہ چاردہ کو جو دیکھا تو گھٹ گیا
کیا پوچھو ہو نصیب ہمارے الٹ گئے
چل کر ادھر کو یار پھر اودھر الٹ گیا
بلبل کی اور گل کی جو صحبت کی سیر میر
دل اپنا دلبروں کی طرف سے اچٹ گیا
میر تقی میر

دلہنیں فرش گل پر چلیں ، دور تک اُن کی آہٹ گئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 68
سو بہ سو زرد رنگوں کی پھیلی ہوئی تیرگی چھٹ گئی
دلہنیں فرش گل پر چلیں ، دور تک اُن کی آہٹ گئی
کون جانے کہ ہم راہ پر ہیں کہ گم کردۂ راہ ہیں
منزلوں کے دئیے کیا بجھے آنکھ میں روشنی گھٹ گئی
سانس نے چھو لیا کس کی سانسوں کی بھیگی ہوئی آگ کو
فرش سے لے کے پاتال تک جسم میں سنسناہٹ گئی
تھا شکنجے میں سارا بدن، حادثہ رونما نہ ہوا
ایک پل کے گزرنے میں ایسے لگا اک صدی کٹ گئی
آنکھ پر سوچ کے اَن گنت ماخذوں کی شعاعیں پڑیں
راستوں سے نکلتے ہوئے راستوں میں نظر بٹ گئی
کیوں پرِ کاہ کے زور سے جبر کے کوہ اُڑنے لگے
کیا ذرا سی انا آمرِ وقت کے سامنے ڈٹ گئی
آفتاب اقبال شمیم