ٹیگ کے محفوظات: گھو

تنہائی میں رو لیں گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 131
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے
پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
احمد فراز

سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 35
کاش اک ایسی شب آئے جب تُو ہو پہلو میں
سانسیں سانسوں میں مل جائیں، آنسو آنسو میں
یاد کی لَو سے آئینے کا چہرہ ہو پُرنور
نہا رہی ہو رات کی رانی خواب کی خوشبو میں
نیند مری لے کر چلتی ہے شام ڈھلے، اور پھر
رات الجھ کر رہ جاتی ہے اُس کے گیسو میں
رہے ہمارے ہونٹوں پر اک نام کا دن بھر ورد
شب بھر دل کی رحل پہ رکھا اک چہرہ چومیں
آپ اپنی ہی ضَو سے جگمگ کرنا ساری رات
دھڑک رہا ہو جیسے میرا دل اِس جگنو میں
بولتے رہنا ہنستے رہنا بے مقصد بے بات
جیسے دل آہی جائے گا میرے قابو میں
ویسے تو اکثر ہوتا تھا ہلکا، میٹھا درد
اب تو جیسے آگ بھری ہو یاد کے چاقو میں
ایک دعا تھی جس نے بخشی حرف کو یہ تاثیر
یہ تاثیر کہاں ہوتی ہے جادو وادو میں
جب مجھ کو بھی آجائے گا چلنا وقت کے ساتھ
آجائے گی کچھ تبدیلی میری بھی خُو میں
تم کیا سمجھو تم کیا جانو کون ہوں میں کیا ہوں
وہ اقلیم الگ ہے جس میں ہیں میری دھومیں
قحطِ سماعت کے عالم میں یہی ہے اک تدبیر
خود ہی شعر کہیں اور خود ہی پڑھ پڑھ کر جھومیں
لوگ ہمیں سمجھیں تو سمجھیں بے حرف و بے صوت
ہم شامل تو ہو نہیں سکتے ہیں اِس ہا ہُو میں
جن کے گھر ہوتے ہیں وہ گھر جاتے ہیں عرفان
آپ بھی شب بھر مت ایسے ان سڑکوں پر گھومیں
عرفان ستار

پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 75
چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے
پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے
شاید اک بھولی تمنا، مٹتے مٹتے جی اٹھے
اور ابھی اس جلوہ زارِ رنگ و بو میں گھومیے
روح کے دربستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھ
ہمہماتی محفلوں کی ہا و ہو میں گھومیے
کیا خبر، کس موڑ پر مہجور یادیں آ ملیں
گھومتی راہوں پہ، گردِ آرزو میں گھومیے
زندگی کی راحتیں ملتی نہیں، ملتی نہیں
زندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے
کنجِ دوراں کو نئے اک زاویے سے دیکھیے
جن خلاؤں میں نرالے چاند گھومیں، گھومیے
مجید امجد