ٹیگ کے محفوظات: گھونسلا

منہ پر ترے یہ قصّۂ کرب و بلا ہے کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 126
پھر اور سانحہ کوئی ماجدؔ ہُوا ہے کیا
منہ پر ترے یہ قصّۂ کرب و بلا ہے کیا
مرغانِ خوش نوا کی صدا کیوں بدل گئی
دیکھو تو در قفس کا کسی پر کھُلا ہے کیا
داغی تفنگ کس نے پرندوں کے درمیاں
شورش سی پھر یہ صحنِ چمن میں بپا ہے کیا
دیکھو تو سیلِ آب سے اُکھڑے درخت پر
رہ دیکھتا کسی کی کوئی گھونسلا ہے کیا
ملتا ہے اِس سے زخمِ دروں کو لباسِ حرف
تخلیق میں سخن کی وگرنہ دھرا ہے کیا
دھڑکن لہو کی بانگِ جرس ہو گئی ہے کیوں
پلکوں سے قافلہ کوئی ماجدؔ چلا ہے کیا
ماجد صدیقی

نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں
نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں
یہ کس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوا ہوں مَیں
یہ اپنے آپ سے ڈرنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
وگرنہ شدّتِ طوفاں کا مجھ کو ڈر کیا تھا
لرز رہا ہوں کہ اندر سے کھوکھلا ہوں مَیں
یہ کیوں ہر ایک حقیقت لگے ہے افسانہ
یہ کس نگاہ سے دُنیا کو دیکھتا ہوں مَیں
برس نہ مجھ پہ ابھی تندیِ ہوائے چمن
نجانے کتنے پرندوں کا گھونسلا ہوں مَیں
تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا
مجھے یہ دُکھ ہے کہ اِس میں اُلجھ گیا ہوں مَیں
یہ کس طرح کی ہے دِل سوزی و خنک نظری
یہ آ کے کون سے اعراف پر کھڑا ہوں مَیں
اِس اپنے عہد میں، اِس روشنی کے میلے میں
قدم قدم پہ ٹھٹکنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
مری زمیں کو مجھی پر نہ تنگ ہونا تھا
بجا کہ چاند کو قدموں میں روندتا ہوں مَیں
سکوتِ دہر کو توڑا تو مَیں نے ہے ماجدؔ
یہ ہنس دیا ہوں نجانے کہ رو دیا ہوں مَیں
ماجد صدیقی