ٹیگ کے محفوظات: گھناؤنے

دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘

مجید امجد ۔ غزل نمبر 189
صبحوں کی وادیوں میں گلوں کے پڑاؤ تھے
دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘
اک بات رہ گئی کہ جو دل میں نہ لب پہ تھی
اس اک سخن کے وقت کے سینے پہ گھاؤ تھے
کھلتی کلی کھلی کسی تاکید سے نہیں
ان سے وہ ربط ہے جو الگ ہے لگاؤ سے
عیب اپنی خوبیوں کے چنے اپنے غیب میں
جب کھنکھنائے قہقہوں میں من گھناؤنے
کاغذ کے پانیوں سے جو ابھرے تو دور تک
پتھر کی ایک لہر پہ تختے تھے ناؤ کے
کیا رو تھی جو نشیبِ افق سے مری طرف
تیری پلٹ پلٹ کے ندی کے بہاؤ سے
امجد جہاں بھی ہوں میں، سب اس کے دیار ہیں
کنجن سہاؤنے ہوں کہ جھنگڑ ڈوراؤنے
مجید امجد