ٹیگ کے محفوظات: گھروں

ہم جنہوں نے آنکھ کھولی جابروں کے درمیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہو چکے جاگیر سی پیرون شہوں کے درمیاں
ہم جنہوں نے آنکھ کھولی جابروں کے درمیاں
یوں تو دیواریں ہیں اِن ساروں باہم متّصل
فاصلے بڑھنے لگے۔۔لیکن گھروں کے درمیاں
جس جگہ اہلِ نظر کو وہ نظر آیا کیا
وہ جگہ ہے منروں کے مسجدوں کے درمیاں
رہ بہ رہ جیسے خبر ہو گرم آدم خور کی
ایک سی ہے کھلبلی سب قافلوں کے درمیاں
رہبروں کے جال میں یوں خلق ہے صیدِ ہوس
مغویہ جیسے گھری ہو شاطروں کے درمیاں
فیصلہ کرنے کو ماجِد کون منصف آئے گا
مسئلہ اُلجھا ہوا ہے سَرپِھروں کے درمیاں
ماجد صدیقی

کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 16
جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا
مجھ کو مٹی کیا تو نے تو یہ احسان بھی کر
کہ مری خاک کو اب کوزہ گروں تک پہنچا
تو مہ و مہر لئے ہے مگر اے دستِ کریم
کوئی جگنو بھی نہ تاریک گھروں تک پہنچا
دل بڑی چیز تھا بازارِ محبت میں کبھی
اب یہ سودا بھی مری جان، سروں تک پہنچا
اتنے ناصح ملے رستے میں کہ توبہ توبہ
بڑی مشکل سے میں شوریدہ سروں تک پہنچا
اہلِ دنیا نے تجھی کو نہیں لوٹا ہے فراز
جو بھی تھا صاحبِ دل، مفت بروں تک پہنچا
احمد فراز

اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 636
ہر بزم قہقہوں سے بھرے تذکروں کی ہے
اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے
جو خوش دماغ لوگ ہیں بستی پہ بوجھ ہیں
کچھ ہے توبات بس یہاں خالی سروں کی ہے
وہ باغِ شالامار خرید یں جو بس چلے
فطرت کچھ ایسی دیس کے سودا گروں کی ہے
گلیوں میں ایک سے ہیں مکانوں کے خدوخال
غلطی کہیں ہماری نہیں منظروں کی ہے
منصور حاکموں کی توجہ کہیں ہے اور
قسمت ابھی ہمارے عجائب گھروں کی ہے
منصور آفاق

ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 62
دیواروں پر تمام دروں پر بنا ہوا
ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا
بس زندگی ہے آخری لمحوں کے آس پاس
محشر کوئی ہے چارہ گروں پر بنا ہوا
آتا ہے ذہن میں یہی دستار دیکھ کر
اک سانپ کاہے نقش سروں پر بنا ہوا
ناقابلِ بیاں ہوئے کیوں اس کے خدو خال
یہ مسئلہ ہے دیدہ وروں پر بنا ہوا
کیا جانے کیا لکھا ہے کسی نے زمین کو
اک خط ہے بوجھ نامہ بروں پر بنا ہوا
اک نقش رہ گیا ہے مری انگلیوں کے بیچ
منصور تتلیوں کے پروں پر بنا ہوا
منصور آفاق