ٹیگ کے محفوظات: گھبرا

جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 8
ہونٹوں پہ میرے نام ترا آ کے رہ گیا
جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا
شرطیں تھیں انجذاب کی اتنی کڑی کہ بس
ہر عکس آئینے سے ہی ٹکرا کے رہ گیا!
صدیاں ہوئیں کہ تیری نہیں اس نے لی خبر
معبد میں دیوتا ترا پتھرا کے رہ گیا
اس یارِ طرح دار کی خاموشیوں میں تھا
ایسا سخن کہ حرف بھی شرما کے رہ گیا
کیسا لگاؤ! کیسی محبت جہان سے!!
دل یار دوستوں سے بھی کترا کے رہ گیا
اک خواب میں بدل گئیں ساری حقیقتیں
ہر عکس ایک عکس میں دھندلا کے رہ گیا
دل نے بنایا کیا اسے مہمان ایک دن
نیناؔ وہ دلنواز ’’یہیں ‘‘ آ کے رہ گیا
نینا عادل

کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 126
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
نہیں ترکِ محبت پر وہ راضی
قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں
یقیں کا راستہ طے کرنے والے
بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں
یہ مت بُھولو کہ یہ لمحات ہم کو
بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں
تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں
تمہیں چاہیں گے جب چِھن جاؤ گی تو
ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں
کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے
ہم اپنے عیب خود گِنوا رہے ہیں
وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں
مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں
دلیلوں سےاسے قائل کیا تھا
دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں
تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے
نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں
یہ جزبہ عشق ہے یا جزبہء رحم
ترے آنسو مجھے رُلوا رہے ہیں
عجب کچھ ربط ہے تم سے تم کو
ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں
وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی
مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں
جون ایلیا

میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 286
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ
نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں
مثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے
ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں
کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا

دیوان دوم غزل 706
تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا
دست و پا گم کرنے سے میرے کھلے اسرار عشق
دیکھ کر کھویا گیا سا مجھ کو ہر یک پا گیا
داغ محجوبی ہوں اس کا میں کہ میرے روبرو
عکس اپنا آرسی میں دیکھ کر شرما گیا
ہم بشر عاجز ثبات پا ہمارا کس قدر
دیکھ کر اس کو ملک سے بھی نہ یاں ٹھہرا گیا
یار کے بالوں کا بندھنا قہر ہے پگڑی کے ساتھ
ایک عالم دوستاں اس پیچ میں مارا گیا
ہم نہ جانا اختلاط اس طفل بازی کوش کا
گرم بازی آگیا تو ہم کو بھی بہلا گیا
کیا کروں ناچار ہوں مرنے کو اب تیار میں
دل کی روز و شب کی بیتابی سے جی گھبرا گیا
جی کوئی لگتا ہے اس کے اٹھ گئے پر باغ میں
گل نے بہتیرا کہا ہم سے نہ ٹک ٹھہرا گیا
ہو گئے تحلیل سب اعضا مرے پاکر گداز
رفتہ رفتہ ہجر کا اندوہ مجھ کو کھا گیا
یوں تو کہتا تھا کوئی ویسے کو باندھے ہے گلے
پر وہ پھندنا سا جو آیا میر بھی پھندلا گیا
میر تقی میر

ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 44
کچھ پھول کھلانا خوشبو کے، کچھ نورکے رنگ گرا جانا
ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا
باطل کی یہ وحشت سامانی مرعوب کرے حق بازوں کو
یہ رسم نہیں پروانوں کی یوں شعلوں سے گھبرا جانا
منجدھار ہے اور طوفانِ بلا،ساحل کا تصور ڈوب چلا
بس آس تمہاری ہے آقا اب نیا پار لگا جانا
ہر بے بس کی فریاد رسی ہر بے کس دل کی چارہ گری
تائیدِ محمد صل علیٰ وہ ریت ذرا دھرا جانا
مقصود نہیں ہے عیش و طرب ہلکا سا تموج کافی ہے
ہے شوق یہی دیوانوں کو کچھ پی کے ذرا لہرا جانا
جب شہرِ مدنیہ آجائے جب گنبدِ خضرا سامنے ہو
اے خوابِ تخیل رک جانا اے چشمِ طلب پتھرا جانا
منصور مدنیہ کے سپنے پلکوں پہ اٹھائے پھرتا ہے
خوشبو کی طرح اے بادصبا ہر سمت اسے بکھرا جانا
منصور آفاق