ٹیگ کے محفوظات: گھاس

میں سخت اُداس ہو چلا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
فرہاد کی آس ہو چلا ہوں
میں سخت اُداس ہو چلا ہوں
ہجرت پہ گئے ہوں جس کے باسی
اُس صحن کی گھاس ہو چلا ہوں
جس کی نہ اُٹھے کبھی عمارت
اُس گھر کی اساس ہو چلا ہوں
شاخوں سے جھڑے ہوئے گُلوں کی
بکھری ہوئی باس ہو چلا ہوں
ٹانکے کوئی مجھ کو بادلوں میں
میں دشت کی پیاس ہو چلا ہوں
ماجدؔ مجھے جانے کیا ہوا ہے
برحق تھا قیاس ہو چلا ہوں
ماجد صدیقی

فرد فرد

متفرق اشعار
خُوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے
موجِ ہَوا کے ہاتھ میں اس کا سُراغ ہے

ہمیں خبر ہے ،ہَوا کا مزاج رکھتے ہو
مگر یہ کیا ، کہ ذرا دیر کو رُکے بھی نہیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے اُلجھ جاتی ہیں

میں جب بھی چاہوں ، اُسے چھُو کے دیکھ سکتی ہوں
مگر وہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا

ہمارے عہد میں شاعر کے نرخ کیوں نہ بڑھیں
امیرِ شہر کو لاحق ہُوئی سخن فہمی

گھر کی ویرانی کی دوست
دیواروں پر اُگتی گھاس

حال پوُچھا تھا اُس نے ابھی
اور آنسو رواں ہو گئے

لو! میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں ، اب تم رخصت ہو
دل تو جانے کیا کہتا ہے،لیکن دل کا کہنا کیا
پروین شاکر

مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 42
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
صحرا کی بود باش ہے اچھی نہ کیوں لگے
سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں
چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے
مصروف ہوں ابھی عملِ انعکاس میں
دھوکے سے اس حسیں کو اگر چوم بھی لیا
پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں
تارہ کوئی ردائے شبِ ابر میں نہ تھا
بیٹھا تھا میں اداس بیابان یاس میں
جوئے روانِ دشت! ابھی سوکھنا نہیں
ساون ہے دور، اور وہی شدّت کی پیاس میں
رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا
پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں
کانٹوں کی باڑھ پھاند گیا تھا مگر شکیبؔ
رستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں
شکیب جلالی

شام سے ہے بہت اداس مشین

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 60
ہار آئی ہے کوئی آس مشین
شام سے ہے بہت اداس مشین
دل وہی کس مشین سے چاہے
ہے مشینوں سے بدحواس مشین
یہی رشتوں کا کارخانہ ہے
اک مشیں اور اس کے پاس مشین
کام سے تجھ کو مَس نہیں شاید
چاہتی ہے ذرا مساس مشین
یہ سمجھ لو کہ جو بھی جنگلی ہے
نہیں آئے گی اس کو راس مشین
شہر اپنے، بسائیں گے جنگل
تجھ میں اگنے کو اب ہے گھاس مشین
ہے خفا سارے کارخانے سے
ایک اسباب ناشناس مشین
ایک پرزا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا
اب رکھا کیا ہے تیرے پاس مشین
جون ایلیا

یا اب پھٹک نہیں ہے کہیں ان کے آس پاس

دیوان دوم غزل 824
رہتے تھے ہم وے آٹھ پہر یا تو پاس پاس
یا اب پھٹک نہیں ہے کہیں ان کے آس پاس
تا لوگ بدگماں نہ ہوں آئے نہ اس کی اور
ہم تو کیا ہے عشق میں دور از قیاس پاس
گر ہی پڑے جو دیکھے ہے تنکا بھی گر کہیں
مایہ نہیں ہے کچھ فلک بے سپاس پاس
شیخ ان لبوں کے بوسے کو اس ریش سے نہ جھک
رکھتا ہے کون آتش سو زندہ گھاس پاس
تم نے تو قدر کی ہے متاع وفا کی خوب
بیچیں گے اب یہ جنس کسو دل شناس پاس
آلودہ کر نہ مستی سے جامے کو جسم کے
ہشیار رہ یہ عاریتی ہے لباس پاس
وحشی ہے میر ربط ہے اس سے خلاف عقل
بیٹھے سو جا کے کیا کوئی ایسے اداس پاس
میر تقی میر

ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 23
سزائے جذبہ و احساس کاٹتے رہئے
ضمیر بوئیے، افلاس کاٹتے رہئے
اِس اژدہامِ حریصاں کو ہے یہی مطلوب
کہ ایک دوسرے کا ماس کاٹتے رہئے
ہر ایک شکل ملے مثلِ نخل بے چہرہ
یہی کہ شہر میں بن باس کاٹتے رہئے
یہ کارِ زندگی ہے کارِ کوہکن سے کٹھن
بصارتوں سے یہ الماس کاٹتے رہئے
بہ فیضِ نکتہ وری موسم بہار میں بھی
خزاں کی چھوڑی ہوئی گھاس کاٹتے رہئے
اِس انتظار کی لا حاصلی پہ زور ہی کیا
پرائے وقت کو بے آس کاٹتے رہئے
آفتاب اقبال شمیم

کچھ گھوم پھر رہے ہیں سٹیچو لباس کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 571
کچھ ہڈیاں پڑی ہوئی، کچھ ڈھیر ماس کے
کچھ گھوم پھر رہے ہیں سٹیچو لباس کے
فٹ پاتھ بھی درست نہیں مال روڈ کا
ٹوٹے ہوئے ہیں بلب بھی چیرنگ کراس کے
پھر ہینگ اوور ایک تجھے رات سے ملا
پھر پاؤں میں سفر وہی صحرا کی پیاس کے
ہنگامہء شراب کی صبحِ خراب سے
اچھے تعلقات ہیں ٹوٹے گلاس کے
کیوں شور ہو رہا ہے مرے گرد و پیش میں
کیا لوگ کہہ رہے ہیں مرے آس پاس کے
صحراکا حسن لے گئے مجنون کے نقشِ پا
پیوند لگ چکے ہیں وہاں سبز گھاس کے
منصوربس یقین کی گلیاں ہیں اور میں
دروازے بند ہوچلے وہم و قیاس کے
منصور آفاق

کچھ بدن پر کپاس اگ آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 516
ننگ کا بھی لباس اگ آئے
کچھ بدن پر کپاس اگ آئے
ہم نفس کیا ہوا سوئمنگ پول
پانیوں میں حواس اگ آئے
آتے جاتے رہو کہ رستے میں
یوں نہ ہو پھر سے گھاس اگ آئے
سوچ کر کیا شجر قطاروں میں
پارک کے آس پاس اگ آئے
گاؤں بوئے نہیں اگر آنسو
شہر میں بھوک پیاس اگ آئے
کوئی ایسی بہار ہو منصور
استخوانوں پہ ماس اگ آئے
منصور آفاق

ہے عکس ریزچہرہ تمہارا گلاس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 310
اس واسطے یہ شدتیں پھرتی ہیں پیاس میں
ہے عکس ریزچہرہ تمہارا گلاس میں
سبزے پہ رنگ آتے ہیں جاتے ہیں عصر سے
شاید چھپی ہوئی کوئی تتلی ہے گھاس میں
میں کر چکا ہوں اس سے ملاقات کتنی بار
آتا نہیں کسی کے جو پانچوں حواس میں
سرکار کا نہ نام لو اے واعظانِ شہر
موتی جڑے ہوئے ہیں تمہارے لباس میں
لایحزنُ کے ساز کو چھیڑو کہ ان دنوں
لپٹا ہوا ہے عہد ہمارا ہراس میں
آنکھوں سے اشک بن کے بہی ہیں عقیدتیں
محصور ہو سکیں نہ گمان و قیاس میں
تیرے حسیں خیال کی ڈھونڈیں نزاکتیں
تاروں کے نور میں کبھی پھولوں کی باس میں
طیبہ کی مے تو دشمنِ عقل و خرد نہیں
ہم لوگ پی کے آئے ہیں ہوش و حواس میں
عریاں ہے پھول چنتی کہیں زندگی کا جسم
منصور گم ہے گوئی سراپا کپاس میں
منصور آفاق

ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 267
دوبارہ کاٹنے آؤ گے… آس ہے سائیاں
ابھی تو کھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں
مری دعاؤں پہ چیلیں جھپٹنے والی ہیں
یہ ایک چیخ بھری التماس ہے سائیاں
عجیب شہد سا بھرنے لگا ہے لہجے میں
یہ حرفِ میم میں کیسی مٹھاس ہے سائیاں
تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے
مگر یہ ہجر جو برسوں سے پاس ہے سائیاں
جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں
ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا
مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں
ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا
ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں
کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے
بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں
نجانے کون سی کھائی میں گر پڑے منصور
یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں
منصور آفاق

کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 232
یہ لب سمیٹ لیں صحرا کی پیاس ایسا ہو
کہ آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو
کری گلاس میں ڈالے پلیٹ میں پانی
میں چاہتا ہوں کہ وہ بدحواس ایسا ہو
تمام رات رہے مال روڈ پر بجلی
تمام رات یہ چیرنگ کراس ایسا ہو
مری گلی میں شعاعوں کی بھیڑ لگ جائے
اُس آئینے سے کوئی انعکاس ایسا ہو
وہ خوش خرام بدن نرم گرم جیسا ہے
مرے بدن کا بھی کوئی لباس ایسا ہو
ملال سسکیاں گلیوں میں بھرتے پھرتے ہوں
یہ شہر ہجر میں تیرے اداس ایسا ہو
کوئی بھی راستہ پاؤں کی دسترس میں نہ ہو
ہرایک راہ میں اگ آئے گھاس ایسا ہو
جو دیکھ سکتا ہومنظر نہیں پسِ منظر
کوئی تو شہر میں چہرہ شناس ایسا ہو
وہ بار بار پڑھے رات دن جسے منصور
کتابِ دل کا کوئی اقتباس ایسا ہو
منصور آفاق

اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 35
شہد ٹپکا، ذرا سپاس ملا
اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا
سوکھ جائیں گی اس کی آنکھیں بھی
جا کے دریا میں میری پیاس ملا
خشک پتے مرا قبیلہ ہیں
دل جلوں میں نہ سبز گھاس ملا
آخری حد پہ ہوں ذرا سا اور
بس مرے خوف میں ہراس ملا
آ، مرے راستے معطر کر
آ، ہوا میں تُو اپنی باس ملا
نسخہء دل بنا مگر پہلے
اس میں امید ڈال آس ملا
ہے خداوند کے لیے منصور
سو غزل میں ذرا سپاس ملا
منصور آفاق