ٹیگ کے محفوظات: گھات

رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
تا عمر اقتدار کو دیتے ہوئے ثبات
رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات
پیڑوں پہ پنچھیوں میں عجب سنسنی سی ہے
گیدڑ ہرن کی جب سے لگائے ہوئے ہیں گھات
مخلوق ہو کوئی بھی مگر دیکھنا یہ ہے
کرتا ہے کیا سلوک، یہاں کون، کس کے سات
اشکوں سے کب دُھلی ہے سیاہی نصیب کی
تسخیر جگنوؤں سے ہوئی کب سیاہ رات
ہم نے یہ بات کرمکِ شب تاب سے سنی
ظلمت نہ دے سکی کسی اِک بھی کرن کو مات
ماجدؔ کسی کے ہاتھ نہ آئے نہ آ سکے
کٹ کر پتنگ ڈور سے، منہ سے نکل کے بات
ماجد صدیقی

آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہو چلی ہے اَن دیکھی بات، میرے آنگن میں
آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں
اوٹ سے منڈیروں کی، ڈور چھوڑ کر مجھ کو
دے گیا ہے پھر کوئی مات، میرے آنگن میں
نام پر مرے کس نے، کاٹ کاٹ کر چِّلے
دفن کی ہے آسیبی دھات، میرے آنگن میں
بس اِسی بنا پر مَیں، آسماں سے رُوٹھا ہوں
چاند کیوں نہیں اُترا رات، میرے آنگن میں
جب سے کُھل چلی ماجدؔ، بے بضاعتی دل کی
کرب نے لگائی ہے گھات، میرے آنگن میں
ماجد صدیقی

تیرا میرا سات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
پورا چاند اور رات
تیرا میرا سات
خوشبُو تک میں بھی
کیا کچھ ہیں درجات
کون کرے تسلیم
سچے حرف کی ذات
اِک ناد ر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد ؔ تیری بات
ماجد صدیقی

خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
پت جھڑ کی رُت میں پیڑوں پر پات کہاں
خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں
لفظوں میں جھنکار کہاں اَب جذبوں کی
ہونٹوں پر جھرنوں جیسے نغمات کہاں
جھُول رہے ہیں جسکے تُند بہاؤ پر
دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں
اپنی دُھن میں اُڑنے والا کیا جانے
کون کھڑا ہے اُس کی لگائے گھات کہاں
گُم سُم ہو جائیں مہمان کی دستک پر
گھر والوں کو لے آئے حالات کہاں
اُٹھے ہیں جو فرعونی دستاروں پر
کٹنے سے بچ سکتے ہیں وُہ ہات کہاں
ماجدؔ بنیاؤں سا حصّہ، جیون سے
لینے سے باز آتے ہیں صدمات کہاں
ماجد صدیقی

ملنا اپنا جو ہوا اس سے سو وہ بات کی بات

دیوان دوم غزل 778
دیر کچھ کھنچتی تو کہتے بھی ملاقات کی بات
ملنا اپنا جو ہوا اس سے سو وہ بات کی بات
گفتگو شاہد و مے سے ہے نہ غیبت نہ گلہ
خانقہ کی سی نہیں بات خرابات کی بات
سن کے آواز سگ یار ہوئے ہم خاموش
بولتے واں ہیں جہاں ہووے مساوات کی بات
منھ ادھر اور سخن زیرلبی غیر کے ساتھ
اس فریبندہ کی ناگفتنی ہے گھات کی بات
اس لیے شیخ ہے چپکا کہ پڑے شہر میں شور
ہم سمجھتے ہیں یہ شیادی و طامات کی بات
یہ کس آشفتہ کی جمعیت دل تھی منظور
بال بکھرے ترے منھ پر کہیں ہیں رات کی بات
گفتگو وصفوں سے اس ماہ کے کریے اے میر
کاہش افزا ہے کروں اس کی اگر ذات کی بات
میر تقی میر

دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے

دیوان اول غزل 594
کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے
دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے
رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر
بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے
ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان
عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے
یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال
اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے
روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف
عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ
یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے
خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں
شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے
ہے موذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی
مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے
پائوں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی
مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے
ہر سحر درپئے آرام مے آشاماں ہے
مکر و طامات کی اک گھات چلی جاتی ہے
ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میر
یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے
میر تقی میر

سجدہ اس آستاں کا کیا پھر وفات کی

دیوان اول غزل 469
غم سے یہ راہ میں نے نکالی نجات کی
سجدہ اس آستاں کا کیا پھر وفات کی
نسبت تو دیتے ہیں ترے لب سے پر ایک دن
ناموس یوں ہی جائے گی آب حیات کی
صد حرف زیر خاک تہ دل چلے گئے
مہلت نہ دی اجل نے ہمیں ایک بات کی
ہم تو ہی اس زمانے میں حیرت سے چپ نہیں
اب بات جاچکی ہے سبھی کائنات کی
پژمردہ اس کلی کے تئیں وا شدن سے کیا
آہ سحر نے دل پہ عبث التفات کی
حور و پری فرشتہ بشر مار ہی رکھا
دزدیدہ تیرے دیکھنے نے جس پہ گھات کی
اس لب شکر کے ہیں گے جہاں ذائقہ شناس
اس جا دعا پہنچتی نہیں ہے نبات کی
عرصہ ہے تنگ چال نکلتی نہیں ہے اور
جو چال پڑتی ہے سو وہ بازی کی مات کی
برقع اٹھا تھا یار کے منھ کا سو میر کل
سنتے ہیں آفتاب نے جوں توں کے رات کی
میر تقی میر

دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ

دیوان اول غزل 192
کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ
دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ
حرف زن مت ہو کسی سے تو کہ اے آفت شہر
جاتے رہتے ہیں ہزاروں کے سر اک بات کے بیچ
میری طاعت کو قبول آہ کہاں تک ہو گا
سبحہ اک ہاتھ میں ہے جام ہے اک ہات کے بیچ
سرمگیں چشم پہ اس شوخ کی زنہار نہ جا
ہے سیاہی مژہ میں وہ نگہ گھات کے بیچ
بیٹھیں ہم اس کے سگ کو کے برابر کیوں کر
کرتے ہیں ایسی معیشت تو مساوات کے بیچ
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گذری
پندگو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچ
زندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروں
ایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
بے مے و مغبچہ اک دم نہ رہا تھا کہ رہا
اب تلک میر کا تکیہ ہے خرابات کے بیچ
میر تقی میر

پانیوں کے جسم پر تھا یخ ہوا کا نرم ہات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 4
سندھ کے دریا میں گم تھی سانولی مہتاب رات
پانیوں کے جسم پر تھا یخ ہوا کا نرم ہات
یہ خزاں زادے کہیں کیا گل رتوں کے مرثیے
یونہی بے مقصدکریں پرواز سارے خشک پات
کالے کاجل بادلو! روکو نہ اس کا راستہ
ایک دولہا آرہاہے لے لے تاروں کی برات
چاندنی! کیا روگ تھا اس موتیے کے پھول کو
رات بھر وہ جاگتا تھا سوچتا تھا کوئی بات
کوبرے کے روپ میں منصور بل کھاتی ہوئی
ساحلوں کو کاٹتی پھرتی ہے ندیا گھات گھات
منصور آفاق