ٹیگ کے محفوظات: گھاؤ

کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں
ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے
سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں
وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے
ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں
شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں
اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں
زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں
ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں
چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا
جبیں پہ اہلِ وفا کی، تناؤ جیسے ہیں
جو ہم ہوئے بھی تو کیا ، یوسفِ سخن ماجد
عیاں ہیں سب پہ ہم ایسوں کے بھاؤ جیسے ہیں
ماجد صدیقی

ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 83
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی
ترکِ اُلفت کے بعد اُمیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی
اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی
شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں
ہاتھ سے رک سکا بہاؤ کبھی
اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی
بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
آنسوؤں سے بجھا الاؤ کبھی
اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی
پروین شاکر

سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 432
رات کے پچھلے پہر ، دور الاؤ کوئی
سرِ کہسار مسافت کا پڑاؤ کوئی
ہار جاؤں گا تو دنیاسے بھی اٹھ جاؤں گا
بس لگانا ہے مجھے آخری داؤ کوئی
ٹوٹ جانے میں بھلا کونسی اچھائی ہے
نرمگی کوئی، سرِ شاخ جھکاؤ کوئی
لوگ کہتے ہیں کہ باہو کے ہے دوہوں میں شفا
بیٹھ کے میرے سرہانے ذرا گاؤ کوئی
چاند کے روپ میں اک طنزِ مسلسل کی طرح
سینہ ء شب میں سلگتا ہوا گھاؤ کوئی
لوگ مرجاتے ہیں ساحل کی تمنا لے کر
اور سمندر میں چلی جاتی ہے ناؤ کوئی
کاش بچپن کی بہشتوں سے نہ باہر آؤں
روک لے عمر کے دریا کا کٹاؤ کوئی
لڑکھڑانا ہے نشیبوں میں ہمیشہ منصور
روک سکتا نہیں پانی کا بہاؤ کوئی
منصور آفاق