ٹیگ کے محفوظات: گگن

روزن سے میرے آتی کوئی بھی کرن نہیں

جاتی اندھیر پن کی یہاں سے گھٹن نہیں
روزن سے میرے آتی کوئی بھی کرن نہیں
دِن بھر کی شورشوں کے دباؤ کے شور سے
شب کے لِباسِ حبس میں کوئی شکن نہیں
کیوں روشنی گروں کی زبانیں ہیں سوختہ
کیوں لوَ کسی چراغ کی بھی سینہ زن نہیں
اندھے خلا کی کھائی میں گرتا ہی جاؤں میَں
پیروں تلے زمیں نہیں سر پر گگن نہیں
اک نغمہ خامشی کا بنی جائے زندگی
اک رقص ہے کہ جس میں کوئی چھن چھنن نہیں
یاوؔر ہی بس ہے عاجز و ناچیز و خاکسار
ورنہ یہاں پہ کون خدائے سُخن نہیں
یاور ماجد

اب سجے گی انجمن بسنت آ گئی

کنج کنج نغمہ زن بسنت آ گئی
اب سجے گی انجمن بسنت آ گئی
اُڑ رہے ہیں شہر میں پتنگ رنگ رنگ
جگمگا اُٹھا گگن بسنت آ گئی
موہنے لبھانے والے پیارے پیارے لوگ
دیکھنا چمن چمن بسنت آ گئی
سبز کھیتیوں پہ پھر نکھار آ گیا
لے کے زرد پیرہن بسنت آ گئی
پچھلے سال کے ملال دل سے مٹ گئے
لے کے پھر نئی چبھن بسنت آ گئی
ناصر کاظمی

ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 14
جب اک چراغِ راہگزر کی کرن پڑے
ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے
شاخِ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہیں
یہ لوگ جن کے رخ پہ گمانِ چمن پڑے
تنہا گلی، ترے مرے قدموں کی چاپ، رات
ہرسو وہ خامشی کہ نہ تابِ سخن پڑے
یہ کس حسیں دیار کی ٹھنڈی ہوا چلی
ہر موجۂ خیال پہ صدہا شکن پڑے
جب دل کی سل پہ بج اٹھے نیندوں کا آبشار
نادیدہ پائلوں کی جھنک جھن جھنن پڑے
یہ چاندنی، یہ بھولی ہوئی چاہتوں کا دیس
گزروں تو رخ پہ رشحۂ عطرِ سمن پڑے
یہ کون ہے لبوں میں رسیلی رُتیں گھلیں
پلکوں کی اوٹ نیند میں گلگوں گگن پڑے
اک پل بھی کوئے دل میں نہ ٹھہرا وہ رہ نورد
اب جس کے نقشِ پا ہیں چمن در چمن پڑے
اِک جست اس طرف بھی غزالِ زمانہ رقص
رہ تیری دیکھتے ہیں خطا و ختن پڑے
جب انجمن تموّجِ صد گفتگو میں ہو
میری طرف بھی اک نگہِ کم سخن پڑے
صحرائے زندگی میں جدھر بھی قدم اٹھیں
رستے میں ایک آرزوؤں کا چمن پڑے
اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ
میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے
اے شاطرِ ازل ترے ہاتھوں کو چوم لوں
قرعے میں میرے نام جو دیوانہ پن پڑے
اے صبحِ دیرخیز انہیں آواز دے جو ہیں
اک شامِ زودخواب کے سکھ میں مگن پڑے
اک تم کہ مرگِ دل کے مسائل میں جی گئے
اک ہم کہ ہیں بہ کشمکشِ جان و تن پڑے
امجد طریقِ مے میں ہے یہ احتیاط شرط
اک داغ بھی کہیں نہ سرِ پیرہن پڑے
مجید امجد