ٹیگ کے محفوظات: گویائی

’’مُلتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا‘‘

رات بھر کربِ مسلسل مری تنہائی کا
’’مُلتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا‘‘
کسی شب آئیے تصویر سے باہر صاحب
آپ پر قرض بہت ہے مری بینائی کا
ہم نے مَرمَر کے جیے جانے کا فن سیکھ لیا
ہم سے اُٹھتا نہیں احسان مسیحائی کا
کون آیا ہے نیا شہر میں معلوم کرو
سبھی ارمان لئے پھِرتے ہیں رُسوائی کا
کسی خوش رنگ سے نسبت کا اَثَر ہے شاید
شوق زخموں میں دَر آیا ہے خود آرائی کا
خوب احسان کِیا عشقِ جنوں پیشہ نے
نام ہر سنگ پہ لکّھا ترے سَودائی کا
اَور تو کارگہِ حُسن میں کیا ہے ضامنؔ
اِک تماشا ہے تمنّا و تمنّائی کا
ضامن جعفری

اس کی آنکھوں‌کو مرے زخم کی گہرائی دے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 113
اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے
اس کی آنکھوں‌کو مرے زخم کی گہرائی دے
تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو
ان کو پتھر نہیں‌ دیتا ہے تو بینائی دے
جس کی ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے
یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے
اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا
چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے
جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے
وہ برہنہ ہیں‌ انہیں‌ خلعتِ رسوائی دے
کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز
وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
احمد فراز

کاٹنا ہے شب تنہائی کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 36
عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شب تنہائی کا
ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا
کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا
یہی انجام تھا اے فصل خزاں
گل و بلبل کی شناسائی کا
محتسب عذر بہت ہیں لیکن
اذن ہم کو نہیں گویائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا
الطاف حسین حالی

پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 14
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت
ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت
کر دیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت
ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
الطاف حسین حالی