ٹیگ کے محفوظات: گوار

اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 64
تمھاری رسوائیوں کے ڈر سے نہ کیں جنوں آشکار باتیں
اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں
مری محبت سے جلنے والے لگاتے ہیں دو چار باتیں
یقین کس کس کا تم کرو گے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
شراب منہ تک رہی ہے تیرا، نہ شیخ کرنا گوار باتیں
کوئی قیامت ابھی رکھی ہے یہ چھوڑ دے میرے یار باتیں
یہ بات دیگر ہے شکوہ ہائے ستم پر تم مسکرا رہے ہو
مگر نگاہیں بتا رہیں ہیں کہ ہو گئیں نا گوار باتیں
قمر شبِ انتظار ہم نے سحرا انھیں وحشتوں میں کر دی
کبھی چراغوں سے چار باتیں کبھی ستاروں سے چار باتیں
قمر جلالوی