ٹیگ کے محفوظات: گوارا

کس کو اس طرح بکھر جانا گوارا تھا مرا؟

نام مڑ مڑ کے بھلا کس نے پکارا تھا مرا؟
کس کو اس طرح بکھر جانا گوارا تھا مرا؟
نقش کس طور سے اور کس نے ابھارا تھا مرا
ہاتھ کب میرے تھے؟ بس چاک پہ گارا تھا مرا
وہ جو بپھرا سا سمندر تھا۔۔۔ کنارہ تھا مرا
جس میں سب ڈوب گئے وہ تو نظارا تھا مرا
دھوپ میں جلتا پرندہ مجھے یوں دیکھتا تھا
بارشوں، سایوں پہ جیسے کہ اجارا تھا مرا
وہ لہو جیسے سمندر میں اترتا سورج
شام نے گویا کوئی عکس اتارا تھا مرا
کسی امید کی امید ہی اک دن ہو گی
اسی امید پہ پوچھو تو گزارا تھا مرا
پہلے ہاتھوں سے لکیریں مٹیں رفتہ رفتہ
کل جو پھر ٹوٹ گرا پل میں، ستارہ تھا مرا
تھا نشہ سارا زیاں میں مرا یاؔور ماجد
فائدہ کوئی بھی ہو، اس میں خسارہ تھا مرا
یاور ماجد

ہم جس پہ مرمٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہوسکا
ہم جس پہ مرمٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
رہ تو گئی فریبِ مسیحا کی آبرو
ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا
خوش ہوں کہ بات شورشِ طوفاں کی رہ گئی
اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا
بے چارگی پہ چارہ گری کی ہیں تہمتیں
اچھا کسی سے عشق کا مارا نہ ہو سکا
کچھ عشق ایسی بخش گیا بے نیازیاں
دل کو کسی کا لُطف گوارا نہ ہو سکا
فرطِ خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل پڑے
جب ان کا التفات گوارا نہ ہو سکا
الٹی تو تھی نقاب کسی نے مگر، شکیبؔ
دعووں کے باوجود نظارہ نہ ہو سکا
شکیب جلالی

کیوں میرے دردِ دل کا مُداوا کرے کوئی

وعدوں کو اپنے کس لیے ایفا کرے کوئی
کیوں میرے دردِ دل کا مُداوا کرے کوئی
کس طرح ان کے جَور کا شِکوہ کرے کوئی
توہینِ عشق کیسے گوارا کرے کوئی
پہلو ہزار عیش کے نکلیں گے رنج میں
یہ شرط ہے کہ رنج گوارا کرے کوئی
اے چشمِ شوق یاد بھی ہے داستانِ طُور
جلووں کا ان سے کیسے تقاضا کرے کوئی
اپنی حدوں سے آج گزرتا ہے ذوقِ دید
اب ہو سکے، شکیبؔ، تو پروا کرے کوئی
شکیب جلالی

کوشش تَو بہت کی چل نہ سکا کچھ زور ہمارا کیا کرتے

دریائے محبّت میں کشتی تھی تند تھا دھارا کیا کرتے
کوشش تَو بہت کی چل نہ سکا کچھ زور ہمارا کیا کرتے
طوفانِ بَلا تھا زوروں پر موجَوں میں تلاطم بڑھتا تھا
اُور ٹوٹتا جاتا تھا اپنا ایک ایک سہارا کیا کرتے
ساحل کی تمنّا کیا کرتے موجَوں پہ سفینہ چھوڑ دیا
کشتی تھی شکستہ طوفاں میں معدوم کنارا کیا کرتے
پابندِ قَفَس ہم گلشن میں اُور شاخ پہ تھا دستِ گل چیں
خود ٹوٹتے دیکھا تھا اپنی قسمت کا ستارا کیا کرتے
سنبھلا نہ مریضِ الفت جب، کام آ نہ سکی جب کوئی دَوا
پھر بہرِ شرابِ دید آخر اُن ہی کو پُکارا کیا کرتے
برباد رہے، بدنام ہُوئے، دنیا سے شکستہ دل نکلے
اَبنائے زمانہ کو ضامنؔ اَب اَور گوارا کیا کرتے
ضامن جعفری

ہم دِل زَدوں نے دل ہی کو مارا ہے بعد میں

آغاز میں نہ کوئی سہارا ہے بعد میں
ہم دِل زَدوں نے دل ہی کو مارا ہے بعد میں
ہر دَور نے ہمیَں نظر انداز بھی کِیا
ہر دَور نے ہمیِں کو پُکارا ہے بعد میں
طوفاں سے موج موج نہ کیا کیا لڑے ہیں ہم
ہر بار سوچتے تھے کنارا ہے بعد میں
اے انجمن مزاج تری خلوتوں کے فیض
تنہائیوں نے ہم کو جو مارا ہے بعد میں
احسانِ غیر لے کے یہ ہم جانتے ہیں دوست
کس طرح وقت ہم نے گذارا ہے بعد میں
دیکھا ہے اُس نے بھر کے نظر جب کبھی ہمیں
صدقہ ہر اَک نظر کا اُتارا ہے بعد میں
وہ لاکھ ملتفت ہَوں پَر اَے دِل یہ سوچ لے
انجامِ التفات گوارا ہے بعد میں ؟
اِس عشقِ سادہ لوح پَہ ضامنؔ خدا کی مار
پہلے اُنھیں خدا کو پُکارا ہے بعد میں
ضامن جعفری

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا
رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرور
ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا
دو چار بار دیکھ لو خود جا کے اُس کے پاس
کچھ بے سبب تو ہم نے کنارا نہیں کیا
کہتے رہے ہو تم اُسے ہمدرد و غم گُسار
اور اُس نے بات کرنا گوارا نہیں کیا
گر تھیں نگاہ میں مِری کوتاہیاں تو ٹھیک
اغیار نے تو کوئی اشارہ نہیں کیا
حیراں ہوں لوگ کہتے ہیں کیوں اُس کو چارہ گر
جس نے کسی مریض کو اچھا نہیں کیا
دن رات ہم کو قرض چکانے کی فکر ہے
گو اُس نے واپسی کا تقاضا نہیں کیا
ہوتے جو آج اُن کی نگاہوں میں سرفراز
ہم نے تو کوئی کام بھی ایسا نہیں کیا
باصر کاظمی

گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں
قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا
ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں
بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی
احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں
ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو
ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں
رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے
ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں
ہم ہیں پھوار ابر کی بوچھاڑ ہم نہیں
سختی کریں کسی پہ، یہ یارا، ہمیں ہو کیوں
بِیجا ہے جو اُگے گا نہ وہ، کشتِ خیر میں!
ماجدؔ گماں جو ہو بھی تو ایسا ہمیں ہو کیوں
ماجد صدیقی

اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 52
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایہ ہے کہ تم ہو
اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو
دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو
ہر بزم میں‌ موضوعِ سخن دل زدگاں کا
اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو
اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو
وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو
اے جانِ فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو
احمد فراز

سرطان مرا ستارا کب تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 25
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
سرطان مرا ستارا کب تھا
لازم تھا گزرنا زندگی سے
بِن زہر پیئے گزارا کب تھا
کچھ پل مگر اور دیکھ سکتے
اشکوں کو مگر گوارا کب تھا
ہم خود بھی جُدائی کا سبب تھے
اُس کا ہی قصور سارا کب تھا
اب اور کے ساتھ ہے تو کیا دکھ
پہلے بھی وہ ہمارا کب تھا
اِک نام پہ زخم کھل اٹھے تھے
قاتل کی طرف اشارا کب تھا
آئے ہو تو روشنی ہوئی ہے
اس بام پہ کوئی تارا کب تھا
دیکھا ہوا گھر تھا پر کسی نے
دُلہن کی طرح سنوارا کب تھا
پروین شاکر

غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 76
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے، انکو شبِ فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لئے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینیِ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو دیکھ کانٹوں میں ہنس ہنس کے گذارا کرتے ہیں
قمر جلالوی

کیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 29
لہو روتے نہ اگر ہم دمِ رخصت یاراں
کیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتے
چلو اچھا ہے کہ وہ بھی نہیں نزدیک اپنے
وہ جو ہوتا تو اُسے بھی نہ گوارا کرتے
قطعہ
جون ایلیا

ہو گۓ سب ستم و جَور گوارا ہم کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 141
وضعِ نیرنگئ آفاق نے مارا ہم کو
ہو گۓ سب ستم و جَور گوارا ہم کو
دشتِ وحشت میں نہ پایا کسی صورت سے سراغ
گردِ جولانِ جنوں تک نے پکارا ہم کو
عجز ہی اصل میں تھا حاملِ صد رنگِ عروج
ذوقِ پستـئ مصیبت نے ابھارا ہم کو
ضعف مشغول ہے بیکار بہ سعئ بیجا
کرچکا جوشِ جنوں اب تو اشارہ ہم کو
صورِ محشر کی صدا میں ہے افسونِ امّید
خواہشِ زیست ہوئ آج دوبارا ہم کو
تختۂ گور سفینے کے مماثل ہے اسدؔ
بحرِ غم کا نظر آتا ہے کنارا ہم کو
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

دیوان پنجم غزل 1736
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہو گا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے
یار کے آجانے کو یکایک عمر دوبارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منھ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش
دمدار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
میر تقی میر

دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا

دیوان سوم غزل 1061
چال یہ کیا تھی کہ ایدھر کو گذارا نہ کیا
دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا
اس کو منظور نہ تھی ہم سے مروت کرنی
ایک چشمک بھی نہ کی ایک اشارہ نہ کیا
بعد دشنام تھی بوسے کی توقع بھی ولے
تلخ سننے کے تئیں ہم نے گوارا نہ کیا
مرکے بے حوصلہ لوگوں میں کہا یافرہاد
چندے پتھر ہی سے سر اور بھی مارا نہ کیا
جی رہے ڈوبتے دریاے غم عشق میں لیک
بوالہوس کی سی طرح ہم نے کنارہ نہ کیا
نیم جاں صدقے کی اس پر نہ زیاں دیکھا نہ سود
ہم تو کچھ دوستی میں وارے کا سارا نہ کیا
لے گیا مٹی بھی دروازے کی ان کے میں میر
پر اطبا نے مرے درد کا چارہ نہ کیا
میر تقی میر

کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
اُس حسن نے آنکھ کے امبر پر، جو نقش ابھارا ایسا تھا
کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا
پھر تیز ہوا نے پاؤں میں ، ڈالی زنجیر بگولے کی
سو ہم نے گریباں چاک کیا، موسم کا اشارہ ایسا تھا
تھی تو افراط شرابوں کی، لیکن ہم پیاسے کیا کرتے
جو جام چکھا سو توڑ دیا، معیار ہمارا ایسا تھا
ناداری دائز ناداری مارث ہماری نسلوں کی
مر کے بھی نہ جو بے باق ہوا، جینے کا خسارا ایسا تھا
قاتل کو بھی کچھ دقّت نہ ہوئی، مرنا بھی ہمیں آسان لگا
سر فخر سے اونچا رکھنے کا انداز گوارا ایسا تھا
آفتاب اقبال شمیم

کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
کچھ پہلے اِن آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی
سب پو چھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
اب کے خزاں ایسی ٹھہری وہ سارے زمانے بھول گئے
جب موسمِ گُل ہر پھیرے میں آ آ کے دوبارا گزرے تھا
تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے
جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا
اب تو ہاتھ سجھائی نہ دیوے، لیکن اب سے پہلے تو
آنکھ اٹھتے ہی ایک نظر میں عالمَ سارا گزرے تھا
ایک دکؐنی غزل
فیض احمد فیض

بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 39
اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا
گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے
کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکارا تھا؟
رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا
تم تھے کہ اک ستار بجاتا ستارا تھا
ان دوریوں میں قرب کا جادو عذاب تھا
ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا
دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو
پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا
تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی
آنکھیں کھلیں تو بجھتے دلوں کا نظارا تھا
دنیا کے اس بھنورسے جب ابھرے دکھوں کے بھید
اک اک اتھاہ بھید خود اپنا کنارا تھا
پھر لوٹ کر نہ آیا، زمانے گزر گئے
وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا
مجید امجد

تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 7
دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کنارا
تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا
یوں بے سبب زمانہ پھرتا نہیں کسی سے
اے آسماں کچھ اس میں تیرا بھی ہے اشارا
میخانہ کی خرابی جی دیکھ کر بھر آیا
مدت کے بعد کل واں جا نکلے تھے قضا را
اک شخص کو توقع بخشش کی بے عمل ہے
اے زاہدو تمہارا ہے اس میں کیا اجارا
دنیا کے خرخشوں سے چیخ اٹھتے تم ہم اول
آخر کو رفتہ رفتہ سب ہو گئے گوارا
انصاف سے جو دیکھا نکلے وہ عیب سارے
جتنے ہنر تھے اپنے عالم میں آشکارا
افسوس، اہل دیں بھی مانند اہلِ دنیا
خود کام خود نما ہیں خود بیں میں اور خود آرا
الطاف حسین حالی