ٹیگ کے محفوظات: گنوایا

یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 79
نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے
یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے
بہت آسودگی سے روز و شب کٹنے لگے ہیں
مجھے معلوم ہے مجھ کو گنوایا جا رہا ہے
سرِ مژگاں بگولے آ کے واپس جا رہے ہیں
عجب طوفان سینے سے اٹھایا جا رہا ہے
مرا غم ہے اگر کچھ مختلف تو اس بنا پر
مرے غم کو ہنسی میں کیوں اڑایا جا رہا ہے
بدن کس طور شامل تھا مرے کارِ جنوں میں
مرے دھوکے میں اس کو کیوں مٹایا جا رہا ہے
وہ دیوارِ انا جس نے مجھے تنہا کیا تھا
اسی دیوار کو مجھ میں گرایا جا رہا ہے
مری خوشیوں میں تیری اس خوشی کو کیا کہوں میں
چراغِ آرزو! تجھ کو بجھایا جا رہا ہے
خرد کی ساگی دیکھو کہ ظاہر حالتوں سے
مری وحشت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے
ابھی اے بادِ وحشت اس طرف کا رخ نہ کرنا
یہاں مجھ کو بکھرنے سے بچایا جا رہا ہے
عرفان ستار

سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 215
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
جون ایلیا

یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 297
کیا کسی جشن کا عنوان بنایا ہے مجھے
یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے
میں تنک سایہ ہوں پھر بھی کوئی مصرف ہو گا
اُس نے کچھ سوچ کے صحرا میں اُگایا ہے مجھے
میں وہ دولت ہوں جو مل جائے ضرورت کے بغیر
جس نے پایا ہے مجھے اس نے گنوایا ہے مجھے
مدتوں بعد ہوا لائی ہے پیغام اُس کا
راستہ بھول چکا ہوں تو بلایا ہے مجھے
جس سمندر نے ڈبویا تھا سفینہ میرا
اس کی ہی موج نے ساحل سے لگایا ہے مجھے
پھر ملا دے اسی مٹی میں یہ حق ہے اس کو
اُس نے آکر اِسی مٹی سے اُٹھایا ہے مجھے
عرفان صدیقی

مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 5
چپ چپاتے اسے دے آئے دل اک بات پہ ہم
مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا
نامہ بر آج بھی خط لے کے نہ آیا یارو
تم تو کہتے ہو کہ وہ ہے ابھی آیا جاتا
لوگ کیوں شیخ کو کہتے ہیں کہ عیار ہے وہ
اس کی صورت سے تو ایسا نہیں پایا جاتا
کرتے کیا پیتے اگر مے نہ عشا سے نا صبح
وقت فرصت کا یہ کس طرح گنوایا جاتا
اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ نہ دبایا جاتا
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
اب تو تکفیر سے واعظ نہیں ہٹتا حالیؔ
کہتے پہلے سے تو دے لے کے ہٹایا جاتا
الطاف حسین حالی

سدھراں بھرم گنوایا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 55
رات گئی دن آیا
سدھراں بھرم گنوایا
اکھیاں آپوں روگی
سیکن درد پرایا
گُھوک سُتے دے ویہڑے
چُوڑا کس چھنکایا
توں گُنگیاں دا حامی
بولے کون خدایا
کون نتارے آ کے
زہر دماں وچ دھایا
اسماناں وَل گُھورے
ماجدُ دھرتی جایا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)