ٹیگ کے محفوظات: گنوانے

جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 234
اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے
جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے
اک بات ہی کہنی ہے مجھے تجھ سے، بس اک بات
اس شہر میں تُو صرف گنوانے کے لیے ہے
ہر شخص مری ذات سے جانے کے لیے تھا
تُو بھی تو مری ذات سے جانے کے لیے ہے
جو رنگ ہیں سہہ لے انہیں جو رنگ ہیں سہہ لے
یاں جو بھی ہنر ہے وہ کمانے کے لیے ہے
بودش جو ہے وہ ایک تماشہ ہے گماں کا
ہے جو بھی حقیقت وہ فسانے کے لیے ہے
ہنسنے سے کبھی خوش نہیں ہوتا ہے میرا دل
یاں مجھ کو ہنسانا بھی رُلانے کے لیے ہے
قاتل کو مرے مجھ سے نہیں ہے کوئی پَرخاش
قاتل تو مرا رنگ جمانے کے لیے ہے
جون ایلیا

یاد بھی طور ہے بُھلانے کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 19
ہے عجب حال یہ زمانےکا
یاد بھی طور ہے بُھلانے کا
پسند آیا ہمیں بہت پیشہ
خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا
کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی
عیش دفتر میں گنگنانے کا
آسمانِ خموشئ جاوید
میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا
جان! کیا اب ترا پیالہء ناف
نشہ مجھ کو نہیں پِلانے کا
شوق ہےِاس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں
اب نہیں خود کو آزمانےکا
کیا کہوں جان کو بچانے میں
جون خطرہ ہے جان جانے کا
یہ جہاں جون! اک جہنم ہے
یاں خدا بھے نہیں ہے آنے کا
زندگی ایک فن ہے لمحوں کا
اپنے انداز سے گنوانے کا
جون ایلیا