ٹیگ کے محفوظات: گناہیاں

مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں

دیوان اول غزل 343
ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں
مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں
تیغ جفاے خوباں بے آب تھی کہ ہمدم
زخم بدن ہمارے تفسیدہ ماہیاں ہیں
مسجد سے میکدے پر کاش ابر روز برسے
واں رو سفیدیاں ہیں یاں روسیاہیاں ہیں
جس کی نظر پڑی ہیں ان نے مجھے بھی دیکھا
جب سے وہ شوخ آنکھیں میں نے سراہیاں ہیں
غالب تو یہ ہے زاہد رحمت سے دور ہووے
درکار واں گنہ ہیں یاں بے گناہیاں ہیں
یہ ناز و سرگرانی اللہ رے کہ ہر دم
نازک مزاجیاں ہیں یا کج کلاہیاں ہیں
شاہد لوں میر کس کو اہل محلہ سے میں
محضر پہ خوں کے میرے سب کی گواہیاں ہیں
میر تقی میر