ٹیگ کے محفوظات: گمرہی

پو پھٹے تھی ہوا کو شکایت یہی، لوگ سوئے ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
نشۂ بے حسی تھی کہ نا آگہی لوگ سوئے ملے
پو پھٹے تھی ہوا کو شکایت یہی، لوگ سوئے ملے
روشنی کے سفیروں نے کیا کیا نہ گُر آزمائے مگر
سینہ سینہ بسائے ہوئے گمرہی لوگ سوئے ملے
زمزمے چہچہے کوئی تریاق ان کے نہ کام آ سکا
سم کچھ ایسی تھی سانسوں میں اِن کے گھلی لوگ سوئے ملے
صبح، پرچم لپیٹے ہوا ہو گئی اپنے سندیس کا
پھول نے جو کہی رہ گئی ان کہی لوگ سوئے ملے
بادباں کھول کر کشتیوں کے، ہوا کو انہیں سونپ کر
اور تو اور آغوشِ دریا میں بھی لوگ سوئے ملے
جانے حلقۂ بگوشی میں تھا کیا شرف، جو انہیں بھا گیا
جاگتا تھا فقط جذبۂ بندگی لوگ سوئے ملے
کتنے تھوڑے صلے سے بہلنے لگیں ان کی نادانیاں
رسم ماجدؔ یہ کیا اکتفا کی چلی لوگ سوئے ملے
ماجد صدیقی

کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
ملا ہے فیضان یہ خداؤں کی برتری کا
کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا
بدستِ انساں عَلَم جہاں امن کا گڑا ہے
لٹک رہا ہے وہیں پرندہ بھی آشتی کا
کُھلی فضاؤں کی راہ جو بھی کوئی سجھائے
اُسی پہ آنے لگا ہے الزام گمُرہی کا
پڑے نہ زد جس پہ بات ساری مفاد کی ہے
جواز سیدھا سا ایک ہی تو ہے دشمنی کا
دلوں کے اندر ہی پائے جاتے ہیں نقش ایسے
نشان ماتھوں پہ کب ملا ہے درندگی کا
نہ تا ابد غرقِ نیل ہو کر بھی باز آئے
ہُوا ہے لپکا جسے خدا سے برابری کا
نظر کا آشوب جب تلک ہے نہ جا سکے گا
ہمیں لگا ہے جو روگ ماجدؔ سخنوری کا
ماجد صدیقی

کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 22
کوئی نغمہ بُنو، چاندنی نے کہا، چاندنی کے لیے ایک تازہ غزل
کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل
زخمِ فرقت کو پلکوں سے سیتے ہوئے، سانس لینے کی عادت میں جیتے ہوئے
اب بھی زندہ ہو تم، زندگی نے کہا، زندگی کے لیے ایک تازہ غزل
اُس کی خواہش پہ تم کو بھروسہ بھی ہے، اُس کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا بھی ہے
لطف آیا تمہیں، گمرہی نے کہا، گمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
ایسی دنیا میں کب تک گزارا کریں، تم ہی کہہ دو کہ کیسے گوارا کریں
رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا، بے بسی کے لیے ایک تازہ غزل
منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں
دل کو روشن کرو، روشنی نے کہا، روشنی کے لیے ایک تازہ غزل
میں عبادت بھی ہوں، میں محبت بھی ہوں، زندگی کی، نمو کی علامت بھی ہوں
میری پلکوں پہ ٹھہری نمی نے کہا، اس نمی کے لیے ایک تازہ غزل
آرزوئوں کی مالا پرونے سے ہیں، یہ زمیں آسماں میرے ہونے سے ہیں
مجھ پہ بھی کچھ کہو، آدمی نے کہا، آدمی کے لیے ایک تازہ غزل
اپنی تنہائی میں رات میں تھا مگن، ایک آہٹ ہوئی دھیان میں دفعتاً
مجھ سے باتیں کرو، خامشی نے کہا، خامشی کے لیے ایک تازہ غزل
جب رفاقت کا ساماں بہم کر لیا، میں نے آخر اسے ہم قدم کر لیا
اب مرے دکھ سہو، ہمرہی نے کہا، ہمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
عرفان ستار

یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 52
جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی
جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو
ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی
سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا
وہ دِل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی
نگر نگر وہی آنکھیں، پس زماں، پسِ در
مری خطا کی سزا عمرِ گمرہی بھی نہ تھی
کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا
کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی
نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور
اس آگ میں تو کوئی آبِ آگہی بھی نہ تھی
غموں کی راکھ سے امجد وہ غم طلوع ہوئے
جنھیں نصیب اک آہِ سحرگہی بھی نہ تھی
مجید امجد