ٹیگ کے محفوظات: گلیاں

نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں

دیوان اول غزل 339
جنوں میرے کی باتیں دشت اور گلشن میں جب چلیاں
نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں
گریباں شور محشر کا اڑایا دھجیاں کرکر
فغاں پر ناز کرتا ہوں کہ بل بے تیری ہتھ بلیاں
تفاوت کچھ نہیں شیرین و شکر اور یوسف میں
سبھی معشوق اگر پوچھے کوئی مصری کی ہیں ڈلیاں
ترے غمزے نے جو رو ظلم سے آنکھیں غزالوں کی
بیاباں میں دکھا مجنوں کو پائوں کے تلے ملیاں
چمن کو آج مارا ہے یہاں تک رشک گل رو نے
کہ بلبل سر پٹکتی ہے نہیں منھ کھولتیں کلیاں
مری آہ سحر کی برچھیاں سختی کی تڑپوں پر
نگاہیں کرکے گر پڑتی ہیں بجلی کی بھی اچپلیاں
صنم کی زلف میں کوچہ ہے سربستہ ہر اک مو پر
نہ دیکھی ہوں گی تونے خضر یہ ظلمات میں گلیاں
دوانہ ہو گیا تو میر آخر ریختے کہہ کہہ
نہ کہتا تھا میں اے ظالم کہ یہ باتیں نہیں بھلیاں
میر تقی میر