ٹیگ کے محفوظات: گلو

گھرے ہیں لوگ طلسماتِ آرزو میں ابھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
نظر نظر ہے مرادوں کی جستجو میں ابھی
گھرے ہیں لوگ طلسماتِ آرزو میں ابھی
وہ بات جس کو جھلکنا تھا ہر جبیں سے یہاں
رکی ہے پھانس سی بن کر گلو گلو میں ابھی
ابھی لبوں پہ کہاں حرفِ مدّعا کے نشاں
دبی ہے اصل صدا دل کی ہاؤ ہُو میں ابھی
عجب نہیں کوئی بادل اسی پہ گھر آئے
نمی سی ہے جو یہ اک ریگِ آبجو میں ابھی
کبھی جو تجھ پہ زبان و نگاہ سے نہ کھلی
مچل رہی ہے شرارت وہی لہو میں ابھی
دل و نظر ہی پہ کچھ بس نہیں ہے لطفِ بہار
تہیں بہت ہیں پلٹنے کو رنگ و بو میں ابھی
کتابِ زیست مکمل ہو، جانے کب ماجدؔ
ہے انتشار سا اوراقِ آبرو میں ابھی
ماجد صدیقی

وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 115
بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے
وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے
تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوتے تو گفتگو کرتے
لحد میں جا کے بھی ہم مے کی جستجو کرتے
فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے
حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے
اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو
حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے
بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے
کہ پھول چاک گریباں نہیں، رفو کرتے
جنوں میں جب ہوش آیا تو ہوش ہی نہ رہا
کہ اپنے چاکِ گریباں کو ہم رفو کرتے
نہ ملتی خاک میں دامن سے گر کے یوں شبنم
چمن کے پھول اگر پاسِ آبرو کرتے
یہ کہہ رہ گیا ہو گا کوئی ستم ورنہ
حضور اور میری جینے کی آرزو کرتے
یں سخت جاں کہ قاتل کا ہاتھ نازک ہے
یہ کل کو فیصلہ خود خنجر و گلو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
قمر جلالوی

کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 98
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
دلِ مضطرب تو اس محفل میں نالے ضبط کر لے گا
مگر اے چشمِ گریاں تو بہت بے آبرو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
جنھیں اے راہبر لٹوا رہے ہیں راہِ منزل میں
خدا معلوم ان کے دل میں کیا کیا آرزو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
قمر سنتے ہیں تو شیخ صاحب آج توڑیں گے
سجے گا میکدہ آرائشِ جام و سبو ہو گی
قمر جلالوی

اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 76
کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
اے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں
بے اشکِ لالہ گوں بھی میں بے آبرو نہیں
آنسو میں رنگ کیا ہو کہ دل میں لہو نہیں
پھر بھی کہو گے چھیڑنے کی اپنی خو نہیں
عطرِ سہاگ ملتے ہو وہ جس میں بو نہیں
یہ کیا کہا کہ بکتے ہو کیوں آپ ہی آپ تم
اے ہم نشیں مگر وہ مرے روبرو نہیں
بے طاقتی نے کام سے یہ کھو دیا کہ بس
دل گم ہوا ہے اور سرِ جستجو نہیں
محفل میں لحظہ لحظہ وہ چشمِ ستیزہ خو
لڑتی ہیں کیوں اگر سرِ صلحِ عدو نہیں
کیا جوشِ انتظار میں ہر سمت دوڑ ہے
بدنامیوں سے ہائے گزر ایک سو نہیں
دی کس نے اشکِ سرمہ سے تیغِ مژہ کو آب
شورِ فغاں کو فکرِ خراشِ گلو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 198
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّر
دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے
یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
صد حیف وہ نا کام کہ اک عمر سے غالب
حسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1720
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ
مستی میں شیخ شہر سے صحبت عجب رہی
سر پھوڑتے رہا کیے اکثر سبو کے ساتھ
تھا عکس اس کی قامت دلکش کا باغ میں
آنکھیں چلی گئیں ہیں لگی آب جو کے ساتھ
نازاں ہو اس کے سامنے کیا گل کھلا ہوا
رکھتا ہے لطف ناز بھی روے نکو کے ساتھ
ہم زرد کاہ خشک سے نکلے ہیں خاک سے
بالیدگی نہ خلق ہوئی اس نمو کے ساتھ
گردن بلند کرتے ہی ضربت اٹھا گئے
خنجر رکھے ہے اس کا علاقہ گلو کے ساتھ
ہنگامے جیسے رہتے ہیں اس کوچے میں سدا
ظاہر ہے حشر ہو گی نہ ایسے غلو کے ساتھ
مجروح اپنی چھاتی کو بخیہ کیا بہت
سینہ گتھا ہے میر ہمارا رفو کے ساتھ
میر تقی میر

خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر

غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر

دیوان سوم غزل 1139
کیا جانیں گے کہ ہم بھی عاشق ہوئے کسو پر
غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر
ہر کوئی چاہتا ہے سرمہ کرے نظر کا
ہونے لگے ہیں اب تو خون اس کی خاک کو پر
کر باغباں حیا ٹک گل کو نہ ہاتھ میں مل
دیتی ہے جان بلبل پھولوں کے رنگ و بو پر
حسرت سے دیکھتے ہیں پرواز ہم صفیراں
شائستہ بھی ہمارے ایسے ہی تھے کبھو پر
حرف و سخن کرے ہے کس لطف سے برابر
سلک گہر بھی صدقے کی اس کی گفتگو پر
گو شوق سے ہو دل خوں مجھ کو ادب وہی ہے
میں رو کبھو نہ رکھا گستاخ اس کے رو پر
تن راکھ سے ملا سب آنکھیں دیے سی جلتی
ٹھہری نظر نہ جوگی میر اس فتیلہ مو پر
میر تقی میر

چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے

دیوان دوم غزل 1037
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے
شاخ گل کاہے کو اس لطف سے لچکے ہے کہیں
لاگ والا کوئی دیکھے تجھے تو نازک ہے
چشم انصاف سے برقع کو اٹھا دیکھو اسے
گل کے منھ سے تو کئی پردہ وہ رو نازک ہے
لطف کیا دیوے تمھیں نقش حصیر درویش
بوریا پوشوں سے پوچھو یہ اتو نازک ہے
بیڑے کھاتا ہے تو آتا ہے نظر پان کا رنگ
کس قدر ہائے رے وہ جلد گلو نازک ہے
گل سمجھ کر نہ کہیں بے کلی کرنے لگیو
بلبل اس لالۂ خوش رنگ کی خو نازک ہے
رکھے تاچند خیال اس سرپرشور کا میر
دل تو کانپا ہی کرے ہے کہ سبو نازک ہے
میر تقی میر

رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس

دیوان دوم غزل 821
گئے جس دم سے ہم اس تندخو پاس
رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس
قیامت ہے نہ اے سرمایۂ جاں
نہ ہووے وقت مرنے کے بھی تو پاس
رلایا ہم نے پہروں رات اس کو
کہا یہ قصۂ غم جس کسو پاس
کہیں اک دور کی سی کچھ تھی نسبت
رکھا تھا آئینے کو اس کے رو پاس
دل اے چشم مروت کیوں نہ خوں ہو
تجھے ہم جب نہ تب دیکھیں عدو پاس
یہی گالی یہی جھڑکی یہی چھیڑ
نہ کچھ میرا کیا تونے کبھو پاس
چل اب اے میر بس اس سرو قد بن
بہت رویا چمن کی آب جو پاس
میر تقی میر

یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 95
صدائے شام سر آب جو ہے کتنی دیر
یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر
بدن دریدہ شجر‘ مہربان سوزنِ برگ
مگر یہ زحمتِ دستِ رفو ہے کتنی دیر
وہ ابر پھر کبھی آیا ادھر تو کیا حاصل
میں سبزہ ہوں مری تابِ نمو ہے کتنی دیر
مرے زوال کے ساتھی‘ مرے ستارۂ ہجر
افق کے آخری منظر میں تو ہے کتنی دیر
پھر اک عجیب تماشا رہے گا صدیوں تک
یہ کارزارِ کمان و گلو ہے کتنی دیر
نکل چلو کہ یہی وقت ہے رہائی کا
ہوا کی لہر‘ بدن کا لہو ہے کتنی دیر
غبارِ شب مرے چہرے پہ چھایا جاتا ہے
یہ آئینہ بھی ترے روبرو ہے کتنی دیر
صہبا وحید کے نام
عرفان صدیقی

دید کو بے وضو نہیں کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 522
زخمِ گریہ رفو نہیں کرتے
دید کو بے وضو نہیں کرتے
کام کرتے ہیں جتنا ہوتا ہے
بے سبب گفتگو نہیں کرتے
ہم روایت شکن عقیدوں کے
طوق زیبِ گلو نہیں کرتے
جنگ کرتے ہیں موت سے لیکن
خودکشی جنگجو نہیں کرتے
اس قدر شہر میں ہے سناٹا
خوف بھی گفتگو نہیں کرتے
اپنے ہوتے ہوئے کبھی منصور
اور کی آرزو نہیں کرتے
منصور آفاق

اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 333
برسات میں نمازِ ہوا کا وضوہوں میں
اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں
کرتی ہے یاد مجھ کو اشاروں کنایوں سے
مجھ کو یہی بہت ہے پسِ گفتگو ہوں میں
اک دوسرے سے کہتے نہیں جانتے تو ہیں
تُو میرے چار سو ہے ترے چار سو ہوں میں
مجھ کو بھی گنگنائے تہجد گزار دوست
اُس کیلئے تو نغمہ اللہ ھو ہوں میں
پھیلی ہوئی ہے آگ کی دونوں طرف بہار
منصور کیسے آج یہ زیبِ گلو ہوں میں
منصور آفاق