ٹیگ کے محفوظات: گلفام

لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت

اُس کے لیے کچھ بھی کریں انجام شکایت
لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت
جو کچھ اُسے درکار ہے وہ سب ہے میسّر
کس بات کی کرتا ہے وہ گُلفام شکایت
گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے
صیّاد سے کرتے جو تہِ دام شکایت
ہم نے ہی نہ خود کو کیا تیرے لیے تیار
تجھ سے نہیں کچھ گردشِ ایّام شکایت
ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ
ایسا نہ ہو پڑ جائے تِرا نام شکایت
موقع ہی نہ پایا کبھی تنہائی میں ورنہ
کرتے نہ کبھی تجھ سے سرِ عام شکایت
ہم فرش نشیں خوش ہیں اِسی بات پہ باصرِؔ
پہنچی تو کسی طور لبِ بام شکایت
باصر کاظمی

اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام

کام سے بڑھ کر تھا جن کو جاہ و اکرام سے کام
اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام
جن کا کام بنانا چاہا اُن سے بگڑ گئی
اسی لیے اب ہم رکھتے ہیں اپنے کام سے کام
کوئی نہ کوئی نئی مصیبت روز کھڑی کرتے ہو
ایک بھی دن کرنے نہ دیا ہم کو آرام سے کام
ابھی تو اُس میں دیکھتے ہو دنیا بھر کے اوصاف
پوچھوں گا جس روز پڑے گا اُس گلفام سے کام
لوگ گلی کوچوں میں بچارے ہو جاتے ہیں خوار
تم تو فقط کہہ دیتے ہو بالائے بام سے کام
زاہد اس سے قبل کہ جانا ہو داتا کے پاس
ہو توفیق تو کچھ کر لو سَر گنگا رام سے کام
اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں
ورنہ چل جاتا ہے ناصِر تیرے نام سے کام
تھوڑی دیر رُکے ہیں باصرؔ ٹھنڈی چھاؤں میں ہم
پیڑ گِنے وہ باغ ہے جس کا ہمیں تو آم سے کام
باصر کاظمی

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 274
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھےُدردِ تہِ جام بہت ہے
نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے
ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟
پابستگئِ رسم و رہِ عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
انکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رکھنا یا فہرست میں تم مرا نام نہ رکھنا
مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا
سارے بوسے خاک میں مل گئے آتے آتے
اب کے ہوا کے ہاتھ میں یہ پیغام نہ رکھنا
شب کے مسافر اور پھر ایسی شب کے مسافر
دیکھ ہماری آس چراغِ شام نہ رکھنا
ورنہ خالی ہوجائیں گے سارے خزانے
آئندہ کسی سر پہ کوئی انعام نہ رکھنا
ایسے شور کے شہر میں اتنا مدھم لہجہ
اونچا سننے والوں پر الزام نہ رکھنا
میں چاہوں مرے دل کا لہو کسی کام آجائے
موسم چاہے چہروں کو گلفام نہ رکھنا
عرفان صدیقی

اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 11
غفلت ہے کہ گھیر ے ہوئے ہے چار طرف سے
اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش
گو صبح بھی تھی روز مصیبت کی قیامت
پر صبح تو جوں توں کٹی اب شام ہے درپیش
وہ وقت گیا نشہ تھا جب زوروں پہ اپنا
اب وقت خمار مئے گلفام ہے درپیش
امید شفا کا تو جواب آ ہی چکا ہے
اب موت کا سننا ہمیں پیغام ہے درپیش
جی اس کا کسی کام میں لگتا نہیں زنہار
ظاہر ہے کہ حالیؔ کو کوئی کام ہے درپیش
الطاف حسین حالی