ٹیگ کے محفوظات: گلشن

خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے

آتشِ شوق سے جب دل کوئی گلخن بن جائے
خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے
مل گیا ہے تمہیں قسمت سے جو سونا سا خیال
دل میں رکھو اسے جب تک نہ یہ کندن بن جائے
درگزر کرنا جفاؤں کو تری میرے لیے
سہل ہو جائے جو تو دوست سے دشمن بن جائے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
خوب ہیں پھول جو دو چار کھِلے ہیں باصِرؔ
چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
باصر کاظمی

مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 37
گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب
مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب
میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اداس
ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب
اب سے ذرا فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں
آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب
وہ تو یوں کہیئے سرِ محشر خیال آ ہی گیا
ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب
میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا
برق تھی گلشن کے اندر میں تھا گلشن کے قریب
کیا کہی گی اے قمر تاروں کی دنیا دیکھ کر
چاندنی شب میں وہ کیوں روتے ہیں مدفن کے قریب
قمر جلالوی

دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 31
اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا
دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا
مشاطہ نے مگر عملِ سیمیا کیا
گل برگ کو جو غنچۂ سوسن بنا دیا
دامن تک اس کے ہائے نہ پہنچا کبھی وہ ہاتھ
جس ہاتھ نے کہ جیب کو دامن بنا دیا
دیکھا نہ ہو گا خواب میں بھی یہ فروغِ حسن
پردے کو اس کے جلوے نے چلمن بنا دیا
تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار
شب موم کر لیا، سحر آہن بنا دیا
پروانہ ہے خموش کہ حکمِ سخن نہیں
بلبل ہے نغمہ گر کہ نوا زن بنا دیا
صحرا بنا رہا ہے وہ افسوس شہر کو
صحرا کو جس کے جلوے نے گلشن بنا دیا
مشاطہ کا قصور سہی سب بناؤ میں
اس نے ہی کیا نگہ کو بھی پر فن بنا دیا
اظہارِ عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا
مصطفٰی خان شیفتہ

ہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 167
نہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں
ہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں
ہُوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا، خانہ ویرانی
کفِ سیلاب باقی ہے برنگِ پنبہ روزن میں
ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوں
نگینِ نامِ شاہد ہے مرا ہر قطرہ خوں تن میں
بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
شبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں
نکو ہش مانعِ بے ربطئ شورِ جنوں آئی
ہُوا ہے خندہ احباب بخیہ جَیب و دامن میں
ہوئے اُس مِہر وَش کے جلوۂ تمثال کے آگے
پَرافشاں جوہرآئینے میں مثلِ ذرّہ روزن میں
نہ جانوں نیک ہُوں یا بد ہُوں، پر صحبت مخالف ہے
جو گُل ہُوں تو ہُوں گلخن میں جو خس ہُوں تو ہُوں گلشن میں
ہزاروں دل دیئے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کو
سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں
اسدؔ زندانئ تاثیرِ الفت ہائے خوباں ہُوں
خمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 140
قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو
نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہے
نہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کو
نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو
خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
کیا بیتاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو
خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوے
سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے
مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
جہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو
نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالب
فریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو
مرزا اسد اللہ خان غالب

اک دل غمخوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا

دیوان اول غزل 73
بیکسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
اک دل غمخوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا
پنجۂ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کو
گر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا
شمع ساں جلتے رہے لیکن نہ توڑا یار سے
رشتۂ الفت تمامی عمر گردن میں رہا
ڈر سے اس شمشیر زن کے جوہر آئینہ ساں
سر سے لے کر پائوں تک میں غرق آہن میں رہا
ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چل
اب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا
درپئے دل ہی رہے اس چہرے کے خال سیاہ
ڈر ہمیں ان چوٹٹوں کا روز روشن میں رہا
آہ کس انداز سے گذرا بیاباں سے کہ میر
جی ہر اک نخچیر کا اس صید افگن میں رہا
میر تقی میر

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

دیوان اول غزل 68
ادھر آکر شکار افگن ہمارا
مشبک کر گیا ہے تن ہمارا
گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے
ہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا
گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنے
سبھوں پر حال ہے روشن ہمارا
بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردم
وہ ہے عین بلا مسکن ہمارا
ہوا رونے سے راز دوستی فاش
ہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا
بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکن
نہ منت کش ہوا گلشن ہمارا
چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں
سنا ہو گا کبھو شیون ہمارا
کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
نہ بہکے میکدے میں میر کیونکر
گرو سو جا ہے پیراہن ہمارا
میر تقی میر

کہ جیسے پیرہن سرکے، کسی کے سانولے تن سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 50
نظر یوں شام آئی، ڈوبتی کرنوں کی چلمن سے
کہ جیسے پیرہن سرکے، کسی کے سانولے تن سے
میں اپنی پستیوں میں رہ ہی لیتا مطمئن ہو کر
مگر یہ آسماں ہٹتا نہیں ہے میرے روزن سے
توقع اُس سے رکھیں معتدل ہی دوست داری کی
وہ جس نے ٹوٹ کر نفرت نہ کی ہو اپنے دشمن سے
مکاں کی تنگیوں میں وسعتوں کی روشنی آئے
ہٹاؤ بھی ذرا یہ پردۂ دیوار، آنگن سے
سفر کا تجربہ، اتلاف مال جاں کے بدلے میں
بطورِ رختِ فردا، ہم بچا لائے ہیں رہزن سے
سفر در پیش ہے شاید خزاں کی خیمہ بستی کا
ہوا ہجرت کی باتیں کر رہی ہے اہل گلشن سے
یہی بےمعنویت، غالباً حاصل ہے جذبوں کا
ہمیشہ راکھ سی اڑتی رہے شعلے کے دامن سے
خلل شاید کبھی ربِ نمُو کی نیند میں آئے
گرائے جا شرر بیداریوں کے چشمِ روشن سے
آفتاب اقبال شمیم

روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
صبحِ اُمید، شب یاس کے پیراہن میں
روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں
میں درِ شام پہ بیٹھا ہوں سوالی بن کر
اک ستارا ہی اُتر آئے مرے آنگن میں
نارسائی میں رہو اور کرشمہ دیکھو
ہے عبادت کا مزہ گوریوں کے درشن میں
ابر تو برسا بہت، پیاس نہ مِٹ پائی مگر
کاش میں مر ہی گیا ہوتا کسی ساون میں
بے صدا ہوتی گئیں روشنیاں وقت کے ساتھ
وہ جو پیغام سا دیتی تھیں ہمیں بچپن میں
زندگی! کھل کے مرے سامنے آ یا چھپ جا
تو نے رکھا ہے ہمیشہ سے مجھے اُلجھن میں
قید میں دیوے بشارت مجھے آزادی کی
آسماں رہتا ہے دن رات مرے روزن میں
آفتاب اقبال شمیم

ظلم عظیم… یار کے دامن پہ ایسا داغ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 205
اتنی جمیل صبحِ شگفتن پہ ایسا داغ
ظلم عظیم… یار کے دامن پہ ایسا داغ
توبہ یہ وارداتِ فلسطین، کیا کہوں
اس عہدِ با شعور کے جوبن پہ ایسا داغ
ابھرا ہے آئینہ سے جو تیرے سلوک پر
لگتا ہے چشم مہر میں پھاگن پہ ایسا داغ
ایسا تو کچھ نہیں مرے دل کے مکان میں
کیسے لگا ہے دستِ نقب زن پہ ایسا داغ
حیرت ہے بارشوں کے مسلسل فروغ میں
رہ جائے آنسوئوں بھرے ساون پہ ایسا داغ
لگتا ہے انتظار کے چپکے ہیں خدو خال
دیکھا نہیں کبھی کسی چلمن پہ ایسا داغ
جس میں دھڑکتے لمس دکھائی دیں دور سے
اس نے بنا دیا میری گردن پہ ایسا داغ
ہونٹوں کے یہ نشان مٹا دو زبان سے
اچھا نہیں ہے دودھ کے برتن پہ ایسا داغ
جیسے پڑا ہوا ہے لہو میرا روڈ پر
کیسے لگا ہے رات کے مدفن پہ ایسا داغ
جس میں مجھے اترنا پڑے اپنی سطح سے
کیسے لگاؤں دوستو دشمن پہ ایسا داغ
یہ کیا پرو دیا ہے پرندے کو شاخ میں
زیتون کے سفید سلوگن پہ ایسا داغ
بعد از بہار دیکھا ہے میں نے بغور دل
پہلے نہ تھا صحیفۂ گلشن پہ ایسا داغ
اب تو تمام شہر ہے نیلا پڑا ہوا
پہلے تھا صرف چہرئہ سوسن پہ ایسا داغ
شاید ہے بد دعا کسی مجذوب لمس کی
منصور میرے سینۂ روشن پہ ایسا داغ
منصور آفاق

خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 37
چاند سا چہرہ، نور سی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
گُل رُخِ نازک، زلف ہے سنبل، آنکھ ہے نرگس، سیب زنخداں
حُسن سے تم ہو غیرتِ گلشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
ساقیِ بزمِ روزِ ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں
آنکھیں ہیں ساغر، شیشہ ہے گردن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ، آفتِ جاں درپردہ لگاوٹ
چاہ کے تیور، پیار کی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
غمزہ اچکّا، عشوہ ہے ڈاکو، قہر ادائیں، سحر ہیں باتیں
چور نگاہیں، ناز ہے رہزن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
نور کا تن ہے، نور کے کپڑے، اس پر کیا زیور کی چمک ہے
چھلے، کنگن، اِکّے، جوشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
جمع کیا ضدّین کو تم نے، سختی ایسی، نرمی ایسی
موم بدن ہے، دل ہے آہن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
واہ امیرؔ، ایسا ہو کہنا، شعر ہیں یا معشوق کا گہنا
صاف ہے بندش، مضموں روشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
امیر مینائی