ٹیگ کے محفوظات: گلستانوں

خوف جاتا نہیں مچانوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
خوف جاتا نہیں مچانوں کا
ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم
فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا
رُت بدلنے کی کیا بشارت دے
ایک سا رنگ گلستانوں کا
کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی
رہنے والا ہے آسمانوں کا
بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو
شخص ہے اِک گئے زمانوں کا
ماجد صدیقی

سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 291
ایک جیسی روشنی ہو، لامکانوں میں دیے ہوں
سب پہ اتریں کہکشائیں سب زمانوں میں دیے ہوں
قمقمے ہوں پانیوں میں جگمگائیں شاہراہیں
شہر ہوں تہذیب گاہیں ، گلستانوں میں دیے ہوں
فکرِ مال وزر بدل دے ،آگہی کے در بدل دے
یہ نظامِ شربدل دے،درس خانوں میں دیے ہوں
اب نہ غربت ہو کہیں بس،دے مساواتِ حسیں بس
روٹی کپڑا ہی نہیں بس،سب مکانوں میں دیے ہوں
ایک ازلوں کی کہاوت ،بھوک اور رج میں عداوت
ظلم طبقاتی تفاوت ،سب خزانوں میں دیے ہوں
سندھ دریا کی ہوں نظمیں اور روہی کی ہوں بزمیں
جگنوئوں کے حاشیے ہوں ، آسمانوں میں دیے ہوں
دے بسروچشم سب کو موت لیکن دیکھ اتنا
لوگ جیون میں جیے ہوں ،آشیانوں میں دیے ہوں
لفظ سچا ہی نہ ہو بس ،نام اچھا ہی نہ ہو بس
کام اچھے بھی کیے ہوں سب گمانوں میں دیے ہوں
رات تاروں کیلئے ہو چاند ساروں کے لیے ہو
نور کی منصور شب ہو داستانوں میں دیے ہوں
منصور آفاق