ٹیگ کے محفوظات: گلا

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 109
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ ’انا البحر‘
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگرداری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 75
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب ،”کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا”
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں@ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا، لہو نہ تھما
کام گر رک گیا، روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟
لے کے دل، "دلستاں” روانہ ہوا
کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا!
@ نسخۂ مہر، نسخۂ علامہ آسی میں ‘یوں’ کے بجا ئے "یہ” آیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جلے کو اور تو اتنا جلا مت

دیوان دوم غزل 787
ملامت گر نہ مجھ کو کر ملامت
جلے کو اور تو اتنا جلا مت
گلے مل عید قرباں کو سبھوں کے
ہمارا آہ تم کاٹو گلا مت
تری ناآشنائی کے ہیں بندے
نہ وہ اب ربط نے صاحب سلامت
بہت رونے نے رسوا کر دکھایا
نہ چاہت کی چھپی ہم سے علامت
کبھو تلوار وہ کھینچے ہے اے میر
لڑی قسمت تو سر کو ٹک ہَلا مت
میر تقی میر

ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 19
ہمت التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئی مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنی مشق ستم سے ہاتھ نہ کھینچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
تیری چشم الم نواز کی خیر
دل میں کوئی گلا نہیں باقی
ہوچکا ختم عہد ہجرو وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی
فیض احمد فیض

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 12
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا
آنکھ کیا ہے، موہنی ہے، سحر ہے، اعجاز ہے
اک نگاہِ لطف میں سارا گِلا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھرا
تم گَلے سے مِل گئے، سارا گلا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 53
سیر مانند صبا کیجے گا
رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا
کس توقع پہ صدا کیجے گا
نہ سنے کوئی تو کیا کیجے گا
حق پرستی ہے بڑی بات مگر
روز کس کس سے لڑا کیجے گا
بن گئے لالہ و گل جز و قفس
کس سے اب ذکر صبا کیجے گا
دوستی شرط نہیں ہے کوئی
بس یونہی ہم سے ملا کیجے گا
لو سلام سر رہ سے بھی گئے
اور جا جا کے گلا کیجے گا
طوف کعبہ کو گئے تو باقیؔ
میرے حق میں بھی دعا کیجے گا
باقی صدیقی