ٹیگ کے محفوظات: گزرنے

یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
نشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہے
یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے
کیا پُوچھتے ہو حدّتِ نظارہ سے دل میں
وہ زخم ہوا ہے کہ جو بھرنے کا نہیں ہے
لب بھینچ کے رکھوں تو چٹکتی ہے خموشی
اور ذکر بھی ایسا ہے جو کرنے کا نہیں ہے
کیوں سمت بڑھاتے ہو مری، برف سے لمحے
موسم مرے جذبوں کا ٹھٹھرنے کا نہیں ہے
اک عمر میں آیا ہے مرے ہاتھ سمٹنا
شیرازۂ افکار بکھرنے کا نہیں ہے
وہ راج ہے اِس دل کے اُفق پر تری ضو کا
سورج کوئی اَب اور اُبھرنے کا نہیں ہے
ماجدؔ کو اگر بعدِ مؤدت تری درپیش
ہو موت سی آفت بھی تو مرنے کا نہیں ہے
ماجد صدیقی

اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 40
سمجھوتہ کوئی وقت سے کرنے کا نہیں میں
اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں
زنجیر کوئی لا مری وحشت کے برابر
اس حلقۂ مژگاں میں ٹھہرنے کا نہیں میں
کل رات عجب دشتِ بلا پار کیا ہے
سو بادِ سحر سے تو سنورنے کا نہیں میں
کیوں مملکتِ عشق سے بے دخل کیا تھا
اب مسندِ غم سے تو اترنے کا نہیں میں
دم بھر کے لیے کوئی سماعت ہو میسّر
بے صوت و صدا جاں سے گزرنے کا نہیں میں
اب چشمِ تماشا کو جھپکنے نہیں دینا
اس بار جو ڈوبا تو ابھرنے کا نہیں میں
ہر شکل ہے مجھ میں مری صورت کے علاوہ
اب اس سے زیادہ تو نکھرنے کا نہیں میں
عرفان ستار

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں
ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں
صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
تو چشمِ صبح میں آنسو اُبھرنے لگتے ہیں
وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری
فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں
درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض

کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 289
طلسمات تھا شہ سواروں کا شہر
کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے
کرامت کوئی ہونے والی تھی رات
فقیر اس گلی سے گزرنے کو تھے
ادھر تیر چلنے کو تھے بے قرار
ادھر سارے مشکیزے بھرنے کو تھے
ذرا کشتگاں صبر کرتے تو آج
فرشتوں کے لشکر اترنے کو تھے
سمندر ادا فہم تھا‘ رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
اگر ان کی بولی سمجھتا کوئی
تو دیوار و در بات کرنے کو تھے
ہوا نے ٹھکانے لگایا ہمیں
ہم اک چیخ تھے اور بکھرنے کو تھے
عرفان صدیقی

لو، شمع بجھی، رات گزرنے کی خبر آئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 208
سب خواب تھا اور خواب بکھرنے کی خبر آئی
لو، شمع بجھی، رات گزرنے کی خبر آئی
ملنے بھی نہ پایا تھا میں تجھ سے سر دریا
دریا سے ترے پار اُترنے کی خبر آئی
شاید کہ تہہ آب ہوا کوئی سفینہ
پانی پہ نیا نقش اُبھرنے کی خبر آئی
اس دن کا ہی اندیشہ رہا کرتا تھا اے دل
جس دن سے ترے نالہ نہ کرنے کی خبر آئی
سوچا تھا ذرا تیرے تئیں بات تو کی جائے
اتنے میں ترے بات نہ کرنے کی خبر آئی
جینے سے بڑا کوئی بھی آزار نہ نکلا
جب اپنے مسیحاؤں کے مرنے کی خبر آئی
عرفان صدیقی