ٹیگ کے محفوظات: گزار

گرد آئے جہاں غبار آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 150
اُس چمن پر کہاں نکھار آئے
گرد آئے جہاں غبار آئے
ہم ہیں محصور اُس گلستاں میں
عمر گزری جہاں بہار آئے
کس کو اپنی غرض عزیز نہیں
کس کی باتوں پہ اعتبار آئے
ایسا بگڑا نظام اعضا کا
نت کُمک کو ہمیں بخار آئے
رن میں آئین تھا وفا کا یہی
جو بھی مشکل پڑی گزار آئے
ہم ہیں وہ لوگ جو کہ شانوں پر
سر کے ہمراہ لے کے دار آئے
چھِن گئے جن سے پیرہن ماجدؔ
ایسی شاخوں کو کیا قرار آئے
ماجد صدیقی

جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 55
کاوشِ روزگار میں، عمر گزار دی گئی
جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی
لمحۂ تازہ پھر کوئی آنے نہیں دیا گیا
ساعتِ انتظار میں، عمر گزار دی گئی
سوزنِ چشمِ یار سے، شوق رفو گری کا تھا
جامۂ تار تار میں، عمر گزار دی گئی
بامِ خیال پر اُسے دیکھا گیا تھا ایک شب
پھر اُسی رہ گزار میں، عمر گزار دی گئی
کھینچ رہی تھی کوئی شے ہم کو ہر ایک سمت سے
گردشِ بے مدار میں، عمر گزار دی گئی
رکھا گیا کسی سے یوں، ایک نفس کا فاصلہ
سایۂ مشک بار میں، عمر گزار دی گئی
زخمِ امید کا علاج، کوئی نہیں کیا گیا
پرسشِ نوکِ خار میں، عمر گزار دی گئی
دھول نظر میں رہ گئی، اُس کو وداع کر دیا
اور اُسی غبار میں، عمر گزار دی گئی
ساری حقیقتوں سے ہم، صرفِ نظر کیے رہے
خواب کے اعتبار میں، عمر گزار دی گئی
آیا نہیں خیال تک، شوق کے اختتام کا
خواہشِ بے کنار میں، عمر گزار دی گئی
صحبتِ تازہ کار کی، نغمہ گری تھی رایگاں
شورِ سکوتِ یار میں، عمر گزار دی گئی
وہ جو گیا تو ساتھ ہی، وقت بھی کالعدم ہوا
لمحۂ پُر بہار میں، عمر گزار دی گئی
عرفان ستار

فرد فرد

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

گونجتے ہیں شکیب آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت

ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس

بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو

بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو

ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ

مجھ کو آمادۂِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں

پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں

خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں

ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں

طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ

اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آگئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی

جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی

اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے

سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے

اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے

کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا

تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی

کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

ہم نے جسے آزاد کیا حلقۂِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا

ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا

سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی

یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیب
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے

نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 94
زمیں کے ساتھ میری آنکھ بھی مدار میں ہے
میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے
سفر ہے پیشِ قدم صد ہزار صدیوں کا
تمہاری شہرتِ دو گام کس شمار میں ہے
بندھی ہوئی ہیں اکائی میں کثرتیں ساری
ہر ایک اور کسی اور کے حصار میں ہے
خرد تو آج کا زنداں ہے اس سے باہر بھی
یہ آنکھ وہم و تصور کے اختیار میں ہے
انا کے نشے میں ورنہ خدا ہی بن جاتا
یہی تو جیت ہے جو آدمی کی ہار میں ہے
کبھی جو دھیان میں لاؤں تو ڈگمگا جاؤں
عجیب نشّہ تری آنکھ کے خمار میں ہے
بلا سے، آج کسی نے اگر نہ پہچانا
وُہ دیکھ! کل کا جہاں میرے انتظار میں ہے
آفتاب اقبال شمیم

وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
فیض احمد فیض

بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 69
اب کہیں اور چل اے ناقہ سوار دنیا
بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا
مجھ کو مل جائے اگر سلطنت تکیہ دل
میں تو پل بھر نہ رہوں باج گزار دنیا
بے دلی پھر ہوس تازہ میں ڈھل جاتی ہے
ختم ہونے ہی میں آتا نہیں کار دنیا
اکثر اکثر نظر آجاتا ہے مہتاب کا کھیل
چھپ گیا ہے مری مٹی میں شرار دنیا
ایسا لگتا ہے کہ سینے میں اُٹھی ہے کوئی
آج اسی لہر میں پھینک آتا ہوں بار دنیا
عادت سیر و تماشا نہیں جانے والی
دور سے دیکھتا رہتا ہوں بہار دنیا
عرفان صدیقی

وہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 601
امیدِ وصل ہے جس سے وہ یار کیسا ہے
وہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے
اٹھانیں کیسی ہیں اسکی ، خطوط کیسے ہیں
بدن کا قریۂ نقش و نگار کیسا ہے
ادائیں کیسی ہیں کھانے کی میز پر اس کی
لباس کیسا ہے اْس کا، سنگھار کیسا ہے
وہ کیسے بال جھٹکتی ہے اپنے چہرے سے
لبوں سے پھوٹتے دن کا نکھار کیسا ہے
وہ شاخیں کیسی ہے دامن کے پھول کیسے ہیں
مقامِوصل کا قرب و جوار کیسا ہے
وہ پاؤں گھومتے کیسے ہیں اپنی گلیوں میں
طلسمِ شوق کا پھیلا دیار کیسا ہے
سیاہی گرتی ہے دنیا پہ یا سنہرا پن
وہ زلفیں کیسی ہیں وہ آبشار کیسا ہے
طواف کرتا ہے جس کا یہ کعبہِاعظم
وہ پاک باز ، تہجد گزار کیسا ہے
یہ کس خیال کی مستی ہے میری آنکھوں میں
شراب پی ہی نہیں ہے…خمار کیسا ہے
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر یہ مجھے انتظار کیسا ہے
یہ اجنبی سی محبت کہاں سے آئی ہے
یونہی جو روح سے نکلا ہے ، پیار کیسا ہے
بس ایک سایہ تعاقب میں دیکھتا ہوں میں
کسی کے ہونے کا یہ اعتبار کیسا ہے
وہ پھول جس کی مہک سے مہک رہا ہوں میں
کھلا ہوا کہیں ، دریا کے پار ،کیسا ہے
وہ جس کی نرم تپش سے دھک رہا ہے دل
وہ آسمان کے پیچھے شرار کیسا ہے
یہ آپ دھول اڑاتی ہے کس لئے منزل
یہ راستے پہ مسلسل غبار کیسا ہے
نواحِ جاں میں فقط چاند کی کرن منصور
بدن میں آگ ہے کیسی ، بخار کیسا ہے
منصور آفاق

ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 431
بڑی اداس بڑی بے قرار تنہائی
ذرا سے شہر میں ہے بے شمار تنہائی
مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں
مجھے عزیز مری اشکبار تنہائی
فراق یہ کہ وہ آغوش سے نکل جائے
وصال یہ کرے بوس و کنار تنہائی
پلٹ پلٹ کے مرے پاس آئی وحشت سے
کسی کو دیکھتے ہی بار بار تنہائی
مرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا ہے
میں سوگوار … تو ہے سوگوار تنہائی
کوئی قریب سے گزرے تو جاگ اٹھتی ہے
شبِ سیہ میں مری جاں نثار تنہائی
مجھے ہے خوف کہیں قتل ہی نہ ہو جائے
یہ میرے غم کی فسانہ نگار تنہائی
نواح جاں میں ہمیشہ قیام اس کا تھا
دیارِ غم میں رہی غمگسار تنہائی
ترے علاوہ کوئی اور ہم نفس ہی نہیں
ذرا ذرا مجھے گھر میں گزار تنہائی
یونہی یہ شہر میں کیا سائیں سائیں کرتی ہے
ذرا سے دھیمے سروں میں پکار تنہائی
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر بھی مجھے انتظار، تنہائی
جو وجہ وصل ہوئی سنگسار تنہائی
تھی برگزیدہ ، تہجد گزار تنہائی
مری طرح کوئی تنہا اُدھر بھی رہتا ہے
بڑی جمیل، افق کے بھی پار تنہائی
کسی سوار کی آمد کا خوف ہے، کیا ہے
بڑی سکوت بھری، کوئے دار، تنہائی
دکھا رہی ہے تماشے خیال میں کیا کیا
یہ اضطراب و خلل کا شکار تنہائی
بفیضِ خلق یہی زندگی کی دیوی ہے
کہ آفتاب کا بھی انحصار تنہائی
اگرچہ زعم ہے منصور کو مگر کیسا
تمام تجھ پہ ہے پروردگار تنہائی
منصور آفاق

سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 345
کھلا گیا کوئی آسیب زار کمرے میں
سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں
یہ شیمپین یہ کینڈل یہ بے شکن بستر
پڑا ہوا ہے ترا انتظار کمرے میں
یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے
ذرا ذرا اسے دن بھر گزار کمرے میں
دکھائی دی تھی مجھے ایک بار پرچھائیں
پلٹ پلٹ کے گیا بار بار کمرے میں
جو میں نے کروٹیں قالین پر بچھائی تھیں
وہ کر رہی ہے انہیں بھی شمار کمرے میں
تمام رات تعاقب کریں گی دیواریں
نہیں ہے قید سے ممکن فرار کمرے میں
چھپا رہا تھا کسی سے دھویں میں اپنا آپ
میں پی رہا تھا مسلسل سگار کمرے میں
منصور آفاق

قریب آیا ہے میرے وہ یار تھوڑا سا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 30
ہے اضطراب زیادہ ، قرار تھوڑاسا
قریب آیا ہے میرے وہ یار تھوڑا سا
میں جانتا ہوں کہ مصروف ہے کوئی کچھ دن
مگر یہ ہوتا نہیں انتظار تھوڑا سا
اُسی نے دست درازی کی تیری قدرت پر
جسے بھی تُونے دیا اختیار تھوڑا سا
الرجی ہے نا تجھے خاک کے مسائل سے
تُو آسماں پہ زمانہ گزار تھوڑا سا
اُسی نے روشنی لے کراُسے بجھایا ہے
دئیے نے جس پہ کیا انحصار تھوڑا سا
نمی بھی پونچھ لی قرب و جوارِدیدہ سے
اب اور کیسے کروں اختصار تھوڑا سا
وہ مسکرائی مرے التماس پر منصور
نگارِ شہر ہوا خوشگوار تھوڑا سا
منصور آفاق

بے سدھ پڑا ہوں آخری پتھر بھی مار لو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 90
حسرت ہے جو نکال لو غصہ اتار لو
بے سدھ پڑا ہوں آخری پتھر بھی مار لو
دنیا ہے نام موت کا عقبِ حیات کا
آگے خوشی تمہاری خزاں لو بہار لو
دنیا تو اپنی بات کبھی چھوڑتی نہیں
جس طرح تم گزار سکو دن گزار لو
کچھ دیر اور بزم میں ان کی چلے گی بات
کچھ آ گئے ہیں اور مرے غمگسار لو
لے کر بیاض کیوں نہ پکاروں گلی گلی
میرا لہو خریدو، مرے شاہکار لو
باقیؔ تمہیں حیات کا ساماں تو مل گیا
اک لمحے کی خوشی بھی کسی سے ادھار لو
باقی صدیقی