ٹیگ کے محفوظات: گریباں

سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 56
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
احمد فراز

آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 124
اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے
آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے
دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں
ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے
دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد
پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے
اے چمن والو! جنوں کی عظمت دیکھ لی
اِن گلوں کو واقفِ چاکِ گریباں کر چلے
اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں
اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے
اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا
داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے
قمر جلالوی

کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 84
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ
سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ
صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ
اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی
کشتی کو اب تو چھوڑ دے دے طوفاں کے ساتھ ساتھ
اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری
ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ
جب لطف ہو جنوں تو کہیں زنداں سے لے اڑے
وہ ڈھونڈتے پھریں مجھے درباں کے ساتھ ساتھ
دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیر گر
دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ
تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے
دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ
اہلِ قفس کا اور تو کچھ بس نہ چل سکا
آہیں بھریں نسیمِ گلستاں کے ساتھ ساتھ
دیوانے شاد ہیں کہ وہ آئے ہیں دیکھنے
تقدیر کھل گئے درِ زنداں کے ساتھ ساتھ
واعظ مٹے گا تجھ سے غمِ روزگار کیا
ساغر چلے گا گردشِ دوراں کے ساتھ ساتھ
اک شمع کیا کوئی شبِ فرقت نہیں قمر
تارے بھی چھپ گئے ہیں مہِ تاباں کے ساتھ ساتھ
قمر جلالوی

نہ ہو بلبلِ زار نالاں عبث

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 41
نہ کر فاش رازِ گلستاں عبث
نہ ہو بلبلِ زار نالاں عبث
کفایت تھی مجھ کو تو چینِ جبیں
کیا قتل کا اور ساماں عبث
مقدم ہے ترکِ عدو کی قسم
وگرنہ یہ سب عہد و پیماں عبث
جو آیا ہے وادی میں تو صبر کر
شکایاتِ خارِ مغیلاں عبث
تکبر گدائے خرابات ہے
نہ اے خواجہ کھو جان و ایماں عبث
وہاں صوتِ مینا و آوازِ ساز
خوش آہنگیِ مرغِ شب خواں عبث
وہاں دس بجے دن کو ہوتی ہے صبح
سحر خیزیِ عندلیباں عبث
دمِ خضر ہے چشمۂ زندگی
سکندر سرِ آبِ حیواں عبث
پری کا وہاں مجھ کو سایہ ہوا
نہیں اشتیاقِ دبستاں عبث
طلب گارِ راحت ہیں نا دردمند
اگر درد ہے فکرِ درماں عبث
یہ نازک مزاجوں کا دستور ہے
خشونت سے اندوہِ حرماں عبث
شکایت کو اس نے سنا بھی نہیں
کھلا غیر پر رازِ پنہاں عبث
مرے غم میں گیسوئے مشکیں نہ کھول
نہ ہو خلق کا دشمنِ جاں عبث
محبت جتاتا ہوں ہر طور سے
اثر کی نظر سوئے افغاں عبث
نہ سمجھا کسی نے مجھے گل نہ صبح
ہوا ٹکڑے ٹکڑے گریباں عبث
مجھے یوں بٹھاتے وہ کب بزم میں
اٹھائے رقیبوں نے طوفاں عبث
یہ اندازِ دل کش کہاں شیفتہ
جگر کاویِ مرغِ بستاں عبث
مصطفٰی خان شیفتہ

پنجۂ خور نے کیا چاک گریباں میرا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 6
صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میرا
پنجۂ خور نے کیا چاک گریباں میرا
گرم گرم اس رخِ نازک پہ نظر کی کس نے
رشکِ گل ریز ہے کیوں دیدۂ گریاں میرا
وادیِ نجد کو دلی سے نہ دینا نسبت
ہے وہ مجنوں کا بیاباں، یہ بیاباں میرا
دیکھ کر میری طرف ہنس کے کہا یہ دمِ قتل
آج تو دیکھ لیا آپ نے پیماں میرا
نہ گھر آیا، نہ جنازے پہ، نہ مرقد پہ کبھی
حیف صد حیف نہ نکلا کوئی ارماں میرا
چارہ سازو! کوئی رہتا ہے بجز چاک ہوئے
آپ سو بار سییں، ہے یہ گریباں میرا
آس کی زلفوں کا نہ ہو دھیان تو اے شیفتہ پھر
اس شبِ ہجر میں ہے کون نگہباں میرا
مصطفٰی خان شیفتہ

خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 260
ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عر ضِ یک افغاں ہے
خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے
تکلف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بد خویاں
نگاہِ بے حجابِ ناز تیغِ تیزِ عریاں ہے
ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادی
کہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے
دل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سودا کیا چاہے
کہ اس بازار میں ساغر متاعِ دست گرداں ہے
غم آغوشِ بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
چراغِ روشن اپنا قلزمِصرصر کا مرجاں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 232
یونہی افزائشِ وحشت کےجو ساماں ہوں گے
دل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے
وجہِ مایوسئ عاشق ہے تغافل ان کا
نہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے
دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کو
بے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے
منتشر ہو کے بھی دل جمع رکھیں گے یعنی
ہم بھی اب پیروۓ گیسو ۓ پریشاں ہوں گے
گردشِ بخت نے مایوس کیا ہے لیکن
اب بھی ہر گوشۂ دل میں کئ ارماں ہوں گے
ہے ابھی خوں سے فقط گرمئ ہنگامۂ اشک
پر یہ حالت ہے تو نالے شرر افشاں ہوں گے
باندھ کر عہدِ وفا اتنا تنفّر، ہے ہے
تجھ سے بے مہر کم اے عمرِ گریزاں! ہوں گے
اس قدر بھی دلِ سوزاں کو نہ جان افسردہ
ابھی کچھ داغ تو اے شمع! فروزاں ہوں گے
عہد میں تیرے کہاں گرمئ ہنگامۂ عیش
گل میری قسمت واژونہ پہ خنداں ہوں گے
خوگرِ عیش نہیں ہیں ترے برگشتہ نصیب
اُن کو دشوار ہیں وہ کام جو آساں ہوں گے
موت پھر زیست نہ ہوجاۓ یہ ڈر ہے غالب
وہ مری نعش پہ انگشت بہ دنداں ہوں گے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جوشِ قدح سے بزم چراغاں کئے ہوئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 211
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے
جوشِ قدح سے بزم چراغاں کئے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو
عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کئے ہوئے
پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کئے ہوئے
پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفَس
مدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کئے ہوئے
پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق
سامانِ صد ہزار نمک داں کئے ہوئے
پھر بھر رہا ہوں@ خامۂ مژگاں بہ خونِ دل
سازِ چمن طرازئ داماں کئے ہوئے
باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
نظارہ و خیال کا ساماں کئے ہوئے
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے
پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
عرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کئے ہوئے
دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
صد گلستاں نگاہ کا ساماں کئے ہوئے
پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولنا
جاں نذرِ دلفریبئِ عنواں کئے ہوئے
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کئے ہوئے
چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کئے ہوئے
اک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
چہرہ فروغ مے سے گلستاں کئے ہوئے
پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بارِ منتِ درباں کئے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ@ رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے
غالب ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کئے ہوئے
@نسخۂ مہر میں ” ہے” @ نسخۂ مہر میں ” کہ”
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 122
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی” ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایسا
کہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر
مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلِستاں پر
بجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گا
قیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر
نہ لڑ ناصح سے، غالب، کیا ہوا گر اس نے شدّت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
مرزا اسد اللہ خان غالب

رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 102
وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا
یک الِف بیش نہیں صقیلِ آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
شرحِ اسبابِ گرفتارئِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
عجزسے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہو گا
نبضِ خس سے تپشِ شعلۂ سوزاں سمجھا
سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستان سمجھا
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دمِ مرگ
دفعِ پیکانِ قضا اِس قدر آساں سمجھا
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار، اسدؔ
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 71
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
وائے دیوانگئ شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں@ ہونا
جلوہ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھ
عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذت ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب!
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
@ نسخۂ طاہر میں ” پریشاں”
مرزا اسد اللہ خان غالب

مرا دامن بنے تو باندھ دو گل کے گریباں سے

دیوان سوم غزل 1274
بہار آئی نکالو مت مجھے اب کے گلستاں سے
مرا دامن بنے تو باندھ دو گل کے گریباں سے
نہ ٹک واشد ہوئی دل کو نہ جی کی لاگ کچھ پائی
رہے دس دن جو اپنی عمر کے یاں ہم سو مہماں سے
غم ہجراں نے شاید آگ دی اس ماہ بن دل کو
شرارے تب تو نکلے ہیں ہماری چشم گریاں سے
سبب آشفتہ طبعی کا ہماری رہتے ہیں دونوں
نہ دل جمعی ہے اس کے خط سے نے زلف پریشاں سے
ادھر زنجیر کے غل ہیں ادھر ہنگامے لڑکوں کے
جنوں اس دشت میں ہم نے کیا ہے کیسے ساماں سے
محبت میں کسو کی رنج و محنت سے گئے دونوں
رہی شرمندگی ہی عمر بھر مجھ کو دل و جاں سے
خدا جانے کہ دل کس خانہ آباداں کو دے بیٹھے
کھڑے تھے میر صاحب گھر کے دروازے پہ حیراں سے
میر تقی میر

کیا کروں گر نہ کروں چاک گریباں اپنا

دیوان سوم غزل 1096
ان نے کھینچا ہے مرے ہاتھ سے داماں اپنا
کیا کروں گر نہ کروں چاک گریباں اپنا
بارہا جاں لب جاں بخش سے دی جن نے ہمیں
دشمن جانی ہوا اب وہی جاناں اپنا
خلطے یاد آتے ہیں وے جب کہ بدلتے کپڑے
مجھ کو پہناتے تھے رعنائی کا ساماں اپنا
کیا ہوئی یکجہتی وہ کہ طرف تھے میرے
اب یہ طرفہ ہے کہ منھ کرتے ہیں پنہاں اپنا
جس طرح شاخ پراگندہ نظر آتے ہیں بید
تھا جنوں میں کبھو سر مو سے پریشاں اپنا
مشکلیں سینکڑوں چاہت میں ہمیں آئیں پیش
کام ہو دیکھیے کس طور سے آساں اپنا
دل فقیری سے نہیں میر کسو کا ناساز
خوش ہوا کتنا ہے یہ خانۂ ویراں اپنا
میر تقی میر

مجھ پہ تودہ ہوا ہے طوفاں کا

دیوان سوم غزل 1068
ہوں نشاں کیوں نہ تیر خوباں کا
مجھ پہ تودہ ہوا ہے طوفاں کا
ہاتھ زنجیر ہو جنوں میں رہا
اپنے زنجیرئہ گریباں کا
چپکے دیکھو جھمکتے وے لب سرخ
ذکر یاں کیا ہے لعل و مرجاں کا
ایک رہزن ہے اس کی کافر زلف
غم ہی رہتا ہے دین و ایماں کا
عمر آوارگی میں سب گذری
کچھ ٹھکانا نہیں دل و جاں کا
کافرستاں ہے خال و خط و زلف
وقر کیا ہے دل مسلماں کا
مر گیا میر نالہ کش بیکس
نَے نے ماتم میں اس کے منھ ڈھانکا
میر تقی میر

سر ہمارے ہیں گوے میداں کی

دیوان دوم غزل 951
ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی
سر ہمارے ہیں گوے میداں کی
جی گیا اس کے تیر کے ہمراہ
تھی تواضع ضرور مہماں کی
ہیں لیے آبروے خنجر و تیغ
ترچھی پلکیں تری بھویں بانکی
پھوڑ ڈالیں گے سر ہی اس در پر
منت اٹھتی نہیں ہے درباں کی
سر دامن سے گفتگو کریے
بات بگڑی لب گریباں کی
اس بت شوخ کی ہے طینت میں
دشمنی میرے دین و ایماں کی
آدمی سے ملک کو کیا نسبت
شان ارفع ہے میر انساں کی
میر تقی میر

اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا

دیوان دوم غزل 748
ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا
اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا
ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلاکے نہ ہم
اپنے جامے میں اگر آج گریباں ہوتا
میری زنجیر کی جھنکار نہ کوئی سنتا
شور مجنوں نہ اگر سلسلہ جنباں ہوتا
ہر سحر آئینہ رہتا ہے ترا منھ تکتا
دل کی تقلید نہ کرتا تو نہ حیراں ہوتا
وصل کے دن سے بدل کیونکے شب ہجراں ہو
شاید اس طور میں ایام کا نقصاں ہوتا
طور اپنے پہ جو ہم روتے تو پھر عالم میں
دیکھتے تم کہ وہی نوح کا طوفاں ہوتا
دل میں کیا کیا تھا ہمارے جو نہ ہوجاتی یاس
یہ نگر کاہے کو اس طرح سے ویراں ہوتا
خاک پا ہو کے ترے قد کا چمن میں رہتا
سرو اتنا نہ اکڑتا اگر انساں ہوتا
میر بھی دیر کے لوگوں ہی کی سی کہنے لگا
کچھ خدا لگتی بھی کہتا جو مسلماں ہوتا
میر تقی میر

رگ ابر تھا تارتارگریباں

دیوان اول غزل 318
کیا میں نے رو کر فشارگریباں
رگ ابر تھا تارتارگریباں
کہیں دست چالاک ناخن نہ لاگے
کہ سینہ ہے قرب و جوارگریباں
نشاں اشک خونیں کے اڑتے چلے ہیں
خزاں ہوچلی ہے بہار گریباں
جنوں تیری منت ہے مجھ پر کہ تونے
نہ رکھا مرے سر پہ بارگریباں
زیارت کروں دل سے خستہ جگر کی
کہاں ہو گی یارب مزارگریباں
کہیں جائے یہ دور دامن بھی جلدی
کہ آخر ہوا روزگارگریباں
پھروں میر عریاں نہ دامن کا غم ہو
نہ باقی رہے خارخارگریباں
میر تقی میر

میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا

دیوان اول غزل 116
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا
میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا
جی تو ایسے کئی صدقے کیے تجھ پر لیکن
حیف یہ ہے کہ تنک تو بھی پشیماں نہ ہوا
آہ میں کب کی کہ سرمایۂ دوزخ نہ ہوئی
کون سا اشک مرا منبع طوفاں نہ ہوا
گو توجہ سے زمانے کی جہاں میں مجھ کو
جاہ و ثروت کا میسر سر و ساماں نہ ہوا
شکر صد شکر کہ میں ذلت و خواری کے سبب
کسی عنوان میں ہم چشم عزیزاں نہ ہوا
برق مت خوشے کی اور اپنی بیاں کر صحبت
شکر کر یہ کہ مرا واں دل سوزاں نہ ہوا
دل بے رحم گیا شیخ لیے زیر زمیں
مر گیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا
کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میر
سینۂ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا
میر تقی میر

دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا

دیوان اول غزل 93
میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا
پند گویوں نے بہت سینے کی تدبیریں لیں
آہ ثابت بھی نہ نکلا یہ گریباں یک جا
تیرا کوچہ ہے ستمگار وہ کافر جاگہ
کہ جہاں مارے گئے کتنے مسلماں یک جا
سر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یعنی
جمع ہم نے بھی کیا ہے سر و ساماں یک جا
کیونکے پڑتے ہیں ترے پائوں نسیم سحری
اس کے کوچے میں ہے صد گنج شہیداں یک جا
تو بھی رونے کو ملا دل ہے ہمارا بھی بھرا
ہوجے اے ابر بیابان میں گریاں یک جا
بیٹھ کر میر جہاں خوب نہ رویا ہووے
ایسی کوچے میں نہیں ہے ترے جاناں یک جا
میر تقی میر

قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
گھر کے آتا ہے نظر بے سرو ساماں اپنا
قصرِ بلقیس اِسے سمجھے سلیماں اپنا
نقش پا چھوڑ کے جانے کا کریں وہم، مگر
کہیں لگتا ہی نہیں پائے گریزاں اپنا
کاہے کے ڈھیر سے ہو سکتی ہے شعلے کی نمود
یعنی پستی میں بلندی کا ہے امکاں اپنا
رسمِ دیوانگی اس بار بدل دی جائے
موسمِ حبس میں کر چاک گریباں اپنا
قریۂ شور میں تنہائیاں تاحدِّ اُفق
شہر میں ساتھ رکھا ہم نے بیاباں اپنا
تابِ یک شعر سے ہے بزمِ تمنا کو فروغ
ہم نے بجھنے نہ دیا اشکِ فروزاں اپنا
آفتاب اقبال شمیم

اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے
دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے
دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں
کوئی مضموں کسی عنواں نہیں کرنے دیتے
جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے
اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے
فیض احمد فیض

وہی چہرے تھے مرے دیدہ حیراں والے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 276
رات پھر جمع ہوئے شہر گریزاں والے
وہی چہرے تھے مرے دیدہ حیراں والے
سارے آشفتہ سراں اُن کے تعاقب میں رواں
وحشتیں کرتے ہوئے چشم غزالاں والے
چاند تاروں کی رداؤں میں چھپائے ہوئے جسم
اور انداز وہی خنجر عریاں والے
پاسداروں کا سرا پردۂ دولت پہ ہجوم
سلسلے چھت کی فصیلوں پہ چراغاں والے
نارسائی پہ بھی وہ لوگ سمجھتے تھے کہ ہم
شہر بلقیس میں ہیں ملک سلیماں والے
پھر کچھ اس طرح پڑے حلقہ زنجیر میں پاؤں
سب جنوں بھول گئے دشت و بیاباں والے
میں بھی اک شام ملاقات کا مارا ہوا ہوں
مجھ سے کیا پوچھتے ہیں وادئ ہجراں والے
اَب اُنہیں ڈُھونڈ رہا ہوں جو صدا دیتے تھے
’’اِدھر آبے ابے او چاک گریباں والے‘‘
عرفان صدیقی

کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 266
صحبتِ قوسِ قزح کا کوئی امکاں جاناں
کوئی دلچسپی، کوئی ربطِ دل و جاں جاناں
میرے اندازِ ملاقات پہ ناراض نہ ہو
مجھ پہ گزرا ہے ابھی موسمِ ہجراں جاناں
جو مرے نام کو دنیا میں لیے پھرتے ہیں
تیری بخشش ہیں یہ اوراقِ پریشاں جاناں
آ مرے درد کے پہلو میں دھڑک کہ مجھ میں
بجھتی جاتی ہے تری یادِ فروزاں جاناں
تیری کھڑکی کہ کئی دن سے مقفل مجھ پر
جیسے کھلتا نہیں دروازئہ زنداں جاناں
تیری گلیاں ہیں ترا شہر ہے تیرا کوچہ
میں ، مرے ساتھ ترا وعدہ و پیماں جاناں
پھر کوئی نظم لٹکتی ہے ترے کعبہ پر
پھر مرے صبر کی بے چارگی عنواں جاناں
ہجر کا ایک تعلق ہے اسے رہنے دے
میرے پہلو میں تری یاد ہراساں جاناں
ہم فرشتوں کی طرح گھر میں نہیں رہ سکتے
ہاں ضروری ہے بہت رشتہء انساں جاناں
زخم آیا تھا کسی اور کی جانب سے مگر
میں نے جو غور کیا تیرا تھا احساں جاناں
اس تعلق میں کئی موڑ بڑے نازک ہیں
اور ہم دونوں ابھی تھوڑے سے ناداں جاناں
دشت میں بھی مجھے خوشبو سے معطر رکھے
دائم آباد رہے تیرا گلستاں جاناں
ویسا الماری میں لٹکا ہے عروسی ملبوس
بس اسی طرح پڑا ہے ترا ساماں جاناں
مجھ کو غالب نے کہا رات فلک سے آ کر
تم بھی تصویر کے پردے میں ہو عریاں جاناں
وہ جو رُوٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے ہیں
بس وہی شعرِ فراز اپنا دبستاں جاناں
روشنی دل کی پہنچ پائی نہ گھر تک تیرے
میں نے پلکوں پہ کیا کتنا چراغاں جاناں
کیا کہوں ہجر کہاں وصل کہاں ہے مجھ میں
ایک جیسے ہیں یہاں شہر و بیاباں جاناں
چھت پہ چڑھ کے میں تمہیں دیکھ لیا کرتا تھا
تم نظر آتی تھی بچپن سے نمایاں جاناں
اک ذرا ٹھہر کہ منظر کو گرفتار کروں
کیمرہ لائے ابھی دیدئہ حیراں جاناں
مانگ کر لائے ہیں آنسو مری چشمِ نم سے
یہ جو بادل ہیں ترے شہر کے مہماں جاناں
لڑکیاں فین ہیں میری انہیں دشنام نہ دے
تتلیاں پھول سے کیسے ہوں گریزاں جاناں
آگ سے لختِ جگر اترے ہیں تازہ تازہ
خانہء دل میں ہے پھر دعوتِ مژگاں جاناں
زخم در زخم لگیں دل کی نمائش گاہیں
اور ہر ہاتھ میں ہے ایک نمکداں جاناں
تھم نہیں سکتے بجز تیرے کرم کے، مجھ میں
کروٹیں لیتے ہوئے درد کے طوفاں جاناں
بلب جلتے رہیں نیلاہٹیں پھیلاتے ہوئے
میرے کمرے میں رہے تیرا شبستاں جاناں
رات ہوتے ہی اترتا ہے نظر پر میری
تیری کھڑکی سے کوئی مہرِ درخشاں جاناں
تُو کہیں بستر کمخواب پہ لیٹی ہو گی
پھر رہا ہوں میں کہیں چاک گریباں جاناں
نذرِ احمد فراز
منصور آفاق

پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 42
پیڑ پر شام کھلی، شاخ سے ہجراں نکلا
پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا
رات نکلی ہیں پرانی کئی چیزیں اس کی
اور کچھ خواب کے کمرے سے بھی ساماں نکلا
نقش پا دشت میں ہیں میرے علاوہ کس کے
کیا کوئی شہر سے پھر چاک گریباں نکلا
خال و خد اتنے مکمل تھے کسی چہرے کے
رنگ بھی پیکرِ تصویر سے حیراں نکلا
لے گیا چھین کے ہر شخص کا ملبوس مگر
والیء شہر پناہ ، بام پہ عریاں نکلا
صبح ہوتے ہی نکل آئے گھروں سے پھر لوگ
جانے کس کھوج میں پھر شہرِ پریشاں نکلا
وہ جسے رکھا ہے سینے میں چھپا کر میں نے
اک وہی آدمی بس مجھ سے گریزاں نکلا
زخمِ دل بھرنے کی صورت نہیں کوئی لیکن
چاکِ دامن کے رفو کا ذرا امکاں نکلا
تیرے آنے سے کوئی شہر بسا ہے دل میں
یہ خرابہ تو مری جان ! گلستاں نکلا
زخم کیا داد وہاں تنگیء دل کی دیتا
تیر خود دامنِ ترکش سے پُر افشاں نکلا
رتجگے اوڑھ کے گلیوں کو پہن کے منصور
جو شبِ تار سے نکلا وہ فروزاں نکلا
منصور آفاق

آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 8
رو برو آئینے کے، تو جو مری جاں ہو گا
آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
اے جوانی، یہ ترے دم کے ہیں، سارے جھگڑے
تو نہ ہو گی، تو نہ یہ دل ، نہ یہ ارماں ہو گا
دستِ وحشت تو سلامت ہے، رفو ہونے دو
ایک جھٹکے میں نہ دامن نہ گریباں ہو گا
آگ دل میں جو لگی تھی، وہ بجھائی نہ گئی
اور کیا تجھ سے، پھر اے دیدۂ گریاں ہو گا
اپنے مرنے کا تو کچھ غم نہیں، یہ غم ہے، امیر
چارہ گر مفت میں بیچارہ پشیماں ہو گا
امیر مینائی