ٹیگ کے محفوظات: گرنا

یہ سب تو ہونا ہی تھا

میں بھٹکا، بھُولا ہی تھا
یہ سب تو ہونا ہی تھا
میں بھٹکا بھولا ہی سہی
پر کیا وہ رستہ ہی تھا؟
ہم سے دوست سلوک ترا
کیا کہتے!۔۔۔ اچھا ہی تھا
یہ جو پل گزرا ہے ابھی
کیا گزرا پورا ہی تھا؟
توڑ دیا کس نے اس کو؟
غنچہ ابھی چٹخا ہی تھا
اتنا وزن تھا پھولوں کا
ڈال نے تو جھکنا ہی تھا
دردِ دل! اے دردِ عزیز!
تو کیا درد مرا ہی تھا؟
جو بھی اس نے ہم کو دیا
واپس تو لینا ہی تھا
روشنیاں کب تک رہتیں
سورج تھا! ڈھلنا ہی تھا
ڈوبتے سورج سے میرا
روز کا سمجھوتا ہی تھا
کرتا تھا میں خود پہ ستم
اور کرتا بے جا ہی تھا
ہر اک رستہ تھا صحرا!!
صحرا تھا!!! صحرا ہی تھا
آنکھوں میں کب تک رہتا
آنسو تھا، گرنا ہی تھا
یہ جو آخری آنسو گرا
یوں سمجھو، پہلا ہی تھا
یاؔور جیسے کتنے ہیں
جونؔ مگر یکتا ہی تھا
یاور ماجد

میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 281
زمانے سے بچھڑنا چاہتا ہوں
میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں
مقام صفر سے ملنے کی خاطر
کسی ٹاور سے گرنا چاہتا ہوں
لہومیں کالے کتے بھونکتے ہیں
کسی کے ساتھ سونا چاہتا ہوں
یہ کیوں پستی سے کرتا ہے محبت
میں پانی کو سمجھنا چاہتا ہوں
کبھی وحشی مسائل سے نکل کر
تجھے کچھ دیر رونا چاہتا ہوں
ذرا اونچی کرو آواز اس کی
ہوا کی بات سننا چاہتا ہوں
میں ہلکی ہلکی نیلی روشنی میں
بدن کا بورڈ پڑھنا چاہتا ہوں
پڑا ہوں بند اپنی ڈائری میں
کہیں پہ میں بھی کھلنا چاہتا ہوں
ازل سے پاؤں میں ہے ریل گاڑی
کہیں منصور رکنا چاہتا ہوں
منصور آفاق