ٹیگ کے محفوظات: گرفتار

لطف مشکل ہی سے پاؤ گے یہ دو چار کے پاس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
جتنا کچھ بھی ہے ہمارے لب اظہار کے پاس
لطف مشکل ہی سے پاؤ گے یہ دو چار کے پاس
ہم کہ آدابِ جنوں سے بھی تھے واقف لیکن
کیوں کھڑے رہ گئے اُس شوخ کی دیوار کے پاس
وہ بھی محتاجِ سکوں ہے اُسے کیا عرض کروں
کیا ہے جُز حرفِ تسلی مرے غمخوار کے پاس
مان لیتے ہیں کہ دیوارِ قفس سخت سہی
سر تو تھا پھوڑنے کو مرغِ گرفتار کے پاس
تھے کبھی برگ و ثمر پوشش گلشن ماجدؔ
پیرہن گرد کا اب رہ گیا اشجار کے پاس
ماجد صدیقی

کسے کسے ہے یہ آزار چل کے دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 77
چلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیں
کسے کسے ہے یہ آزار چل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ اس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں
ہم اپنے بت کو، زلیخا لیے ہے یوسف کو
ہے کون رونق بازار چل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دیر و حرم میں تو وہ نہیں‌ملتا
سو اب کے اس کو سرِ دار چل کے دیکھتے ہیں
اس ایک شخص کو دیکھو تو آنکھ بھرتی نہیں
اس ایک شخص کو ہر بار چل کے دیکھتے ہیں
وہ میرے گھر کا کرے قصد جب تو سائے سے
کئی قدم در و دیوار چل کے دیکھتے ہیں
فراز اسیر ہے اس کا کہ وہ فراز کا ہے
ہے کون کس کا گرفتار؟ چل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 69
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں
آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں
اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چپ ہیں
یہ برق نشیمن پہ گری تھی کہ قفس پر
مرغان گرفتار بڑی دیر سے چپ ہیں
اس شہر میں ہر جنس بنی یوسف کنعاں
بازار کے بازار بڑی دیر سے چپ ہیں
پھر نعرۂ مستانہ فراز آؤ لگائیں
اہل رسن و دار بڑی دیر سے چپ ہیں
احمد فراز

گرچہ کہتے رہے مجھ سے میرے غم خوار کہ بس

احمد فراز ۔ غزل نمبر 37
چشم گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس
گرچہ کہتے رہے مجھ سے میرے غم خوار کہ بس
گھر تو کیا گھر کی شباہت بھی نہیں ہے باقی
ایسے ویران ہوئے ہیں در و دیوار کہ بس
زندگی تھی کہ قیامت تھی کہ فرقت تیری
ایک اک سانس نے وہ وہ دیئے آزار کہ بس
اس سے پہلے بھی محبت کا قرینہ تھا یہی
ایسے بے حال ہوئے ہیں مگر اس بار کہ بس
اب وہ پہلے سے بلا نوش و سیہ مست کہاں
اب تو ساقی سے یہ کہتے ہیں قدح خوار کہ بس
لوگ کہتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فراز
ایسے ایسے ہیں محبت میں گرفتار کہ بس
احمد فراز

غش آ گیا مجھے انہیں ہشیار دیکھ کر

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 50
تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کر
غش آ گیا مجھے انہیں ہشیار دیکھ کر
کچھ بیمِ قتل سے نہیں آنکھوں میں اشکِ سُرخ
کھاتا ہے جوش خوں تری تلوار دیکھ کر
جاتے ہیں اور منع کی طاقت نہیں ، مگر
رہ جائیں آپ وہ مجھے ناچار دیکھ کر
پردہ کسی کا یاد، نہ بے پردگی ہے یاد
غش ہو گیا میں کعبے کے استار دیکھ کر
سرخیلِ عاشقاں مجھے کہتے ہیں بوالہوس
عاشق کا اس کو مائلِ آزار دیکھ کر
آتی ہیں یاد کاکل و دل کی حکایتیں
روتا ہوں دام و مرغِ گرفتار دیکھ کر
کیا بن گیا ہوں صورتِ دیوار دیکھنا
صورت کسی کی میں سرِ دیوار دیکھ کر
رحم ایسی سادگی پہ ستم گر ضرور ہے
عاشق ہوئے ہیں ہم تجھے پُرکار دیکھ کر
کم رغبتی سے لیتے ہیں دل، ہوشیار ہیں
بڑھتا ہے مول شوقِ خریدار دیکھ کر
کہتا تھا وقت مرگ کے ہر اک سے شیفتہ
دینا کسی کو دل تو وفادار دیکھ کر
مصطفٰی خان شیفتہ

وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 27
کس نے کہا کہ داغ وفا دار مر گیا
وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا
دام بلائے عشق کی وہ کشمکش رہی
ایک اک پھڑک پھڑک کے گرفتار مر گیا
آنکھیں کھلی ہوئی پس مرگ اس لئے
جانے کوئی کہ طالب دیدار مر گیا
جس سے کیا ہے آپ نے اقرار جی گیا
جس نے سنا ہے آپ سے انکار مر گیا
کس بیکسی سے داغ نے افسوس جان دی
پڑھ کر ترے فراق کے اشعار مر گیا
داغ دہلوی

یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 183
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
یعنی ہمارے@ جیب میں اک تار بھی نہیں
دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکے
دیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
بے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
طاقت بہ قدرِلذّتِ آزار بھی نہیں
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
گنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرف
یاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہیں
ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مان
آخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں
دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے روکشی
حالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں
اس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
@ جَیب، جیم پر فتح (زبر) مذکّر ہے، بمعنی گریبان۔ اردو میں جیب، جیم پر کسرہ (زیر) کے ساتھ، بمعنی کیسہ (Pocket) استعمال میں زیادہ ہے، یہ لفظ مؤنث ہےاس باعث اکثر نسخوں میں ’ہماری‘ ہے۔ قدیم املا میں یائے معروف ہی یائے مجہول (بڑی ے)کی جگہ بھی استعمال کی جاتی تھی اس لئے یہ غلط فہمی مزید بڑھ گئی۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہے حیا مانعِ اظہار، کہوں یا نہ کہوں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 164
اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں
ہے حیا مانعِ اظہار، کہوں یا نہ کہوں
نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہر
میں بھی ہوں واقفِ اسرار، کہوں یا نہ کہوں
شکوہ سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
اپنی ہستی سے ہوں بیزار، کہوں یا نہ کہوں
اپنے دل ہی سے میں احوالِ گرفتارئِ دل
جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
دل کے ہاتھوں سے، کہ ہے دشمنِ جانی اپنا
ہوں اک آفت میں گرفتار، کہوں یا نہ کہوں
میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غمّاز
گوش ہیں در پسِ دیوار کہوں یا نہ کہوں
آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
حسبِ حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
مرزا اسد اللہ خان غالب

کھِل گئی ماندِ گلُ سوَ جا سے دیوارِ چمن

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 137
برشکالِ@ گریۂ عاشق ہے@ دیکھا چاہئے
کھِل گئی ماندِ گلُ سوَ جا سے دیوارِ چمن
اُلفتِ گل سے غلط ہے دعوئ وارستگی
سرو ہے باوصفِ آزادی گرفتارِ چمن
ہے نزاکت بس کہ فصلِ گل میں معمارِ چمن
قالبِ گل میں ڈھلی ہے خشتِ دیوارِ چمن
@ ’طباطبائ میں ہے کی جگہ ’بھی‘ ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم

دیوان ششم غزل 1839
کڑھتے جو رہے ہجر میں بیمار ہوئے ہم
بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم
بہلانے کو دل باغ میں آئے تھے سو بلبل
چلانے لگی ایسے کہ بیزار ہوئے ہم
جلتے ہیں کھڑے دھوپ میں جب جاتے ہیں اودھر
عاشق نہ ہوئے اس کے گنہگار ہوئے ہم
اک عمر دعا کرتے رہے یار کو دن رات
دشنام کے اب اس کے سزاوار ہوئے ہم
ہم دام بہت وحشی طبیعت تھے اٹھے سب
تھی چوٹ جو دل پر سو گرفتار ہوئے ہم
چیتے ہوئے لوگوں کی بھلی یا بری گذری
افسوس بہت دیر خبردار ہوئے ہم
کیا کیا متمول گئے بک دیکھتے جس پر
بیعانگی میں اس کے خریدار ہوئے ہم
کچھ پاس نہیں یاری کا ان خوش پسروں کو
اس دشمن جانہا سے عبث یار ہوئے ہم
گھٹ گھٹ کے جہاں میں رہے جب میر سے مرتے
تب یاں کے کچھ اک واقف اسرار ہوئے ہم
میر تقی میر

وہ بیچتا رہے گا خریدار کب تلک

دیوان ششم غزل 1833
اس کی رہے گی گرمی بازار کب تلک
وہ بیچتا رہے گا خریدار کب تلک
عہد و وعید حشر قیامت ہے دیکھیے
جیتے رہیں گے طالب دیدار کب تلک
دل کا جگر کا لوہو تو غم نے سکھا دیا
آنکھیں رہیں گی دیکھیے خونبار کب تلک
نسبت بہت گناہوں کی کرتا ہے اس طرف
بے جرم ہم رہیں گے گنہگار کب تلک
اس کی نگاہ مست ہے اکثر سوے رباط
صوفی رہیں گے حال سے ہشیار کب تلک
دیوار و در بڑے تھے جہاں واں نشاں نہیں
یاں خانوادوں کے رہیں آثار کب تلک
مہمان کوئی دن کا ہے وارفتہ عشق کا
ظاہر ہے حال سے کہ یہ بیمار کب تلک
ترسا کے مارنے میں عذاب شدید ہے
اک کھینچ کر نہ ماروگے تلوار کب تلک
صیاد اسیر کرکے جسے اٹھ گیا ہو میر
وہ دام کی شکن میں گرفتار کب تلک
میر تقی میر

اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا

دیوان ششم غزل 1805
جس ستم دیدہ کو اس عشق کا آزار ہوا
اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا
روز بازار میں عالم کے عجب شے ہے حسن
بک گیا آپ ہی جو اس کا خریدار ہوا
دھوپ میں آگے کھڑا اس کے جلا کرتا ہوں
چاہ کر اس کے تئیں میں تو گنہگار ہوا
ہوش کچھ جن کے سروں میں تھا شتابی چیتے
حیف صد حیف کہ میں دیر خبردار ہوا
ہو بخود تو کسو کو ڈھونڈ نکالے کوئی
وہی خود گم ہوا جو اس کا طلبگار ہوا
مرغ دل کی ہے رہائی سے مرا دل اب جمع
پرشکن بالوں میں وہ اس کے گرفتار ہوا
پیار کی دیکھی جو چتون کسو کی میں جانا
کہ یہ اب سادہ و پرکار مرا یار ہوا
تکیہ اس پر جو کیا تھا سو گرا بستر پر
یعنی میں شوق کے افراط سے بیمار ہوا
کیونکے سب عمر صعوبت میں کٹی تیری میر
اپنا جینا تو کوئی دن ہمیں دشوار ہوا
میر تقی میر

دوچار دن میں برسوں کا بیمار ہو گیا

دیوان ششم غزل 1794
جس رفتنی کو عشق کا آزار ہو گیا
دوچار دن میں برسوں کا بیمار ہو گیا
نسبت بہت گناہوں کی میری طرف ہوئی
ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا
حیرت زدہ میں عشق کے کاموں کا یار کے
دروازے پر کھڑے کھڑے دیوار ہو گیا
پھیلے شگاف سینے کے اطراف درد سے
کوچہ ہر ایک زخم کا بازار ہو گیا
بازار میں جہان کے ہے حسن کیا متاع
سو جی سے جس نے دیکھا خریدار ہو گیا
دل لے کے میری جان کا دشمن ہوا ندان
جس بے وفا سے اپنے تئیں پیار ہو گیا
عاشق کو اس کی تیغ سے ہے لاگ کھنچتے ہی
یہ کشتنی بھی مرنے کو تیار ہو گیا
مرتے موا رہا نہ ہوا تنگ ہی رہا
پھندے میں عشق کے جو گرفتار ہو گیا
کیا جرم تھا کسو پہ نہ معلوم کچھ ہوا
جو میر کشت و خوں کا سزاوار ہو گیا
میر تقی میر

دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز

دیوان پنجم غزل 1627
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوز
دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز
وہ مہ چاردہ اس شہر سے کب کا نکلا
ہر گلی جھانکتے پھرتے ہیں طلبگار ہنوز
بالا بالا ہی بہت عشق میں مارے گئے یار
وہ تہ دل سے کسو کا نہ ہوا یار ہنوز
سال میں ابر بہاری کہیں آ کر برسا
لوہو برسا رہے ہیں دیدۂ خونبار ہنوز
اب کے بالیدن گلہا تھا بہت دیکھو نہ میر
ہمسر لالہ ہے خار سر دیوار ہنوز
میر تقی میر

سہل آگے اس کے مردن دشوار ہو گیا

دیوان پنجم غزل 1552
ناگاہ جس کو عشق کا آزار ہو گیا
سہل آگے اس کے مردن دشوار ہو گیا
ہے حسن کیا متاع کہ جس کو نظر پڑی
وہ جان بیچ کر بھی خریدار ہو گیا
برسوں تئیں جہان میں کیوں کر رہا ہے خضر
میں چار دن میں جینے سے بیزار ہو گیا
ہم بستری بن اس کی میں صاحب فراش ہوں
ہجراں میں کڑھتے کڑھتے ہی بیمار ہو گیا
ہم دام تھے سو چھٹ گئے سب دام کے اٹھے
تھی دل کو میرے چوٹ گرفتار ہو گیا
اس کی نگاہ مست کا کھایا ہی تھا فریب
پر شیخ طرز دیکھ کے ہشیار ہو گیا
کیا متقی تھا میر پر آئین عشق میں
مجرم سا کشت و خوں کا سزاوار ہو گیا
میر تقی میر

کچھ چیز مال ہو تو خریدار ہو کوئی

دیوان چہارم غزل 1496
دنیا کی قدر کیا جو طلبگار ہو کوئی
کچھ چیز مال ہو تو خریدار ہو کوئی
کیا ابررحمت اب کے برستا ہے لطف سے
طاعت گزیں جو ہو سو گنہگار ہو کوئی
کیا ضعف تن میں ہے جگر و دل دماغ بن
پوچھے جو اس قشون میں سردار ہو کوئی
ہم عاشقان زرد و زبون و نزار سے
مت کر ادائیں ایسی کہ بیزار ہو کوئی
چپکے ہیں ہم تو حیرت حالات عشق سے
کریے بیاں جو واقف اسرار ہو کوئی
یکساں ہوئے ہیں خاک سے پامال ہو کے ہم
کیا اور اس کی راہ میں ہموار ہو کوئی
وہ رہ سکے ہے دل زدہ کچھ منتظر کھڑا
حیرت سے اس کے در پہ جو دیوار ہو کوئی
اک نسخۂ عجیب ہے لڑکا طبیب کا
کچھ غم نہیں ہے اس کو جو بیمار ہو کوئی
کیا اضطراب دل سے کہے میر سرعشق
یہ حال سمجھے وہ جو گرفتار ہو کوئی
میر تقی میر

دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ

دیوان چہارم غزل 1422
اس رنگ سے جو زرد زبوں زار ہیں ہم لوگ
دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ
کیا اپنے تئیں پستی بلندی سے جہاں کی
اب خاک برابر ہوئے ہموار ہیں ہم لوگ
مقصود تو حاصل ہے طلب شرط پڑی ہے
وہ مطلب عمدہ ہے طلبگار ہیں ہم لوگ
خوں ریز ہی لڑکوں سے لڑا رہتے ہیں آنکھیں
گر قتل کریں ہم کو سزاوار ہیں ہم لوگ
دل پھنس رہے ہیں دام میں زلفوں کے کسو کی
تنگ اپنے جیوں سے ہیں گرفتار ہیں ہم لوگ
بازار کی بھی جنس پہ جی دیتے ہیں عاشق
سر بیچتے پھرتے ہیں خریدار ہیں ہم لوگ
ان پریوں سے لڑکوں ہی کے جھپٹے میں دل آئے
بے ہوش و خرد جیسے پریدار ہیں ہم لوگ
در پر کسو کے جا کے کھڑے ہوں تو کھڑے ہیں
حیرت زدئہ عشق ہیں دیوار ہیں ہم لوگ
جاتے ہیں چلے قافلہ در قافلہ اس راہ
چلنے میں تردد نہیں تیار ہیں ہم لوگ
مارے ہی پڑیں کچھ کہیں عشاق تو شاید
حیرت سے ہیں چپ تس پہ گنہگار ہیں ہم لوگ
گو نیچی نظر میر کی ہو آنکھیں تو ٹک دیکھ
کیا دل زدگاں سادہ میں پرکار ہیں ہم لوگ
میر تقی میر

مشکل کریں ہیں جیسے گرفتار باش و بود

دیوان چہارم غزل 1379
کب سے ہے باغ کے پس دیوار باش و بود
مشکل کریں ہیں جیسے گرفتار باش و بود
دنیا میں اپنے رہنے کا کیا طور ہم کہیں
زنداں میں جوں کریں ہیں گنہگار باش و بود
بے یار کس کا جینے کو جی چاہتا ہے میر
کرتے ہیں ہم ستم زدہ ناچار باش و بود
میر تقی میر

ہوتے ہیں ہم ستم زدہ بیمار ہر طرح

دیوان چہارم غزل 1376
پہنچے ہے ہم کو عشق میں آزار ہر طرح
ہوتے ہیں ہم ستم زدہ بیمار ہر طرح
ترکیب و طرح ناز و ادا سب سے دل لگی
اس طرح دار کے ہیں گرفتار ہر طرح
یوسف کی اس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
ایسی متاع جاتی ہے بازار ہر طرح
جس طرح میں دکھائی دیا اس سے لگ پڑے
ہم کشت و خوں کے ہیں گے سزاوار ہر طرح
چھپ لک کے بام و در سے گلی کوچے میں سے میر
میں دیکھ لوں ہوں یار کو اک بار ہر طرح
میر تقی میر

اب دیکھوں مجھے کس کا گرفتار کرے ہے

دیوان سوم غزل 1293
بیتابی جو دل ہر گھڑی اظہار کرے ہے
اب دیکھوں مجھے کس کا گرفتار کرے ہے
کچھ میں بھی عجب جنس ہوں بازار جہاں میں
سو ناز مجھے لیتے خریدار کرے ہے
ہے اشک سے بلبل کے بھرا چقروں میں پانی
گل باغ سے کیا رخت سفر بار کرے ہے
اس چاہ نے دل ہی کی تو بیمار کیے ہیں
یہ دوستی ہی ہے جو گرفتار کرے ہے
آگے تو جو کچھ ہم نے کہا مان لیا اب
ایک ایک سخن پر بھی وہ تکرار کرے ہے
زنہار نہ جا پرورش دور زماں پر
مرنے کے لیے لوگوں کو تیار کرے ہے
کیا عشق میں ہم اس کے ہوئے خاک برابر
کب اپنے تئیں یوں کوئی ہموار کرے ہے
تصویر سے دروازے پہ ہم اس کے کھڑے ہیں
انسان کو حیرانی بھی دیوار کرے ہے
کیوں کر نہ ہو تم میر کے آزار کے درپے
یہ جرم ہے اس کا کہ تمھیں پیار کرے ہے
میر تقی میر

عاشق کہاں ہوئے کہ گنہگار ہم ہوئے

دیوان سوم غزل 1271
شائستۂ غم و ستم یار ہم ہوئے
عاشق کہاں ہوئے کہ گنہگار ہم ہوئے
کی عرض جو متاع امانت ازل کے بیچ
سب اور لے سکے نہ خریدار ہم ہوئے
جی کھنچ گیا اسیرقفس کی فغاں کی اور
تھی چوٹ اپنے دل کو گرفتار ہم ہوئے
پامال یوں کیا کہ برابر ہیں خاک کے
کیا ظلم ہو گیا جو طلبگار ہم ہوئے
ہوتا نہیں ہے بے خبری کا مآل خوب
افسوس ہے کہ دیر خبردار ہم ہوئے
وصل اس طبیب زادے کا جی چاہتا رہا
آخر اس آرزو ہی میں بیمار ہم ہوئے
پھل ہے یہ میر عشق کا اس نوبہار کے
آخر جو کشت و خوں کے سزاوار ہم ہوئے
میر تقی میر

ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو

دیوان سوم غزل 1223
یہ سرا سونے کی جاگہ نہیں بیدار رہو
ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو
آپ تو ایسے بنے اب کہ جلے جی سب کا
ہم کو کہتے ہیں کہ تم جی کے تئیں مار رہو
لاگ اگر دل کو نہیں لطف نہیں جینے کا
الجھے سلجھے کسو کاکل کے گرفتار رہو
گرچہ وہ گوہرتر ہاتھ نہیں لگتا لیک
دم میں دم جب تئیں ہے اس کے طلبگار رہو
سارے بازار جہاں کا ہے یہی مول اے میر
جان کو بیچ کے بھی دل کے خریدار رہو
میر تقی میر

سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں

دیوان سوم غزل 1194
تھا شوق مجھے طالب دیدار ہوا میں
سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں
جب دور گیا قافلہ تب چشم ہوئی باز
کیا پوچھتے ہو دیر خبردار ہوا میں
اب پست و بلند ایک ہے جوں نقش قدم یاں
پامال ہوا خوب تو ہموار ہوا میں
کب ناز سے شمشیر ستم ان نے نہ کھینچی
کب ذوق سے مرنے کو نہ تیار ہوا میں
بازار وفا میں سرسودا تھا سبھوں کو
پر بیچ کے جی ایک خریدار ہوا میں
ہشیار تھے سب دام میں آئے نہ ہم آواز
تھی رفتگی سی مجھ کو گرفتار ہوا میں
کیا چیتنے کا فائدہ جو شیب میں چیتا
سونے کا سماں آیا تو بیدار ہوا میں
تم اپنی کہو عشق میں کیا پوچھو ہو میری
عزت گئی رسوائی ہوئی خوار ہوا میں
اس نرگس مستانہ کو دیکھے ہوئے برسوں
افراط سے اندوہ کی بیمار ہوا میں
رہتا ہوں سدا مرنے کے نزدیک ہی اب میر
اس جان کے دشمن سے بھلا یار ہوا میں
میر تقی میر

وے بہا سہل جو دیتے ہیں خریدار نہیں

دیوان سوم غزل 1192
دل عجب جنس گراں قدر ہے بازار نہیں
وے بہا سہل جو دیتے ہیں خریدار نہیں
کچھ تمھیں ملنے سے بیزار ہو میرے ورنہ
دوستی ننگ نہیں عیب نہیں عار نہیں
ایک دو بات کبھو ہم سے کہو یا نہ کہو
قدر کیا اپنی ہمیں اس لیے تکرار نہیں
ناز و انداز و ادا عشوہ و اغماض و حیا
آب و گل میں ترے سب کچھ ہے یہی پیار نہیں
صورت آئینے میں ٹک دیکھ تو کیا صورت ہے
بدزبانی تجھے اس منھ پہ سزاوار نہیں
دل کے الجھائو کو کیا تجھ سے کہوں اے ناصح
تو کسو زلف کے پھندے میں گرفتار نہیں
اس کے کاکل کی پہیلی کہو تم بوجھے میر
کیا ہے زنجیر نہیں دام نہیں مار نہیں
میر تقی میر

رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں

دیوان دوم غزل 894
جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں
رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں
برپا ہوا ہجوم سے اک حشر تازہ واں
آیا جہاں کہیں قدم یار درمیاں
اس کام جاں میں ہم میں ہوا ہے حجاب چشم
یوں رہیے آہ کب تئیں دیوار درمیاں
سو بار اس سے فتنے جہاں میں اٹھے ولے
دیکھی نہ ہم نے وہ کمر اک بار درمیاں
کیا کہیے آہ جی کو قیامت ہے انتظار
آتا نہ کاش وعدئہ دیدار درمیاں
رکھ دی ہے کتنے روزوں سے تلوار یار نے
کوئی نہیں ہے خوں کا سزاوار درمیاں
ثابت ہے ساری خلق کے اوپر کہ تو ہے ایک
حاجت نہیں جو آوے یہ تکرار درمیاں
آیا کیے دماغ کے اعضا میں یہ فتور
ٹھہرے قشون کیا نہیں سردار درمیاں
بازار میں دکھائی ہے کب ان نے جنس حسن
جو بک نہیں گئے ہیں خریدار درمیاں
دیکھیں چمن جو سینۂ پر داغ سے بڑھیں
بیداد ہے یہ قطعۂ گلزار درمیاں
کھنچنے نہ پائی اس کی تو تلوار بھیڑ میں
مارا گیا عبث یہ گنہگار درمیاں
اب کے جنوں کے بیچ گریباں کا ذکر کیا
کہیے بھی جو رہا ہو کوئی تار درمیاں
کتنے دنوں سے میر کا نالہ نہیں سنا
شاید نہیں ہے اب وہ گرفتار درمیاں
میر تقی میر

جی لیے ان نے ہزاروں کے یوں ہی پیار کے بیچ

دیوان دوم غزل 792
آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ
جی لیے ان نے ہزاروں کے یوں ہی پیار کے بیچ
حیف وہ کشتہ کہ سو رنج سے آوے تجھ تک
اور رہ جائے تری ایک ہی تلوار کے بیچ
گرچہ چھپتی نہیں ہے چاہ پہ رہ منکر پاک
جی ہی دینا پڑے ہے عشق کے اقرار کے بیچ
نالہ شب آوے قفس سے تو گل اب اس پہ نہ جا
یہی ہنکار سی ہے مرغ گرفتار کے بیچ
انس کرتا تو ہے وہ مجھ کو خردباختہ جان
جیت میں اپنی نکالی ہے اسی ہار کے بیچ
چال کیا کبک کی اک بات چلی آتی ہے
لطف نکلے ہیں ہزاروں تری رفتار کے بیچ
تو جو جاتا ہے چمن میں تو تماشے کے لیے
موسم رفتہ بھی پھر آوے ہے گلزار کے بیچ
داغ چیچک نہ اس افراط سے تھے مکھڑے پر
کن نے گاڑی ہیں نگاہیں ترے رخسار کے بیچ
گھٹّے شمشیرزنی سے کف نازک میں ہیں
یہ جگرداری تھی کس خوں کے سزاوار کے بیچ
توبہ صد بار کہ مستی میں پرو ڈالے ہیں
دانے تسبیح کے میں رشتۂ زنار کے بیچ
حلقۂ گیسوے خوباں پہ نہ کر چشم سیاہ
میر امرت نہیں ہوتا دہن مار کے بیچ
میر تقی میر

گل سرخ اک زرد رخسار تھا

دیوان دوم غزل 756
چمن بھی ترا عاشق زار تھا
گل سرخ اک زرد رخسار تھا
گئی نیند شیون سے بلبل کی رات
کہیں دل ہمارا گرفتار تھا
قد یار کے آگے سرو چمن
کھڑا دور جیسے گنہگار تھا
یہی جنس دل کی گراں قدر تھی
ولے جب تلک تو خریدار تھا
بہت روئے ہم شبنم و گل کو دیکھ
کہ چسپاں ہمیں بھی کہیں پیار تھا
مجھے اے دل چاک کیا شانہ سا
کسو زلف سے کچھ سروکار تھا
گیا میر یاں سے کروگے جو یاد
کہو گے کہ مسکیں عجب یار تھا
میر تقی میر

کام اس شوق کے ڈوبے ہوئے کا پار کیا

دیوان دوم غزل 749
جس پہ اس موج سی شمشیر کا اک وار کیا
کام اس شوق کے ڈوبے ہوئے کا پار کیا
آگیا عشق میں جو پیش نشیب اور فراز
ہوکے میں خاک برابر اسے ہموار کیا
کیا کروں جنس وفا پھیرے لیے جاتا ہوں
بخت بد نے نہ اسے دل کا خریدار کیا
اتفاق ایسے پڑے ہم تو منافق ٹھہرے
چرخ ناساز نے غیروں سے اسے یار کیا
ایسے آزار اٹھانے کا ہمیں کب تھا دماغ
کوفت نے دل کی تو جینے سے بھی بیزار کیا
جی ہی جاتے سنے ہیں عشق کے مشہور ہوئے
کیا کیا ہم نے کہ اس راز کو اظہار کیا
دیکھے اس ماہ کو جو کتنے مہینے گذرے
بڑھ گئی کاہش دل ایسی کہ بیمار کیا
نالۂ بلبل بے دل ہے پریشان بہت
موسم گل نے مگر رخت سفر بار کیا
میر اے کاش زباں بند رکھا کرتے ہم
صبح کے بولنے نے ہم کو گرفتار کیا
میر تقی میر

جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا

دیوان دوم غزل 673
بہتوں کو آگے تھا یہی آزار عشق کا
جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا
بے پردگی بھی چاہ کا ہوتا ہے لازمہ
کھلتا ہی ہے ندان یہ اسرار عشق کا
زندانی سینکڑوں مرے آگے رہا ہوئے
چھوٹا نہ میں ہی تھا جو گنہگار عشق کا
خواہان مرگ میں ہی ہوا ہوں مگر نیا
جی بیچے ہی پھرے ہے خریدار عشق کا
منصور نے جو سر کو کٹایا تو کیا ہوا
ہر سر کہیں ہوا ہے سزاوار عشق کا
جاتا وہی سنا ہمہ حسرت جہان سے
ہوتا ہے جس کسو سے بہت پیار عشق کا
پھر بعد میرے آج تلک سر نہیں بکا
اک عمر سے کساد ہے بازار عشق کا
لگ جاوے دل کہیں تو اسے جی میں اپنے رکھ
رکھتا نہیں شگون کچھ اظہار عشق کا
چھوٹا جو مر کے قید عبارات میں پھنسا
القصہ کیا رہا ہو گرفتار عشق کا
مشکل ہے عمر کاٹنی تلوار کے تلے
سر میں خیال گوکہ رکھیں یار عشق کا
واں رستموں کے دعوے کو دیکھا ہے ہوتے قطع
پورا جہاں لگا ہے کوئی وار عشق کا
کھوئے رہا نہ جان کو ناآزمودہ کار
ہوتا نہ میر کاش طلبگار عشق کا
میر تقی میر

نالان و مضطرب پس دیوار کون ہے

دیوان اول غزل 575
ہمسایۂ چمن یہ نپٹ زار کون ہے
نالان و مضطرب پس دیوار کون ہے
مژگاں بھی پھر گئیں تری بیمار چشم دیکھ
دکھ درد میں سواے خدا یار کون ہے
نالے جو آج سنتے ہیں سو ہیں جگر خراش
کیا جانیے قفس میں گرفتار کون ہے
آیا نہ آشیانۂ بلبل میں کام بھی
مجھ سا تو خار باغ میں بیکار کون ہے
کیا فکر ملک گیری میں ہے تھے جو پیش ازیں
ان میں سے تو ہی دیکھ جہاندار کون ہے
بازار دہر میں ہے عبث میر عرض مہر
یاں ایسی جنس کا تو خریدار کون ہے
میر تقی میر

اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

دیوان اول غزل 560
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے
ہوتا نہیں ہے اس لب نو خط پہ کوئی سبز
عیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے
یوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہ
سر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے
صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں
گویا متاع دل کے خریدار مر گئے
مجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میں
تھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے
گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیر
تو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے
افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں
لگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے
تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلا
جب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے
گھبرا نہ میر عشق میں اس سہل زیست پر
جب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے
میر تقی میر

کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے

دیوان اول غزل 533
تجھ بن خراب و خستہ زبوں خوار ہو گئے
کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے
خوبی بخت دیکھ کہ خوبان بے وفا
بے ہیچ میرے درپئے آزار ہو گئے
ہم نے بھی سیر کی تھی چمن کی پر اے نسیم
اٹھتے ہی آشیاں سے گرفتار ہو گئے
وہ تو گلے لگا ہوا سوتا تھا خواب میں
بخت اپنے سو گئے کہ جو بیدار ہو گئے
اپنی یگانگی ہی کیا کرتے ہیں بیاں
اغیار رو سیاہ بہت یار ہو گئے
لائی تھی شیخوں پر بھی خرابی تری نگاہ
بے طالعی سے اپنی وے ہشیار ہو گئے
کیسے ہیں وے کہ جیتے ہیں صد سال ہم تو میر
اس چار دن کی زیست میں بیزار ہو گئے
میر تقی میر

ہم تو اے ہم نفساں دیر خبردار ہوئے

دیوان اول غزل 517
خوش سر انجام تھے وے جلد جو ہشیار ہوئے
ہم تو اے ہم نفساں دیر خبردار ہوئے
بے قراری سے دل زار کی آزار ہوئے
خواہش اس حد کو کھنچی آہ کہ بیمار ہوئے
جنس دل دونوں جہاں جس کی بہا تھی اس کا
یک نگہ مول ہوا تم نہ خریدار ہوئے
عشق وہ ہے کہ جو تھے خلوتی منزل قدس
وے بھی رسواے سر کوچہ و بازار ہوئے
سیر گلزار مبارک ہو صبا کو ہم تو
ایک پرواز نہ کی تھی کہ گرفتار ہوئے
اس ستمگار کے کوچے کے ہواداروں میں
نام فردوس کا ہم لے کے گنہگار ہوئے
وعدۂ حشر تو موہوم نہ سمجھے ہم آہ
کس توقع پہ ترے طالب دیدار ہوئے
سستی بخت تو ٹک دیکھ کہ اس چاہت پر
معتمد غیر ہوئے ہم نہ وفادار ہوئے
میر صاحب سے خدا جانے ہوئی کیا تقصیر
جس سے اس ظلم نمایاں کے سزاوار ہوئے
میر تقی میر

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

دیوان اول غزل 507
یارب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے
پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد
یہ بائو کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے
صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے
کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے
پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا
شرمندئہ یک گوشۂ دستار نہ ہووے
مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم
یارب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے
کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی
صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے
ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن
بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے
خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو
بے جرم کہیں ان کا گنہگار نہ ہووے
باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو
یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے
چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو
پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے
صحراے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میر
یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے
میر تقی میر

ملتجی ناچار ہوا چاہیے

دیوان اول غزل 497
غیر سے اب یار ہوا چاہیے
ملتجی ناچار ہوا چاہیے
جس کے تئیں ڈھونڈوں ہوں وہ سب میں ہے
کس کا طلبگار ہوا چاہیے
تاکہ وہ ٹک آن کے پوچھے کبھو
اس لیے بیمار ہوا چاہیے
زلف کسو کی ہو کہ ہو خال و خط
دل کو گرفتار ہوا چاہیے
تیغ بلند اس کی ہوئی بوالہوس
مرنے کو تیار ہوا چاہیے
مصطبۂ بے خودی ہے یہ جہاں
جلد خبردار ہوا چاہیے
مول ہے بازار کا ہستی کے یہ
دل کے خریدار ہوا چاہیے
کچھ نہیں خورشید صفت سرکشی
سایۂ دیوار ہوا چاہیے
کر نہ تعلق کہ یہ منزل نہیں
آہ سبک بار ہوا چاہیے
گو سفری اب نہیں ظاہر میں میر
عاقبت کار ہوا چاہیے
میر تقی میر

رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

دیوان اول غزل 458
گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی
کب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کو
مر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی
وے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیں
اب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی
خوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفر
ہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی
اضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوں
جان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی
کیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرے
تیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی
اپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامن
یادگار مژۂ میر ہیں واں خار کئی
میر تقی میر

دیکھا کریں ہیں ساتھ ترے یار ایک دو

دیوان اول غزل 402
کرتے بیاں جو ہوتے خریدار ایک دو
دیکھا کریں ہیں ساتھ ترے یار ایک دو
قید حیات قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اس کے گرفتار ایک دو
کس کس پہ اس کو ہووے نظر یاں ہر ایک شب
جی دیں ہیں اس کی چشم کے بیمار ایک دو
تو تو دوچار ہوکے گیا کب کا یاں ہنوز
گذریں ہیں اپنی جان سے ناچار ایک دو
ابروے تیغ زن کی تمھارے تو کیا چلی
کردے ہے جس کا لاگتے ہی وار ایک دو
ٹک چشم میں بھی سرمے کا دنبالہ کھینچیے
اس مست کے بھی ہاتھ میں تلوار ایک دو
کیا کیا عزیز دوست ملے میر خاک میں
کچھ اس گلی میں ہم ہی نہیں خوار ایک دو
میر تقی میر

کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن

دیوان اول غزل 340
ایسے محروم گئے ہم تو گرفتار چمن
کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن
سینے پر داغ کا احوال میں پوچھوں ہوں نسیم
یہ بھی تختہ کبھو ہووے گا سزاوار چمن
باغباں باغ اجارے ہی اگر دینا تھا
تھے زر داغ سے ہم بھی تو خریدار چمن
وے گنہگار ہمیں ہیں کہ جنھیں کہتے ہیں
عاشق زار چمن مرغ گرفتار چمن
خون ٹپکے ہے پڑا نوک سے ہر یک کی ہنوز
کس ستم دیدہ کی مژگاں ہیں تہ خار چمن
باغباں ہم سے خشونت سے نہ پیش آیا کر
عاقبت نالہ کشاں بھی تو ہیں درکار چمن
کم نہیں ہے دل پر داغ بھی اے مرغ اسیر
گل میں کیا ہے جو ہوا ہے تو طلبگار چمن
گل پر ایسی تو پڑی اوس خزاں میں کہ نسیم
سرد ہی ہو گئی واں گرمی بازار چمن
کیا جزا ٹھہرتی ہے دیکھیے کل حشر کو میر
داغ ہر ایک مرے دل پہ ہے خوں دار چمن
میر تقی میر

دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں

دیوان اول غزل 338
کچھ انکھڑیاں ہی اس کی نہیں اک بلا کہ بس
دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں
بیگانہ خو رقیب سے وسواس کچھ نہ کر
فرماوے ٹک زباں سے تو پھر یار بہت ہیں
کوئی تو زمزمہ کرے میرا سا دل خراش
یوں تو قفس میں اور گرفتار بہت ہیں
میر تقی میر

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

دیوان اول غزل 255
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک
سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک
رنگینی عشق اس کے ملے پر ہوئی معلوم
صحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک
کب سے متحمل ہے جفائوں کا دل زار
زنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک
ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھرائو کیے ہیں
مارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک
وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہ
پر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک
مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتے
واقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک
برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیک
اک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک
کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسے
پوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک
اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہو
یوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک
خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہمارا
جاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک
نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میں
سو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک
دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میں
ہیں میر جی آوارہ پری دار سے اب تک
میر تقی میر

تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز

دیوان اول غزل 233
مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز
دل بھی پر داغ چمن ہے پر اسے کیا کیجے
جی سے جاتی ہی نہیں حسرت دیدار ہنوز
بہ کیے عمر ہوئی ابر بہاری کو ولے
لہو برسا رہے ہیں دیدئہ خوں بار ہنوز
بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبیب
بہ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز
نا امیدی میں تو مر گئے پہ نہیں یہ معلوم
جیتے ہیں کون سی امید پہ ناچار ہنوز
بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ
تو نہیں چھوڑتا اس طرز کی رفتار ہنوز
ایک دن بال فشاں ٹک ہوئے تھے خوش ہوکر
ہیں غم دل کی اسیری میں گرفتار ہنوز
کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گذرا
ڈوبا ہی جائے ہے لوہو میں سر خار ہنوز
منتظر قتل کے وعدے کا ہوں اپنے یعنی
جیتا مرنے کو رہا ہے یہ گنہگار ہنوز
اڑ گئے خاک ہو کتنے ہی ترے کوچے سے
باز آتے نہیں پر تیرے ہوادار ہنوز
ایک بھی زخم کی جا جس کے نہ ہو تن پہ کہیں
کوئی دیتا ہے سنا ویسے کو آزار ہنوز
ٹک تو انصاف کر اے دشمن جان عاشق
میان سے نکلی پڑے ہے تری تلوار ہنوز
میر کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہیے
ہے تجھے کوئی گھڑی قوت گفتار ہنوز
ابھی اک دم میں زباں چلنے سے رہ جاتی ہے
درد دل کیوں نہیں کرتا ہے تو اظہار ہنوز
آنسو بھر لا کے بہت حزن سے یہ کہنے لگا
کیا کہوں تجھ کو سمجھ اس پہ نہیں یار ہنوز
آنکھوں میں آن رہا جی جو نکلتا ہی نہیں
دل میں میرے ہے گرہ حسرت دیدار ہنوز
میر تقی میر

یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر

دیوان اول غزل 209
کر رحم ٹک کب تک ستم مجھ پر جفا کار اس قدر
یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر
بھاگے مری صورت سے وہ عاشق میں اس کی شکل پر
میں اس کا خواہاں یاں تلک وہ مجھ سے بیزار اس قدر
منزل پہنچنا یک طرف نے صبر ہے نے ہے سکوں
یکسر قدم میں آبلے پھر راہ پرخار اس قدر
ہے جاے ہر دل میں تری آ درگذر کر بے وفا
کر رحم ٹک اپنے اپرمت ہو دل آزار اس قدر
جز کشمکش ہووے تو کیا عالم سے ہم کو فائدہ
یہ بے فضا ہے اک قفس ہم ہیں گرفتار اس قدر
غیر اور بغل گیری تری عید اور ہم سے بھاگنا
ہم یار ہوں یوں غم زدے خوش ہوئیں اغیار اس قدر
طاقت نہیں ہے بات کی کہتا تھا نعرہ ماریے
کیا جانتا تھا میر ہوجاوے گا بیمار اس قدر
میر تقی میر

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

دیوان اول غزل 195
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح
کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح
میں اور قیس و کوہکن اب جو زباں پہ ہیں
مارے گئے ہیں سب یہ گنہگار ایک طرح
منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں
کس سے ہوا دوچار وہ عیار ایک طرح
سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں
پر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح
گھر اس کے جاکے آتے ہیں پامال ہوکے ہم
کریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح
گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو
آتا نہیں نظر وہ طرحدار ایک طرح
نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا
ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا
صحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح
سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم
تسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح
بن جی دیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں
گر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میر کو
ہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح
میر تقی میر

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

دیوان اول غزل 184
چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت
مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت
امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد
مرجائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت
تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم
تھا دشمن جانی مرا اقرار محبت
ہر جنس کے خواہاں ملے بازارجہاں میں
لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت
اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا
زنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت
ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق
ٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت
کچھ مست ہیں ہم دیدئہ پرخون جگر سے
آیا یہی ہے ساغر سرشار محبت
بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز
یہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت
مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل
ہر سر نہیں اے میر سزاوارمحبت
میر تقی میر

عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا

دیوان اول غزل 121
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا
عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا
آنکھیں چرائیو نہ ٹک ابر بہار سے
میری طرف بھی دیدئہ خونبار دیکھنا
اے ہم سفر نہ آبلے کو پہنچے چشم تر
لاگا ہے میرے پائوں میں آ خار دیکھنا
ہونا نہ چار چشم دل اس ظلم پیشہ سے
ہشیار زینہار خبردار دیکھنا
صیاد دل ہے داغ جدائی سے رشک باغ
تجھ کو بھی ہو نصیب یہ گلزار دیکھنا
گر زمزمہ یہی ہے کوئی دن تو ہم صفیر
اس فصل ہی میں ہم کو گرفتار دیکھنا
بلبل ہمارے گل پہ نہ گستاخ کر نظر
ہوجائے گا گلے کا کہیں ہار دیکھنا
شاید ہماری خاک سے کچھ ہو بھی اے نسیم
غربال کرکے کوچۂ دلدار دیکھنا
اس خوش نگہ کے عشق سے پرہیز کیجو میر
جاتا ہے لے کے جی ہی یہ آزار دیکھنا
میر تقی میر

کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا

دیوان اول غزل 109
کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا
دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں
تیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا
صد گلستاں تہ یک بال تھے اس کے جب تک
طائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا
حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ
بے گنہ مارنے قابل یہ گنہگار نہ تھا
عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ
یوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا
نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا
سنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا
رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میر
درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا
میر تقی میر

بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا

دیوان اول غزل 77
محبت کا جب روز بازار ہو گا
بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا
تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن
کبھی یہ قیامت طرحدار ہو گا
صبا موے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے
کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہو گا
مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ
کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہو گا
نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں
نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہو گا
یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا
قیامت کو کس کس سے خوں دار ہو گا
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل
ملے گا تو صورت سے بیزار ہو گا
نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں
ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہو گا
کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب
کبھو تو قیامت طرحدار ہو گا
زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن
یہ دیوار کا سایہ دیوار ہو گا
نہ مرکر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا
ترے دام میں جو گرفتار ہو گا
نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میر بھی یاں
جو ہو گا تو جیسے گنہگار ہو گا
میر تقی میر

گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا

دیوان اول غزل 37
خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہو گیا
گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا
کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر
میں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا
میں نودمیدہ بال چمن زاد طیر تھا
پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا
ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا
سینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا
ہے اس کے حرف زیرلبی کا سبھوں میں ذکر
کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا
تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ
وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا
کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی
دلدار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا
آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمھارے ساتھ
کچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا
کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میر
ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا
میر تقی میر

ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
فکر دلداریء گلزار کروں یا نہ کروں
ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں
قصہء سازشِ اغیار کہوں یانہ کہوں
شکوہء یارِ طرحدار کروں یا نہ کروں
جانے کیا وضع ہے اب رسمِ وفا کی اے دل
وضعِ دیرینہ پہ اصرار کروں یا نہ کروں
جانے کس رنگ میں تفسیر کریں اہلِ ہوس
مدحِ زلف و لب و رخسار کروں یا نہ کروں
یوں بہار آئی ہے امسال کہ گلشن میں صبا
پوچھتی ہے گزر اس بار کروں یا نہ کروں
گویا اس سوچ میں ہے دل میں لہو بھر کے گلاب
دامن و جیب کو گلنار کروں یا نہ کروں
ہے فقط مرغِ غزلخواں کہ جسے فکر نہیں
معتدل گرمیء گفتار کروں یا نہ کروں
نذرِ سودا
فیض احمد فیض

میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 279
تشنہ رکھا ہے نہ سرشار کیا ہے اس نے
میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے
گر گئی قیمتِ شمشاد قداں آنکھوں میں
شہر کو مصر کا بازار کیا ہے اس نے
وہ یہاں ایک نئے گھر کی بنا ڈالے گا
خانۂ درد کو مسمار کیا ہے اس نے
دیکھ لیتا ہے تو کھلتے چلے جاتے ہیں گلاب
میری مٹی کو خوش آثار کیا ہے اس نے
دوسرا چہرہ اس آئینے میں دکھلائی نہ دے
دل کو اپنے لیے تیار کیا ہے اس نے
حرف میں جاگتی جاتی ہے مرے دل کی مراد
دھیرے دھیرے مجھے بیدار کیا ہے اس نے
میرے اندر کا ہرن شیوۂ رم بھول گیا
کیسے وحشی کو گرفتار کیا ہے اس نے
میں بہر حال اسی حلقۂ زنجیر میں ہوں
یوں تو آزاد کئی بار کیا ہے اس نے
اب سحر تک تو جلوں گا کوئی آئے کہ نہ آئے
مجھ کو روشن سرِ دیوار کیا ہے اس نے
عرفان صدیقی

کس سمت رہا ہو کے گرفتار نکل آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 237
جنگل میں بھی بستی کے سے آثار نکل آئے
کس سمت رہا ہو کے گرفتار نکل آئے
میدان میں ہر چند میں تنہا تھا مگر خیر
لوٹا تو بہت میرے مددگار نکل آئے
پھر ہم پہ ستم ہو کہ پئے حلقۂ یاراں
کچھ حیلۂ مدّاحیِ سرکار نکل آئے
اندیشۂ جاں خیمے کی دیوار تلک ہے
کچھ بھی نہیں ہو گا اگر اک بار نکل آئے
بازار میں آئے ہیں تو کیوں مول گھٹائیں
شاید کوئی اپنا بھی خریدار نکل آئے
عرفان صدیقی

بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 205
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ اَفکار نہ رکھ
بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ
زَخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہے
خوف کا نام مگر لذّتِ آزار نہ رکھ
ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت، پیارے
اَب جو سرشانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ
خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
اِتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
اَب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹ
میری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ
آج سے دِل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریک
لے، یہ حسرت بھی مری چشمِ گنہگار نہ رکھ
وقت پھر جانے کہاں اُس سے ملا دے تجھ کو
اِس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ
عرفان صدیقی

فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 182
عرضِ وفا تو فرض ہے ناچار کرتے ہیں
فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں
دو چار حرف لکھ کے ہم اپنے گمان میں
اس کو شریکِ لذت آزار کرتے ہیں
میرے خیال‘ اب ترا بچنا محال ہے
لوگوں کے لفظ ذہن پہ یلغار کرتے ہیں
اپنے سوا بھی رنج تماشا کریں‘ تو چل
کچھ دیر سیرِ کوچہ و بازار کرتے ہیں
خود ہی اسے ضرورتِ بیعت نہیں رہی
اب آپ کیا ارادۂ انکار کرتے ہیں
تجھ سے ملے تو ہم نے یہ جانا کہ آجکل
آہو شکاریوں کو گرفتار کرتے ہیں
کچھ دن پرند پرورشِ بال و پر کریں
بے صرفہ کیوں ہواؤں سے پیکار کرتے ہیں
آشفتگاں کو رمز و اشارت کا کیا دماغ
یہ لوگ کس زبان میں گفتار کرتے ہیں
عرفان صدیقی

جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 135
شہر کیوں رات میں بیدار ہے میں کیا جانوں
جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں
ایک قطرہ بھی مرے کوزۂ خالی میں نہیں
ہر طرف ابرِ گہر بار ہے میں کیا جانوں
عاشقوں کے سرِ تسلیم کو تسلیم سے کام
اب یہ ابرو ہے کہ تلوار ہے میں کیا جانوں
صید کرتا ہے کسی اور کی مرضی سے مجھے
خود بھی صیاد گرفتار ہے میں کیا جانوں
میں تو اک درد کا سرمایہ لیے بیٹھا ہوں
یہ مری جان کا آزار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی

یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 108
ہر طرف کشتوں کا انبار ہے خاکم بدہن
یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن
کچھ نہ کچھ ہوش ہے باقی ابھی دیوانوں میں
یہ تو ابرو نہیں تلوار ہے خاکم بدہن
قیدخانے میں یہ مہتاب کہاں سے آیا
کیا کوئی روزن دیوار ہے خاکم بدہن
صید کرتا ہے کسی اور کی مرضی سے مجھے
خود بھی صیاد گرفتار ہے خاکم بدہن
یہ کوئی طنز نہیں تیری مسیحائی پر
عشق کیا جان کا آزار ہے خاکم بدہن
جب تلک گرد نہ چہرے سے ہٹائی جائے
صیقل آئنہ بے کار ہے خاکم بدہن
کوئی شے خاک پہ افتادہ ہے دستار کے ساتھ
یہ تو شاید سرپندار ہے خاکم بدہن
عرفان صدیقی

یعنی اُس یارِ طرح دار کے کھل جانے کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 466
ہے توقع درِ انکار کے کھل جانے کی
یعنی اُس یارِ طرح دار کے کھل جانے کی
چلنا ہے بادِ محبت کی بلاخیزی میں
ہم کو پروانہیں دستار کے کھل جانے کی
ہم معاشرتی شبِ جبر میں کیا لکھیں گے
بات ہے دستِ گرفتار کے کھل جانے کی
شعلہ ء گل کا ابھی رقص دکھاتی ہوں تجھے
اک ذرادیر ہے بازار کے کھل جانے کی
لوگ منصور پلٹ جاتے ہیں دروازوں سے
ہم کو امید ہے دیوار کے کھل جانے کی
منصور آفاق

دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 255
ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ
ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ
کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ
چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ
تم ہی ڈالو گے مرے شاہ سوارو آخر
موت کی وادیِ اسرار کے سینے میں دراڑ
کھلکھلاتی ہوئی اک چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ
رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ
روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ
صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ بیدار کے سینے میں دراڑ
کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ
غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کونپل
دیکھ باغیچہء مسمار کے سینے میں دراڑ
لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانہء زنگار کے سینے میں دراڑ
بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ
شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
منصور آفاق