ٹیگ کے محفوظات: گرامی

روشنی لکھتی ہے اسمائے گرامی تیرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 268
سب لقب پاک ہیں سب نام ہیں نامی تیرے
روشنی لکھتی ہے اسمائے گرامی تیرے
حرف حق تیرے حوالے سے اجالے کا سراغ
لفظ پائندہ ترے‘ نقش دوامی تیرے
اذن معبود کا مقصود بھی نصرت تیری
مصحف نور کے آیات بھی حامی تیرے
سب ستارہ نظراں‘ خوش ہنراں‘ چارہ گراں
پیک تیرے‘ سفری تیرے‘ پیامی تیرے
بے اماں قریوں پہ دائم تیری رحمت کا نزول
حبشی تیرے‘ حجازی ترے‘ شامی تیرے
تو غزالوں کو کمندوں سے بچانے والا
سارے سلطان غلامانِ قیامی تیرے
کشت سرسبز ترے فیض کی ہریالی سے
دشت میں نخلِ نمودار تمامی تیرے
میرے الفاظ فقط عجز بیاں کا اقرار
کعب و حسان ترے، سعدی و جامی تیرے
نوریاں مدح سرا خاک نہادوں کی مثال
کہیں محسن‘ کہیں جبریل سلامی تیرے
سب تری مملکت جود و کرم میں آباد
حکم نافذ مرے قوسین مقامی تیرے
عرفان صدیقی

یہ مدینے میں اپنی سلامی سے ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 638
زندگی شہرِ دل کی خرامی سے ہے
یہ مدینے میں اپنی سلامی سے ہے
اُس سراپا عنایت پہ بھیجیں دورد
اپنی آزادی جس کی غلامی سے ہے
یہ مناظر کی میٹھی حسیں دلکشی
ایک پاکیزہ اسم گرامی سے ہے
کائناتِ شبِ تیرہ و تار میں
روشنی اُس کی قرآں کلامی سے ہے
جس کے ہونے سے ظاہر خدا ہو گیا
اپنا ہونا تواُس نامِ نامی سے ہے
جوبھی اچھاہے اس کی عطاسے لکھا
جو لکھا ہے غلط میری خامی سے ہے
ان سے منصور پہلو تہی جن کا بھی
ربط ابلیس جیسے حرامی سے ہے
منصور آفاق