ٹیگ کے محفوظات: گذرتا

چین نہیں دیتا ہے ظالم جب تک عاشق مرتا ہے

دیوان پنجم غزل 1770
عشق ہمارا در پئے جاں ہے کیسی خصومت کرتا ہے
چین نہیں دیتا ہے ظالم جب تک عاشق مرتا ہے
شاید لمبے بال اس مہ کے بکھر گئے تھے بائو چلے
دل تو پریشاں تھا ہی میرا رات سے جی بھی بکھرتا ہے
صورت اس کی دیدئہ تر میں پھرتی ہے ہر روز و شب
ہے نہ اچنبھا یہ بھی کہیں پانی میں نقش ابھرتا ہے
کیا دشوار گذر ہے طریق عشق مسافر کش یارو
جی سے اپنے گذر جاتا ہے جو اس راہ گذرتا ہے
حال کسو بے تہ کا یاں مانا ہے حباب دریا سے
ٹک جو ہوا دنیا کی لگی تو یہ کم ظرف اپھرتا ہے
یاد خدا کو کرکے کہو ٹک پاس ہمارے ہوجاوے
صد سالہ غم دیکھے اس خوش چشم و رو کے بسرتا ہے
دامن دیدئہ تر کی وسعت دیکھے ہی بن آوے گی
ابر سیاہ و سفید جو ہو سو پانی ان کا بھرتا ہے
دل کی لاگ نہیں چھپتی ہے کوئی چھپاوے بہتیرا
زردی عشق سے بے الفت یہ رنگ کسو کا نکھرتا ہے
کھینچ کے تیغہ اپنا ہر دم کیا لوگوں کو ڈراتے ہو
میر جگر دار آدمی ہے وہ کب مرنے سے ڈرتا ہے
میر تقی میر