ٹیگ کے محفوظات: گداگر

گداگر

جن گزرگاہوں پہ دیکھا ہے نگاہوں نے لُہو

یاسیہ عورت کی آنکھوں میں یہ سہم

کیا یہ اونچے شہر رہ جائیں گے بس شہروں کا وہم

مَیں گداگر اور مرا دریوزہ فہم!

راہ پیمائی عصا اور عافیت کوشی گدا کا لنگِ پا

آ رہی ہے ساحروں کی، شعبدہ سازوں کی صبح

تیز پا، گرداب آسا، ناچتی، بڑھتی ہوئی

اک نئے سدرہ کے نیچے، اِک نئے انساں کی ہُو

تا بہ کے روکیں گے ہم کو چار سُو؟

کیا کہیں گے اُس نئے انساں سے ہم

ہم تھے کُچھ انساں سے کم؟

رنگ پر کرتے تھے ہم بارانِ سنگ

تھی ہماری ساز و گُل سے، نغمہ و نکہت سے جنگ

آدمی زادے کے سائے سے بھی تنگ؟

ن م راشد

گداگر

چلتے چلتے رک کر، جھک کر، ادھر ادھر بے بس بے بس نظروں سے

دیکھنے والے

کبڑی پیٹھ اور پتھرائی ہوئی آنکھوں والے

بوڑھے بھک منگے، اس اپنی حیرانی کے فریضے میں تو واقعی تو کتنا

حیران نظر آتا ہے

جانے کس کے ارادے کی رمزیں اس تیری بے بسی کی قوت ہیں

پتھریلی روحوں کے صنم کدے میں جانے کون یہ کاسہ بدست کھڑا ہے

تجھ کو دیکھ کے میرا جی اس سے ڈرتا ہے

تیرے ڈرے ہوئے پیکر میں جس کی بےخوفی جیتی ہے

کسی دھیرج سے دھڑکتا ہو گا اس کا قلب کہ تو جس کا قالب ہے

اتنے سکون میں اس کے جتنے قصد ہیں، میں ان سے

ڈرتا ہوں

تیرے وجود کو یہ بےکل پن دے کر کس بےدردی سے وہ

دِلوں میں سچی ہمدردی کے درد جگاتا ہے ۔۔۔ اور

ہم کو ترساں دیکھ کے شاید خوش ہوتا ہے!

ابھی ابھی تو، یہیں کہیں تو میری غفلت میں تھا

اب کہتا ہوں، مجھ کو میری آگاہی میں کب یہ بھیک ملے گی

مجید امجد