ٹیگ کے محفوظات: گدائی

ہماری سمت ہوا رُخ بھری خدائی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
ذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کا
ہماری سمت ہوا رُخ بھری خدائی کا
ظہورِ آب ہے محتاجِ جُنبشِ طوفاں
کہ اتنا سہل اُترنا کہاں ہے کائی کا
یہ اختلاط کا چرچا ہے تجھ سے کیا اپنا
بنا دیا ہے یہ کس نے پہاڑ رائی کا
وفا کی جنس ہے ہر جنسِ خوردنی جیسے
کہ زر بھی ہاتھ میں کاسہ ہوا گدائی کا
چُکا دیا ہے خیالوں کی زر فشانی سے
جو قرض ہم پہ تھا خلقت کی دلربائی کا
خبر ضرور تھی طوفان کی تجھے ماجدؔ
تری پکار میں انداز تھا دُہائی کا
ماجد صدیقی

مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 124
وحشتِ دل صلۂ آبلہ پائی لے لے
مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے
عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے
دل نے ہر بار کہا، آگ پرائی لے لے
میں تو اس صبحِ درخشاں کو تونگر جانوں
جو مرے شہر سے کشکولِ گدائی لے لے
تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط میری
یہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے
اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں
ہے کوئی جو ہنرِ زخم نمائی لے لے
احمد فراز

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 93
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نا مراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دیگا پھر خبر رہائی کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی
احمد فراز

بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 81
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم، غافل!@ تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالب، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا
@نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ ’قاتل‘ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

دیوان اول غزل 435
ہے غزل میر یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفاے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر

یہ عمل تو پارسائی میں نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 396
درد کیوں چہرہ نمائی میں نہیں
یہ عمل تو پارسائی میں نہیں
آسماں ہیں میرے اندر ہی کہیں
ہاں مگر میری رسائی میں نہیں
فاقہ مستی کائناتوں پر محیط
معجزہ کوئی گدائی میں نہیں
میرے بنجاروں تمہاری خیر ہو
ایک بھی چوڑی کلائی میں نہیں
وقت میری وحدتوں میں ہے مقیم
میں زمانے کی اکائی میں نہیں
صرف میں منصور اک موجود ہوں
کوئی بھی پوری خدائی میں نہیں
منصور آفاق

کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 161
زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی
کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی
دنیا کے لئے بھول گئے اپنے خدا کو
کیا قبر کی آواز سنائی نہیں دیتی
کیا اپنے سوا کوئی نظر آئے نہ ہم کو
کیوں دل کو سکوں بات پرائی نہیں دیتی
جو مانگنا ہے مانگئے اﷲ سے اپنے
تسکیں کبھی دنیا کی گدائی نہیں دیتی
احساس سفر سے یہ گرہ کھلتی ہے باقیؔ
منزل کی خبر آبلہ پائی نہیں دیتی
باقی صدیقی