ٹیگ کے محفوظات: گاہ

آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا

ہر دم نہیں دماغ ہمیں تیری چاہ کا
آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا
تو اور آئنے میں ترا عکس رُوبرُو
نظّارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا
ہے خانۂ خدا بھی وہاں بت کدے کی شکل
غلبہ ہو جس زمیں پہ کسی بادشاہ کا
گو شرع و دین سب کے لیے ایک ہیں مگر
ہر شخص کا الگ ہے تصور گناہ کا
اِک گوشۂ بِساط سے پورس نے دی صدا
میں ہو گیا شکار خود اپنی سپاہ کا
باصرؔ توعہد شِکنی کا موقع نہ دے اُسے
ویسے بھی کم ہے اُس کا ارادہ نباہ کا
باصر کاظمی

اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 18
بزعمِ عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
یہ شہرِ کم نظراں، یہ دیارِ بے ہنراں
کسے یہ اپنے ہنر کا گواہ میں نے کیا
حریمِ دل کو جلانے لگا تھا ایک خیال
سو گُل اُسے بھی بیک سرد آہ میں نے کیا
وہی یقین رہا ہے جوازِ ہم سفری
جو گاہ اُس نے کیا اور گاہ میں نے کیا
بس ایک دل ہی تو ہے واقفِ رموزِ حیات
سو شہرِ جاں کا اِسے سربراہ میں نے کیا
ہر ایک رنج اُسی باب میں کیا ہے رقم
ذرا سا غم تھا جسے بے پناہ میں نے کیا
یہ راہِ عشق بہت سہل ہو گئ جب سے
حصارِ ذات کو پیوندِ راہ میں نے کیا
یہ عمر کی ہے بسر کچھ عجب توازن سے
ترا ہُوا، نہ ہی خود سے نباہ میں نے کیا
خرد نے دل سے کہا، تُو جنوں صفت ہی سہی
نہ پوچھ اُس کی کہ جس کو تباہ میں نے کیا
عرفان ستار

یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 17
اگر ہے شرط بچھڑنا تو رسم و راہ بھی کیا
یہ اہتمامِ ملاقات گاہ گاہ بھی کیا
نہ ہو جو ذوقِ تماشا یہاں تو کچھ بھی نہیں
نظر کی بزم بھی کیا دل کی خانقاہ بھی کیا
بہت سکون ہے بیداریوں کے نرغے میں
تو مجھ کو چھوڑ گئی خواب کی سپاہ بھی کیا
سب اپنے اپنے طریقے ہیں خود نمائی کے
قبائے عجز بھی کیا فخر کی کلاہ بھی کیا
یہ راہِ شوق ہے اس پر قدم یقین سے رکھ
گماں کے باب میں اس درجہ اشتباہ بھی کیا
نہیں ہے کوئی بھی صورت سپردگی کے سوا
ہوس کی قید بھی کیا عشق کی پناہ بھی کیا
مجھے تمہاری تمہیں میری ہم نشینی کی
بس ایک طرح کی عادت سی ہے، نباہ بھی کیا
کوئی ٹھہر کے نہ دیکھے میں وہ تماشا ہوں
بس اک نگاہ رُکی تھی، سو وہ نگاہ بھی کیا
عرفان ستار

تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 123
دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے
تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے
یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے
اب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا
میں مطمئن ہوں ،مرا دل تری پناہ میں ہے
بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے
وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے
جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے
یہی وہ دن تھے جب اِ ک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!
پروین شاکر

لب سے کم ہی نباہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 162
دل سے اب رسم و راہ کی جائے
لب سے کم ہی نباہ کی جائے
گفتگو میں ضرر ہے معنی کا
گفتگو گاہ گاہ کی جائے
ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے
ہوس انگیز ہوں بدن جن کے
اُن میں سب سے نباہ کی جائے
اپنے دل کی پناہ میں آ کر
زندگی بے پناہ کی جائے
جون ایلیا

مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 144
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
بچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سے
قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق نا شناس@ ہیں
مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درست
لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
غالب بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
@حق ناسپاس نسخۂ نظامی میں ہےٍ، حق نا شناس۔ حسرت، مہراور عرشی میں۔ ’ناسپاس‘ کتابت کی غلطی بھی ممکن ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 84
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا
بزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگ
صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جا تا ہو ں میں، کہ ہے
پُرگل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در” ہوائے یک نگہِ گرم” ہے اسدؔ
پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ

دیوان ششم غزل 1819
لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ
رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ
ذوق صید اس کو تھا تو خیل ملک
دھوم رکھتے تھے دام گاہ کے بیچ
کب مزہ ہے نماز صبح میں وہ
جو صبوحی کے ہے گناہ کے بیچ
اس غصیلے کی سرخ آنکھیں دیکھ
اٹھے آشوب خانقاہ کے بیچ
جان و دل دونوں کرگئے تھے غش
دیکھ اس رشک مہ کو راہ کے بیچ
اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے
کتنے جی مارے اک نگاہ کے بیچ
سانجھ ہی رہتی پھر اگر ہوتا
کچھ اثر نالۂ پگاہ کے بیچ
کیا رہیں جور سے بتوں کے ہم
رکھ لے اپنی خدا پناہ کے بیچ
منھ کی دو جھائیوں سے مت شرما
جھائیں ہوتی ہے روے ماہ کے بیچ
میر بیمار ہے کہ فرق نہیں
متصل اس کے آہ آہ کے بیچ
میر تقی میر

بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی

دیوان پنجم غزل 1774
بے یار ہوں بیکس ہوں آگاہ نہیں کوئی
بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی
کیا تنگ مخوف ہے اس نیستی کا رستہ
تنہا پڑا ہے جانا ہمراہ نہیں کوئی
موہوم ہے ہستی تو کیا معتبری اس کی
ہے گاہ اگر کوئی تو گاہ نہیں کوئی
فرہاد کو مجنوں کو موت آگئی ہے آگے
کس سے کہیں درد دل اب آہ نہیں کوئی
میر اتنی سماجت جو بندوں سے تو کرتا ہے
دنیا میں مگر تیرا اللہ نہیں کوئی
میر تقی میر

ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر

دیوان پنجم غزل 1619
خندہ بجاے گریہ و اندوہ و آہ کر
ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر
کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج کو شوخ
آنکھوں میں جان آئی ہے ایدھر نگاہ کر
رحمت اگر یقینی ہے تو کیا ہے زہد شیخ
اے بیوقوف جاے عبادت گناہ کر
چھوڑ اب طریق جور کو اے بے وفا سمجھ
نبھتی نہیں یہ چال کسو دل میں راہ کر
چسپیدگی داغ سے مت منھ کو اپنے موڑ
اے زخم کہنہ دل سے ہمارے نباہ کر
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے طپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خوامخواہ کر
اس وقت ہے دعا و اجابت کا وصل میر
یک نعرہ تو بھی پیش کش صبح گاہ کر
میر تقی میر

آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا

دیوان پنجم غزل 1558
اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا
آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا
لڑ کے ملنا ہے آپ سے بے لطف
یار ہووے نہ عذرخواہ تو کیا
کب رخ بدر روشن ایسا ہے
ایک شب کا ہے اشتباہ تو کیا
بے خرد خانقہ میں ہیں گو مست
وہ کرے مست یک نگاہ تو کیا
اس کے پرپیچ گیسو کے آگے
ہووے کالا کوئی سیاہ تو کیا
حسن والے ہیں کج روش سارے
ہوئے دو چار روبراہ تو کیا
دل رہے وصل جو مدام رہے
مل گئے اس سے گاہ گاہ تو کیا
ایک اللہ کا بہت ہے نام
جمع باطل ہوں سو الٰہ تو کیا
میر کیا ہے فقیر مستغنی
آوے اس پاس بادشاہ تو کیا
میر تقی میر

فقیروں کی اللہ اللہ ہے

دیوان سوم غزل 1289
چلے ہم اگر تم کو اکراہ ہے
فقیروں کی اللہ اللہ ہے
نہ افسر ہے نے درد سر نے کلہ
کہ یاں جیسا سر ویسا سرواہ ہے
جہاں لگ چلے گل سے ہم داغ ہیں
اگرچہ صبا بھی ہواخواہ ہے
غم عشق ہے ناگہانی بلا
جہاں دل لگا کڑھنا جانکاہ ہے
چراغان گل سے ہے کیا روشنی
گلستاں کسو کی قدم گاہ ہے
محبت ہے دریا میں جا ڈوبنا
کنوئیں میں بھی گرنا یہی چاہ ہے
کلی سا ہے کہتے ہیں منھ یار کا
نہیں معتبر کچھ یہ افواہ ہے
نہ کی کوتہی بت پرستی میں کچھ
خدا اس عقیدے سے آگاہ ہے
گیا میر کے جی کی سن کر وہ شوخ
لگا کہنے سب کو یہی راہ ہے
میر تقی میر

سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ

دیوان دوم غزل 936
یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
یار کا وہ ناز اپنا یہ نیاز
دیکھیے ہوتا ہے کیونکر یوں نباہ
دین میں اس کافر بے رحم کے
اجر اک رکھتا ہے خون بے گناہ
پتھروں سے سینہ کوبی میں نے کی
دل کے ماتم میں مری چھاتی سراہ
مول لے چک مجھ کو آنکھیں موند کر
دیکھ تو قیمت ہے میری اک نگاہ
لذت دنیا سے کیا بہرہ ہمیں
پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ
روٹھ کر کیا آپ سے ملنے میں لطف
ہووے وہ بھی تو کبھو ٹک عذر خواہ
ضبط بہتیرا ہی کرتے ہیں ولے
آہ اک منھ سے نکل جاتی ہے گاہ
اس کے رو کے رفتہ ہی آئے ہیں یاں
آج سے تو کچھ نہیں یہ جی کی چاہ
دیکھ رہتے دھوکے اس رخسار کے
دایہ منھ دھوتے جو کہتی ماہ ماہ
شیخ تونے خوب سمجھا میر کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
میر تقی میر

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

دیوان اول غزل 528
شش جہت سے اس میں ظالم بوے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کاروان لخت دل ہر اشک کے ہمراہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دوسالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پابرہنہ خاک سر میں موپریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دلخواہ ہے
اس جنوں پر میر کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادئہ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
میر تقی میر

گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے

دیوان اول غزل 482
چمن یار تیرا ہواخواہ ہے
گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے
سراپا میں اس کے نظر کرکے تم
جہاں دیکھو اللہ اللہ ہے
تری آہ کس سے خبر پایئے
وہی بے خبر ہے جو آگاہ ہے
مرے لب پہ رکھ کان آواز سن
کہ اب تک بھی یک ناتواں آہ ہے
گذر سر سے تب عشق کی راہ چل
کہ ہر گام یاں اک خطر گاہ ہے
کبھو وادی عشق دکھلایئے
بہت خضر بھی دل میں گمراہ ہے
جہاں سے تو رخت اقامت کو باندھ
یہ منزل نہیں بے خبر راہ ہے
نہ شرمندہ کر اپنے منھ سے مجھے
کہا میں نے کب یہ کہ تو ماہ ہے
یہ وہ کارواں گاہ دلکش ہے میر
کہ پھر یاں سے حسرت ہی ہمراہ ہے
میر تقی میر

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

دیوان اول غزل 426
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں
گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف
ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گذرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے
برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی
ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے
اے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ
آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں
گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ
کیونکر نہ جائوں مجھ کو تو مرنا ہے خوامخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق
جاتا تھا میر میں تو چلا اپنی راہ راہ
میر تقی میر

پر ایک حیلہ سازی ہے اس دست گاہ میں

دیوان اول غزل 312
سب خوبیاں ہیں شیخ مشیخت پناہ میں
پر ایک حیلہ سازی ہے اس دست گاہ میں
مانند شمع ہم نے حضور اپنے یار کے
کار وفا تمام کیا ایک آہ میں
میں صید جو ہوا تو ندامت اسے ہوئی
یک قطرہ خون بھی نہ گرا صیدگاہ میں
پہنچے نہیں کہیں کہ نہیں واں سے اٹھ چلے
القصہ ایک عمر سے ہم ہیں گے راہ میں
نکلا تھا آستین سے کل مغبچے کا ہاتھ
بہتوں کے خرقے چاک ہوئے خانقاہ میں
بخت سیہ تو دیکھ کہ ہم خاک میں ملے
سرمے کی جاے ہو تری چشم سیاہ میں
بیٹھے تھے میر یار کے دیدار کو سو ہم
اپنا یہ حال کرکے اٹھے یک نگاہ میں
میر تقی میر

اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں

دیوان اول غزل 296
راضی ہوں گوکہ بعد از صد سال و ماہ دیکھوں
اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں
جی انتظار کش ہے آنکھوں میں رہگذر پر
آجا نظر کہ کب تک میں تیری راہ دیکھوں
آنکھیں جو کھل رہی ہیں مرنے کے بعد میری
حسرت یہ تھی کہ اس کو میں اک نگاہ دیکھوں
یہ دل وہ جا ہے جس میں دیکھا تھا تجھ کو بستے
کن آنکھوں سے اب اجڑا اس گھر کو آہ دیکھوں
دیکھوں تو چاند اب کا گذرے ہے مجھ کو کیسا
دل ہے کہ تیرے منھ پر بے مہر ماہ دیکھوں
بخت سیہ تو اپنے رہتے ہیں خواب ہی میں
اے رشک یوسف مصر پھر کس کو چاہ دیکھوں
چشم و دل و جگر یہ سارے ہوئے پریشاں
کس کس کی تیرے غم میں حالت تباہ دیکھوں
آنکھیں تو تونے دی ہیں اے جرم بخش عالم
کیا تیری رحمت آگے اپنے گناہ دیکھوں
تاریک ہوچلا ہے آنکھوں میں میری عالم
ہوتا ہے کیونکے دل بن میرا تباہ دیکھوں
مرنا ہے یا تماشا ہر اک کی ہے زباں پر
اس مجہلے کو چل کر میں خوانخواہ دیکھوں
دیکھوں ہوں آنکھ اٹھاکر جس کو تو یہ کہے ہے
ہوتا ہے قتل کیونکر یہ بے گناہ دیکھوں
ہوں میں نگاہ بسمل گو اک مژہ تھی فرصت
تا میر روے قاتل تا قتل گاہ دیکھوں
میر تقی میر

تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں

دیوان اول غزل 295
یہ ترک ہوکے خشن کج اگر کلاہ کریں
تو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں
تمھیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کا
ہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں
رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہ
سیاہ کردیں زمانے کو ہم جو آہ کریں
جو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیف
ہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں
ہواے میکدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلم
نماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں
ہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کا
گذار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو تو
جو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں
بری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہم
جو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں
اگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میر
ادھر کو یار تامل سے گر نگاہ کریں
میر تقی میر

خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا

دیوان اول غزل 42
گذرا بناے چرخ سے نالہ پگاہ کا
خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیں
مرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا
صد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفن
کشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا
یک قطرہ خون ہوکے پلک سے ٹپک پڑا
قصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا
تلوار مارنا تو تمھیں کھیل ہے ولے
جاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا
بدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حال
احوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا
ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چل
ہو گا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا
اے تاج شہ نہ سر کو فرو لائوں تیرے پاس
ہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا
ہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئے
دیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا
بیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میر
سونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا
میر تقی میر

خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا

دیوان اول غزل 35
مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمال راہ کا
خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا
سینکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیک
عذر ہی جا ہے چلا اس کے دل ناخواہ کا
گر کوئی پیرمغاں مجھ کو کرے تو دیکھے پھر
میکدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کا
کاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میں
ظلم ہے یک خلق پرآشوب ان کی آہ کا
جو سنا ہشیار اس میخانے میں تھا بے خبر
شوق ہی باقی رہا ہم کو دل آگاہ کا
باندھ مت رونے کا تار اے ناقباحت فہم چشم
اس سے پایا جائے ہے سر رشتہ جی کی چاہ کا
شیخ مت کر ذکر ہر ساعت قیامت کا کہ ہے
عرصۂ محشر نمونہ اس کی بازی گاہ کا
شہر میں کس منھ سے آوے سامنے تیرے کہ شوخ
جھائیوں سے بھر رہا ہے سارا چہرہ ماہ کا
سرفرو لاتی نہیں ہمت مری ہر اک کے پاس
ہوں گداے آستاں میں میر حضرت شاہ کا
میر تقی میر

شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا

دیوان اول غزل 16
حال دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں
ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری
گاہ تونے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میر
بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
میر تقی میر

سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 55
سیاہ رنگ کا امن و سکوں تباہ ہوا
سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا
زمیں سے کیڑے مکوڑے نکلتے آتے ہیں
ہمارے ملک میں یہ کون بادشاہ ہوا
کئی دنوں سے زمیں دھل رہی ہے بارش سے
امیر شہر سے کیسا یہ پھر گناہ ہوا
شرارِ خاک نکلتا گرفت سے کیسے
دیارِ خاک ازل سے جنازہ گاہ ہوا
وہ شہر تھا کسی قربان گاہ پر آباد
سو داستان میں بغداد پھر تباہ ہوا
جلے جو خیمے تو اتنا دھواں اٹھا منصور
ہمیشہ کے لیے رنگِ علَم سیاہ ہوا
منصور آفاق