ٹیگ کے محفوظات: گالیاں

اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ
ہونے کو ہو تو جائے ادا ایک فرضِ خاص
ماں باپ بھی ہوں خاک بہ سر، بیٹیاں الگ
جاتی ہے اپنی کم نظری سے اِدھر جو آن
اُڑتی ہیں جسم و جاں کی اُدھر دھجیاں الگ
ڈالی جو خاک سر پہ ہمارے، زمین نے
برسا کیا ہے ہم پہ اُدھر آسماں الگ
توقیر بھی بدلتی ہے، تحقیر میں کبھی
حالات جس طرح کا بھی دے دیں نشاں الگ
لیکھوں میں شخص شخص کے لکّھی ملے یہاں
ناطے سے بِنت بِنت کے اِک داستاں الگ
ہم گُل بہ کف تھے، سنگ بہ کف مل گئے ہمیں
اُترا ہے اب کے آنکھ میں ماجد سماں الگ
ماجد صدیقی

ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں

دیوان سوم غزل 1184
درویشوں سے تو ان نے ضدیں نکالیاں ہیں
ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں
جبہے سے سینہ تک ہیں کیا کیا خراش ناخن
گویا کہ ہم نے منھ پر تلواریں کھالیاں ہیں
جب لگ گئے جھمکنے رخسار یار دونوں
تب مہر و مہ نے اپنی آنکھیں چھپالیاں ہیں
صبح چمن کا جلوہ ہندی بتوں میں دیکھا
صندل بھری جبیں ہیں ہونٹوں کی لالیاں ہیں
درد و الم ہی میں سب جاتے ہیں روز و شب یاں
دن اشک ریزیاں ہیں شب زار نالیاں ہیں
حیزوں نے ریختے کو ووں ریختی بنایا
جوں ان دنوں میں بالے لڑکوں کی بالیاں ہیں
اجماع بوالہوس کو رکھ رکھ لیا ہے آگے
مت جان ایسی بھیڑیں جی دینے والیاں ہیں
ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں
جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں
وہ دزد دل نہیں تو کیوں دیکھتے ہی مجھ کو
پلکیں جھکالیاں ہیں آنکھیں چرا لیاں ہیں
اس آفتاب بن یاں اندھیر ہورہا ہے
دن بھی سیاہ اپنے جوں راتیں کالیاں ہیں
چلتے ہیں یہ تو ٹھوکر لگتی ہے میر دل کو
چالیں ہی دلبروں کی سب سے نرالیاں ہیں
میر تقی میر

اِس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 25
ہاں اسی دن دھوپ میں ہریالیاں شامل ہوئیں
اِس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں
بادِ آزادی میں ہم سب ناچنے والوں کے ساتھ
پھول پہنے، رقص کرتی ڈالیاں شامل ہوئیں
بوئے گُل سے جانئے کیوں بوئے خوں آنے لگی
باغ میں جب سے تری رکھوالیاں شامل ہوئیں
قہر تو اُس وقت ٹوٹا تھا، صفِ اعدا میں جب
چشم و لب سے قتل کرنے والیاں شامل ہوئیں
خیر کو شر اور شر کو خیر کرنے میں یہاں
جانئے کن کن کی بداعمالیاں شامل ہوئیں
اتنا پیارا ہو گیا ہوں دوستوں کو، کیا کہوں
جب بھی میرا ذکر آیا گالیاں شامل ہوئیں
آفتاب اقبال شمیم

کدوں دھیان چ لیاوندیاں، سانوں ایہہ نخرے والیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 93
مُکھاں توں چِٹیاں گوریاں، اندراں توں ماجدُ کالیاں
کدوں دھیان چ لیاوندیاں، سانوں ایہہ نخرے والیاں
سوہنا جیہا اِک مکھ سی، کھنجیا تے اوہدا دکھ سی
دُکھاں نے مِل کے لیاندیاں، راتاں جگاوَن والیاں
ایہہ میں وی نئیں ساں جاندا، اوہ خواب جیہی اک، کون سی
ہوٹھاں تے دِھیمی لہر سی، مکھ تے مشالاں بالیاں
بیٹھے ساں اکھیاں مِیٹ کے، دل سی جویں پچھتاوندا
راتیں وی سُفنے لیائے سن، تاہنگاں دیاں کجھ ڈالیاں
بھخ رہئی سی وانگ انگیاریاں، بانہواں دے وچ ائی آندیاں
ویلے نے اگی چاہڑیا، سونا سی وچ کُٹھیالیاں
بِناں مراداں حاصلاں، سدھراں پیاں تصویریاں
ایس ائی نکھٹو سوچ وچ، اساں نے عمراں گالیاں
کیتی سی کدوں شاعری، ماجد کسے دے پیار وچ
خواباں جہیاں کجھ یاد سن، لفظاں دے روپ چ ڈھالیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)