ٹیگ کے محفوظات: گاتا

جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کُنجِ قفس تک بھی خوشبو سی لاتا ہے
جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے
پِٹوا کر سہلائے یُوں ہر پنیچ ہمیں
بالغ جیسے بچّے کو بہلاتا ہے
ظالم کے ہتھے جو بھی اِک بار چڑھے
جیون بھرُوہ اُس کے ہی گُن گاتا ہے
پنچھی سوچیں اَب وُہ ایکا کرنے کی
جو ایکا مرگِ انبوہ دکھاتا ہے
سینت کے رکھے صید نہ اپنا زورآور
شیر کے من کو تازہ خون ہی بھاتا ہے
جس کے سر تھا خون کسی کا شخص وُہی
اَب قبروں پر پھول چڑھانے آتا ہے
ماجدؔ بھی کیا سادہ ہے اخلاص پہ جو
رہ رہ کر اِس دَور میں بھی اِتراتا ہے
ماجد صدیقی

دریا کو ڈوبنے سے بچاتا تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 195
صحرا کی سرخ آگ بجھاتا تھا کون شخص
دریا کو ڈوبنے سے بچاتا تھا کون شخص
تھا کون سوز سینہ ء صدیق کا امیں
خونِ جگر سے دیب جلاتا تھا کون شخص
تھامے ہوئے عدالتِ فاروق کا علم
پھر فتح نو کی آس جگاتا تھا کون شخص
تھا کون شخص سنتِ عثمان کا غلام
تقسیم زر کا فرض نبھاتا تھا کون شخص
وہ کون تھا شجاعتِ حیدر کا جانثار
وہ آتشِ غرور بجھاتا تھا کون شخص
ہر سمت دیکھتا ہوں سیاست کی مصلحت
شبیریوں کی آن دکھاتا تھا کون شخص
ہم رقص میرا کون تھا شہرِ سلوک میں
رومی کی قبر پر اسے گاتا تھا کون شخص
صدیوں سے جس کی قبر بھی بستی ہے زندہ ہے
یہ کون گنج بخش تھا داتا تھا کون شخص
ہوتا تھا کون وہ جسے منصور کہتے تھے
دار و رسن کو چومنے جاتا تھا کون شخص
منصور آفاق

شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 1
درد مرا شہباز قلندر، دکھ ہے میرا داتا
شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا
اک پگلی مٹیار نے قطرہ قطرہ سرخ پلک سے
ہجر کے کالے چرخِ کہن پر شب بھر سورج کاتا
پچھلی گلی میں چھوڑ آیا ہوں کروٹ کروٹ یادیں
اک بستر کی سندر شکنیں کون اٹھا کر لاتا
شہرِ تعلق میں اپنے دو ناممکن رستے تھے
بھول اسے میں جاتا یا پھر یاد اسے میں آتا
ہجرت کر آیا ہے ایک دھڑکتا دل شاعر کا
پاکستان میں کب تک خوف کو لکھتا موت کو گاتا
مادھو لال حسین مرا دل، ہر دھڑکن منصوری
ایک اضافی چیز ہوں میں یہ کون مجھے سمجھاتا
وارث شاہ کا وہ رانجھا ہوں ہیر نہیں ہے جس کی
کیسے دوہے بُنتا کیسے میں تصویر بناتا
ہار گیا میں بھولا بھالا ایک ٹھگوں کے ٹھگ سے
بلھے شاہ سا ایک شرابی شہر کو کیا بہکاتا
میری سمجھ میں آ جاتا گر حرف الف سے پہلا
باہو کی میں بے کا نقطہ بن بن کر مٹ جاتا
ذات محمد بخش ہے میری۔۔۔ شجرہ شعر ہے میرا
اذن نہیں ہے ورنہ ڈیرہ قبرستان لگاتا
میں موہن جو داڑو، مجھ میں تہذبیوں کی چیخیں
ظلم بھری تاریخیں مجھ میں ، مجھ سے وقت کا ناتا
ایک اکیلا میں منصور آفاق کہاں تک آخر
شہرِ وفا کے ہر کونے میں تیری یاد بچھاتا
منصور آفاق