ٹیگ کے محفوظات: گاؤں

بے دم ہے پیڑ پیڑ چمن کا چِتاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
گھرنے لگے ہم آپ یہ کیسی خزاؤں میں
بے دم ہے پیڑ پیڑ چمن کا چِتاؤں میں
کچھ دودو گردوشور ہی نقصاں رساں نہیں
خبروں کا زہر بھی تو ملا ہے ہواؤں میں
دھن دھونس دھاندلی کے مسلسل داباؤ سے
لرزہ سنائی دینے لگا ہے صداؤں میں
گوشہ کوئی کہ جس میں درندوں سے ہو اماں
ہر شخص چل پڑا ہے پلٹ کر گُپھاؤں میں
اللہ اس کو اور نمو اور تاب دے
یاور وہ پیڑ ہم ہیں مگن جس کی چھاؤں میں
پینچوں کے بل پہ شہ تو ہوا اور مقتدر
ماجِد غلامیوں کے چلن پھر ہیں گاؤں میں
ماجد صدیقی

سپنے سکُھ کی چھاؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نقش بنے صحراؤں کے
سپنے سکُھ کی چھاؤں کے
دیدۂ تر کو مات کریں
دشت میں چھالے پاؤں کے
دیکھیں کیا دکھلاتے ہیں
پتّے آخری داؤں کے
پیڑ اکھڑتے دیکھے ہیں
کِن کِن شوخ اناؤں کے
ابریشم سے جسموں پر
برسیں سنگ جفاؤں کے
خرکاروں کے ہاتھ لگیں
لعل بلکتی ماؤں کے
ماجدؔ دیہہ میں شہری ہم
شہر میں باسی گاؤں کے
ماجد صدیقی

دھوپ جیسے کبھی چھاؤں سے ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
شاہ اِس طرح گداؤں سے ملے
دھوپ جیسے کبھی چھاؤں سے ملے
سیدھے ہاتھوں نہ ملے کُچھ بھی یہاں
جو ملے اوج وہ داؤں سے ملے
آنچ سب میں تھی لہو جلنے کی
جتنے پیغام ہواؤں سے ملے
پُوچھتا کون ہے شہروں میں اُنہیں
ولولے جو ہمیں گاؤں سے ملے
کیا کریں ہم اِسے روشن ماجدؔ!
فیض اب کون سا ناؤں سے ملے
ماجد صدیقی

جیسے افواہ کوئی گاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
زہر پھیلا ہے وُہ فضاؤں میں
جیسے افواہ کوئی گاؤں میں
چھین لی تھی کمان تک جس سے
آ گئے پھر اُسی کے داؤں میں
پھر جلی ہے کوئی چِتا جیسے
بُو ہے بارود کی ہواؤں میں
کشتیٔ آرزو گھری دیکھی
جانے کتنے ہی ناخداؤں میں
نت گھمائے جو دائروں میں ہمیں
کیسی زنجیر ہے یہ پاؤں میں
آگ برسی اُسی پرندے پر
دم بھی جس نے لیا نہ چھاؤں میں
اَب تو ماجدؔ سکونِ دل کے لئے
چل کے رہیے کہیں خلاؤں میں
ماجد صدیقی

بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
دل سے یُوں اٹُھتے ہیں حرف دعاؤں کے
بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے
بُعد نجانے تا بہ نشیمن کتنا ہے
تیور ہیں کچھ اور ہی تُند ہواؤں کے
اب کے آس کا عالم ہی کچھ ایسا ہے
ہاتھ میں سکے جیسے آخری داؤں کے
پل پل چھینیں چہروں سے نم راحت کی
حلق میں اٹکے کنکر خشک صداؤں کے
پیشانی میں عجز کی میخیں اُتری ہیں
اور زباں کی نوک پہ وِرد خداؤں کے
رفتہ رفتہ پیار کا ابجد بھول گئے
شہر میں جو جو لوگ بھی آئے گاؤں کے
ماجدؔ نقش برآب سمجھتے تھے جس کو
نقش کھُدے ہیں دل پر اُس کے ناؤں کے
ماجد صدیقی

رُوٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 108
جان لبوں تک لاؤں
رُوٹھا یار مناؤں
مَیں انگناں میں شب کے
گیت سحر کے گاؤں
تپتے صحراؤں پر
ابر بنوں اور چھاؤں
اُجڑے پیڑ ہیں جتنے
برگ اُنہیں لوٹاؤں
خواہش کے ساحل پر
موجوں سا لہراؤں
دُکھتے جسم کو ماجدؔ
کب تک میں سہلاؤں
ماجد صدیقی

آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 121
جان جیسے گھری پھر چتاؤں میں ہے
آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے
پھر سے غارت ہُوا ہے سکوں دشت کا
کھلبلی پھر نئی فاختاؤں میں ہے
آگ سی کیا یہ رگ رگ میں اُتری لگے
دھوپ کا سا گماں کیوں یہ چھاؤں میں ہے
میرے جینے کے اسباب سب شہر میں
میری تسکیں کا سامان گاؤں میں ہے
آج تک ہم نے بنتی تو دیکھی نہیں
بات ماجدؔ چھپی جو اناؤں میں ہے
ماجد صدیقی

یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
تن میں ترے مشعلیں جلاؤں
یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں
چاہت کا وہِسحر تُجھ پہ پھونکوں
رگ رگ میں قیامتیں مچاؤں
تکمیل کروں کبھی تو اپنی
تجھ کو سرِ جسم و جاں سجاؤں
مخفی پسِ لب کلی کلی کے
جو راز ہے، وُہ تجھے بتاؤں
مَیں خود ہی جواب جن کا ٹھہروں
ایسے بھی سوال کُچھ اُٹھاؤں
غنچوں کی چٹک ہو جس پہ شیدا
وُہ زمزمہ اَب کے گنگناؤں
ہر لُطف ہے اِس میں ہر مزہ ہے
ماجدؔ کی غزل ہے کیوں نہ گاؤں
ماجد صدیقی

پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
حُسن اور مقتضی جفاؤں کا
پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا
وحشتِ غم ہے دل میں یوں جیسے
کوئی میلہ لگا ہو گاؤں کا
سایۂ ابر بھی چمن سے گیا
خوب دیکھا اثر دعاؤں کا
جو گریباں کبھی تھا زیبِ گلو
اَب وہ زیور بنا ہے پاؤں کا
اُن سے نسبت ہمیں ہے یُوں ماجدؔ
ربط جیسے ہو دھوپ چھاؤں کا
ماجد صدیقی

اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 62
میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں
نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں
چاک دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں
ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں
احمد فراز

ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 60
تتلیوں کی بے چینی آبسی ہے پاؤں میں
ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں
جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اُجڑتے ہیں
کیسے حوصلے ہوں گے اُن غریب ماؤں میں
صورتِ رفو کرتے ، سر نہ یوں کُھلا رکھتے
جوڑ کب نہیں ہوتے ماؤں کی رداؤں میں
آنسوؤں میں کٹ کٹ کر کتنے خواب گرتے ہیں
اِک جو ان کی میّت ا رہی ہے گاؤں میں
اب تو ٹوٹی کشتی بھی آگ سے بچاتے ہیں
ہاں کبھی تھا نام اپنا بخت آزماؤں میں
ابر کی طرح ہے وہ یوں نہ چُھوسکوں لیکن
ہاتھ جب بھی پھیلائے ا گیا دعاؤں میں
جگنوؤں کی شمعیں بھی راستے میں روشن ہیں
سانپ ہی نہیں ہوتے ذات کی گپھاؤں میں
صرف اِس تکبُّر میں اُس نے مجھ کو جیتا تھا
ذکر ہو نہ اس کا بھی کل کو نارساؤں میں
کوچ کی تمنّا میں پاؤں تھک گئے لیکن
سمت طے نہیں ہوتی پیارے رہنماؤں میں
اپنی غم گُساری کو مشتہر نہیں کرتے
اِتنا ظرف ہوتا ہے درد آشناؤں میں
اب تو ہجر کے دُکھ میں ساری عُمر جلنا ہے
پہلے کیا پناہیں تھیں مہرباں چتاؤں میں
ساز و رخت بھجوا دیں حدِّ شہر سے باہر
پھر سُرنگ ڈالیں گے ہم محل سراؤں میں
پروین شاکر

گھنگھرو سایوں کے بجیں ڈھلتی دھوپ کے پاؤں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 69
جاتی رُت کا شور ہے بے آواز صداؤں میں
گھنگھرو سایوں کے بجیں ڈھلتی دھوپ کے پاؤں میں
بدن چرائے دھوپ سے نکلی نہر سے سانولی
چھلکے رنگ غروب کے دن دوپہرے گاؤں میں
عکس ابھرتا آنکھ میں کیسے کل کے خواب کا
نیلا کانچ تھا آسماں پیلی زرد خزاؤں میں
سورج جس کا تاج تھا، دنیا جس کا تخت تھی
وہ بھی شامل ہو گیا بالآخر تنہاؤں میں
بیٹھے آمنے سامنے کہنیاں ٹیکے میز پہ
چٹکے چہرے پھول سے شہر کی شام سراؤں میں
گزرا اپنی اوٹ میں دیکھا کس نے زید کو
ہوتی کیوں سرگوشیاں بستی کی لیلاؤں میں
آفتاب اقبال شمیم

تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 48
کہیں چھاؤں نہیں لیکن ہمیں چھاؤں میں رہنا ہے
تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے
ہمیں اگلا سفر شاید کہ لا محدود کر دے گا
وہاں تک اک نہ اک زنجیر کو پاؤں میں رہنا ہے
مناسب ہے ان آنکھوں کا بہا دینا سرابون میں
کہ آخر عمرِ بےمعنی کے صحراؤں میں رہنا ہے
یہی ہم پر کُھلا، ردِّ عقیدہ بھی عقیدہ ہے
کلیساؤں سے باہر بھی کلیساؤں میں رہنا ہے
ہُوا اک بار پھر ناکام منصوبہ بغاوت کا
ابھی اُس کشتِ زارِ جبر کے گاؤں میں رہنا ہے
گرفت ریگ سے کچھ کربلائیں تم بنا لو گے!
رواں رہنے کا پھر بھی عزم دریاؤں میں رہنا ہے
آفتاب اقبال شمیم

گاؤں

یہ تنگ و تار جھونپڑیاں گھاس پھوس کی

اب تک جنھیں ہوا نہ تمدن کی چھو سکی

ان جھونپڑوں سے دور اور اس پار کھیت کے

یہ جھاڑیوں کے جھنڈ یہ انبار ریت کے

یہ سادگی کے رنگ میں ڈوبا ہوا جہاں

ہنگامۂ جہاں ہے سکوں آشنا جہاں

یہ دوپہر کو کیکروں کی چھاؤں کے تلے

گرمی سے ہانپتی ہوئی بھینسوں کے سلسلے

ریوڑ یہ بھیڑ بکریوں کے اونگھتے ہوئے

جھک کر ہر ایک چیز کی بو سونگھتے ہوئے

یہ آندھیوں کے خوف سے سہمی ہوئی فضا

جنگل کی جھاڑیوں سے سنکتی ہوئی ہوا

یہ شام کے مناظرِ رنگیں کی خامشی

اور اس میں گونجتی ہوئی جھینگر کی راگنی

بچے غبارِ راہگزر پھانکتے ہوئے

میدان میں مویشیوں کو ہانکتے ہوئے

برفاب کے دفینے اگلتا ہوا کنواں

یہ گھنگھروؤں کی تال پہ چلتا ہوا کنواں

یہ کھیت، یہ درخت، یہ شاداب گرد و پیش

سیلابِ رنگ و بو سے یہ سیراب گرد و پیش

مستِ شباب کھیتیوں کی گلفشانیاں

دوشیزۂ بہار کی اٹھتی جوانیاں

یہ نزہتِ مظاہرِ قدرت کی جلوہ گہ

ہاں ہاں یہ حسنِ شاہدِ فطرت کی جلوہ گہ

دنیا میں جس کو کہتے ہیں گاؤں یہی تو ہے

طوبیٰ کی شاخِ سبز کی چھاؤں یہی تو ہے

مجید امجد

ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 229
بھردیا اجنبی فضاؤں کو
ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو
آخری سانس تک لڑیں گے ہم
پھر دیوں نے کہا ہواؤں کو
لوگ ابلیس سے بھی بڑھ کے ہیں
پوجتے ہیں کئی خداؤں کو
سانپ بننے لگی ہے شاخِ گل
دھوپ ڈسنے لگی ہے چھاؤں کو
دشتِ غم سے نکال لائے ہیں
چومتے ہیں ہم اپنے پاؤں کو
دے گئی پھر سنبھالاموسیقی
اور دعادی غزل سراؤں کو
اپنے خالی گھڑے لئے منصور
کوئی دریا چلا ہے گاؤں کو
منصور آفاق

بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 217
اب آسماں نژاد بلاؤں کا خوف ختم
بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم
تلووں تلے لگا لیے سیارے وقت نے
ہر لمحہ سوچتے ہوئے پاؤں کا خوف ختم
بادل بڑے گرجتے ہیں باراں بکف مگر
سینہ نہیں دھڑکتا، خداؤں کا خوف ختم
اک چشمہء شعور پہ اپنی رگوں کے بیچ
ہم شیر مار آئے ہیں ، گاؤں کا خوف ختم
سورج تراش لائے ہیں صحنِ علوم سے
سہمی ہوئی سیاہ فضاؤں کا خوف ختم
ہم نے طلسم توڑ لیا ہے نصیب کا
جادو نگر کی زرد دعاؤں کا خوف ختم
اب شرم سار ہوتی نہیں ہے سنہری دھوپ
پلکوں پہ سرسراتی گھٹاؤں کا خوف ختم
میلوں تلک زمیں میں آنکھیں اتر گئیں
اندھے کنووں میں لٹکی سزاؤں کا خوف ختم
کوہ ندا کے کھل گئے اسرار آنکھ پر
آسیبِ آسماں کی صداؤں کا خوف ختم
اپنالی اپنے عہد نے تہذیب جین کی
اکڑی ہوئی قدیم قباؤں کا خوف ختم
ہم رقص کائنات ہے منصور ذات سے
اندر کے بے کنار خلاؤں کا خوف ختم
منصور آفاق

اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 114
خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں
نظر نظر سے نکلتی ہیں درد کی ٹیسیں
قدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں
ہرایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے
ابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں
غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے
کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں
ابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹا
ابھی کشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں
چلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کر
بھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں
دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔ
کہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں
باقی صدیقی