ٹیگ کے محفوظات: کیے

یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر

ممکن نہیں خموش رہوں لب سیے بغیر
یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر
انصاف کا اصولِ توازن یہ خوب ہے
دیتے نہیں وہ حق بھی مرا کچھ لیے بغیر
لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں
گویا کہ اِس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر
ناصح کریں گے تیری نصیحت پہ ہم عمل
ہو آئے اُس گلی سے جو تُو دل دیے بغیر
اب اُس کی ہوش مندی کی دینی پڑے گی داد
شیشے میں جس نے تجھ کو اُتارا پیے بغیر
باصر کاظمی

پھرتے ہیں ہم بھی ہاتھ میں سر کو لیے ہوئے

دیوان اول غزل 611
ظالم کہیں تو مل کبھو دارو پیے ہوئے
پھرتے ہیں ہم بھی ہاتھ میں سر کو لیے ہوئے
آئوگے ہوش میں تو ٹک اک سدھ بھی لیجیو
اب تو نشے میں جاتے ہو زخمی کیے ہوئے
جی ڈوبتا ہے اس گہرتر کی یاد میں
پایان کار عشق میں ہم مرجیے ہوئے
سی چاک دل کہ چشم سے ناصح لہو تھمے
ہوتا ہے کیا ہمارے گریباں سیے ہوئے
کافر ہوئے بتوں کی محبت میں میرجی
مسجد میں آج آئے تھے قشقہ دیے ہوئے
میر تقی میر

گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 187
روشنی کے خواب، خوشبو کے دیے تھے آس پاس
گہری کالی رات کے دو المیے تھے آس پاس
آ گئے، اچھا کیا، بھیگی ہوئی اِس شام میں
ایسی رت میں آپ ہی بس چاہیے تھے آس پاس
اک رندھی آواز تھی میرے گلے میں ہجر کی
درد کے روتے ہوئے کچھ ماہیے تھے آس پاس
ہونٹ میرے رات بھر، یہ سوچیے، ہونٹوں پہ تھے
ہاتھ میرے، آپ اتنا جانیے، تھے آس پاس
جب بدن میں بادلوں کا شور تھا تم تھے کہاں
جب چمکتے بجلیوں کے زاویے تھے آس پاس
دیکھتی تھیں اس کی آنکھیں میرے چہرے کے نقوش
زندگی کے آخری جب ثانیے تھے آس پاس
اک فریبِ ذات تھا پھیلا ہوا صدیوں کے بیچ
چاند جیسے ناموں والے کالیے تھے آس پاس
رات کی دیوار پر فوٹو گراف اک چاند کا
اور کالے بادلوں کے حاشیے تھے آس پاس
نظم کی میت کوئی لٹکا رہا تھا پیڑ سے
اور پریشاں حال کچھ بالشتیے تھے آس پاس
اک سفر میں نے کیا تھا وادیِ تاریخ میں
بین تھے چیخوں بھرے اور مرثیے تھے آس پاس
جب مرا سر کٹ رہا تھا کربلائے وقت میں
اہل کوفہ اپنی دستاریں لیے تھے آس پاس
ہفتہ بھر سے ڈائری ملتی نہیں منصور کی
فون پر کچھ رابطے میں نے کیے تھے آس پاس
منصور آفاق