ٹیگ کے محفوظات: کیچڑ

گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ

جل رہے ہیں مکان دھڑ دھڑ دھڑ
گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ
شاخِ زیتون جس کے ہاتھ میں ہے
اصل میں ہے وہی فساد کی جڑ
چند چھینٹے پڑے تھے بارش کے
شہر میں ہر طرف ہوا کیچڑ
دیکھتے ہی اُسے، ہوا محسوس
مجھ سے پھر ہو گئی کہیں گڑبڑ
آزمائش میں آ گئے باصِرؔ
پھر کسی بات کی ہوئی ہے پکڑ
باصر کاظمی