ٹیگ کے محفوظات: کیونکر

وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
اب خُدا سے بھی مجھے کہنے میں یہ، کُچھ ڈر نہیں
وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں
نیّتیں بھی جب نہیں ہیں صاف، نظریں بھی علیل
کب یہ مانیں ہم کہ خرمن میں کوئی اخگر نہیں
جانے کیا ہے جو بھی رُت بدلے رہے رنگ ایک سا
حال جو پہلے تھا،اُس سے اب بھی کُچھ بہتر نہیں
بس فقط اُلٹا ہے تختہ اور کُچھ جانیں گئیں
بہرِ غاصب،فرق یُوں ہونے میں ذرّہ بھر نہیں
بچپنے سے رگ بہ رگ تھا جو رچاؤ لُطف کا
دیس کے اندر بہت ہے،دیس سے باہر نہیں
آخرش ایسا ہی ماجِد ہر کہیں ہو گا رقم
تُم نے اپنا نام کب لکّھا بہ آبِ زر نہیں
ماجد صدیقی

پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
مہرباں جس گھڑی تھا ہم پر وُہ
پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ
تھا جسے اختلاف ناحق سے
اب کہاں پاس اپنے بُوذرؑ وُہ
جس کے دیکھے سے پیاس بجھتی ہو
ملنے آئے گا ہم سے کیونکر وُہ
میں کہ مس ہوں جہاں میں مجھ کو بھی
آنچ دیتا ہے کیمیا گر وُہ
جب سے پیکر مہک اُٹھا اُس کا
بند رکھتا ہے روزن و دَر وُہ
کب سے جاری ہے یہ مہم اپنی
ہم سے لیکن نہیں ہُوا سر وُہ
اُس سے ماجدؔ! کہاں کا سمجھوتہ
موم ہیں ہم اگر تو پتّھر وُہ
ماجد صدیقی

جو گل بھی ہے چمن میں وہ پتّھر دکھائی دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 115
جانے یہ کس کے سحر کا منظر دکھائی دے
جو گل بھی ہے چمن میں وہ پتّھر دکھائی دے
کیسی یہ لو چلی کہ سرِ دستِ آرزو
اٹھتی ہے جو بھی لہر وہ اژدر دکھائی دے
کھودے اُسی کے پیروں تلے کی زمین وہ
جس کم نگاہ کو کوئی ہم سر دکھائی دے
ایسا ہے کون بت نہ تراشے جو حرص کے
دیکھا ہے جس کسی کو وہ آذر دکھائی دے
محبوس تیتروں پہ جو بلّی کو ہے نصیب
وہ جبرِ ناروا اُسے کیونکر دکھائی دے
ماجدؔ جسے بھلائیں گل و مہ کو دیکھ کر
چہرہ وہ صبح و شام برابر دکھائی دے
ماجد صدیقی

بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 24
آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا
بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا
ہم نے ان کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا
زندگی میں پاس سے دم بھر نہ ہوتے تھے جدا
قبر میں تنہا مجھے یاروں نے کیونکر رکھ دیا
دیکھئے اب ٹھوکریں کھاتی ہے کس کس کی نگاہ
روزن دیوار میں ظالم نے پتھر رکھ دیا
زلف خالی ہاتھ خالی کس جگہ ڈھونڈیں اسے
تم نے دل لے کر کہاں اے بندہ پرور رکھ دیا
داغ کی شامت جو آئی اضطراب شوق میں
حال دل کمبخت نے سب ان کے منہ پر رکھ دیا
داغ دہلوی

وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 23
خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا
وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا
مجھ سے مے کش کو کہاں صبر، کہاں کی توبہ
لے لیا دوڑ کے جب سامنے ساغر آیا
غیر کے روپ میں بھیجا ہے جلانے کو مرے
نامہ بر ان کا نیا بھیس بدل کر آیا
سخت جانی سے مری جان بچے گی کب تک
ایک جب کُند ہوا دوسرا خنجر آیا
داغ تھا درد تھا غم تھا کہ الم تھا کچھ تھا
لے لیا عشق میں جو ہم کو میسر آیا
عشق تاثیر ہی کرتا ہے کہ اس کافر نے
جب مرا حال سنا سنتے ہی جی بھر آیا
اس قدر شاد ہوں گویا کہ ملی ہفت اقلیم
آئینہ ہاتھ میں آیا کہ سکندر آیا
وصل میں ہائے وہ اترا کے مرا بول اٹھنا
اے فلک دیکھ تو یہ کون مرے گھر آیا
راہ میں وعدہ کریں جاؤں میں گھر پر تو کہیں
کون ہے، کس نے بلایا اسے، کیونکر آیا
داغ کے نام سے نفرت ہے، وہ جل جاتے ہیں
ذکر کم بخت کا آنے کو تو اکثر آیا
داغ دہلوی

جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 125
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن
’جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر‘
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں، تو چاہیئے، دونا ہوں التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر
غالب نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 31
خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں
ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں
جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں
چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں
جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں
غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں
سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں
وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں
امیر مینائی

تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 1
پرسش کو مری کون مرے گھر نہیں آتا
تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا
تم لاکھ قسم کھاتے ہو ملنے کی عدو سے
ایمان سے کہو دوں مجھے بارو نہیں آتا
ڈرتا ہے کہیں آپ نہ پڑ جائے بلا میں
کوچے میں ترے فتنہ محشر نہیں آتا
جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی دیکھ لے ظالم
پھر دیکھوں کے رونا تجھے کیونکر نہیں آتا
کہتے ہیں یہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمھارے
سینے سے ٹرپ کر کبھی باہر نہیں آتا
دشمن کو کبھی ہوتی ہے دل پہ مرے رقت
پر دل یہ ترا ہے کہ کبھی بھر نہیں آتا
کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہیں تیور
کب یہ بیٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہیں آتا
غربت کدۂ دہر میں صدمے سے ہیں صدمے
اس پر بھی کبھی یاد ہمیں گہر نہیں آتا
ہم جس کی ہوس میں ہیں امیر آپ سے باہر
وہ پردہ نشین گھر سے باہر نہیں آتا
امیر مینائی