ٹیگ کے محفوظات: کیسے

اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مِل اُن سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر
تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے
جو دن میں پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار
وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے
ہم اُن کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل
رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے
اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام
اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے
ناکامی کی صورت میں مِلے طعنۂ نایافت
اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے
شب اہلِ ہوس ایسے پریشان تھے باصرِؔ
جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے
باصر کاظمی

کسی پٹرول اسٹیشن کو جیسے آگ لگ جائے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 497
کسی کے صرف چھولینے سے ا یسے آگ لگ جائے
کسی پٹرول اسٹیشن کو جیسے آگ لگ جائے
کسی بیلے میں اشکوں کے دئیے تک بھی نہ روشن ہوں
کہیں پر بانسری کی صرف لے سے آگ لگ جائے
ہواؤں کے بدن میں سرخ موسم کے سلگنے سے
گلابو ں کے لبوں کی تازہ مے سے آگ لگ جائے
کبھی جلتے ہوئے چولہے میں جم جائے بدن کی برف
کبھی بہتے ہوئے پانی میں ویسے آگ لگ جائے
کسی کے بھیگنے سے کس طرح جلتی ہیں برساتیں
کسی کے چلنے سے رستے میں کیسے آگ لگ جائے
منصور آفاق