ٹیگ کے محفوظات: کیسی

باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں
حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری
ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں
تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد
مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں
جونہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب
سارے جہاں کی اُس میں ملیں گی خرابیاں
سرکار کا ہے اپنا ہی معیارِ انتخاب
یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں
آدم خطا کا پُتلا ہے گر مان لیں یہ بات
نکلیں گی اِس خرابی سے کتنی خرابیاں
اُن ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم
جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں
بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج
جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں
باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اُس میں ہیں
کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
باصر کاظمی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی
بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی
یوں بے حال نہ ہو اے دل بس آتے ہی ہوں گے وہ
کل بھی دیر لگی تھی اُن کو آج بھی دیر لگے گی
سیکھ لیا ہے میں نے اپنے آپ سے باتیں کرنا
فکر نہیں اُن کو آنے میں کتنی دیر لگے گی
صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم
ساری شرطیں پوری ہیں پھر کیسی دیر لگے گی
کون رکے اب اُس کے در پر شام ہوئی گھر جائیں
اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگے گی
اِتنی دیر میں کچھ کے کچھ ہو جائیں گے حالات
خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگے گی
مارگزیدہ کون بچا ہے باصرِؔ شکر کرو تم
ٹھیک بھی ہو جاؤ گے لیکن خاصی دیر لگے گی
باصر کاظمی