ٹیگ کے محفوظات: کیجئے

میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
چہرے کو دیکھئے، مری آنکھوں میں جھانکئے
میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے
کھِلتے ہوئے گلوں کی مہک تھی، مری نظر
پھر کیا ہوا مجھے، یہ مُجھی سے نہ پوچھئے
اچّھا نہ ہو گا مَیں بھی اگر لب کشا ہُوا
میری زباں سے زنگ نہ چُپ کا اُتارئیے
ماجدؔ درِ بہار پہ پہنچے تو ہو مگر
اپنی جبیں سے آپ پسینہ بھی پونچھئے
ماجد صدیقی

منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 182
ہیں خوفناک ہجر کے یہ المیے پلیز
منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز
باقی ہیں انتظار کی کچھ ساعتیں ابھی
جلنے دو بام پر ابھی سارے دئیے پلیز
اب کاٹنے لگی ہے خموشی کی تیز دھار
کہیے پلیز کچھ مجھے ،کچھ بولیے پلیز
رہتے نہیں ہمیشہ تو ایسے خراب دن
خود کو سنبھالئے یہ دوا لیجئے پلیز
پہلے بہت اداس ہے شب کاسیہ مزاج
ایسے میں یہ سنائیے نہ ماہیے پلیز
منصور آگئی ہے وہ باہر گلی میں صبح
جانے بھی دیجئے ہمیں اب دیکھئے پلیز
منصور آفاق