ٹیگ کے محفوظات: کہے

ذرا ملال نہ ہو تُو نہ گَر کہے کچھ بھی

ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
ذرا ملال نہ ہو تُو نہ گَر کہے کچھ بھی
وہ اور وقت تھے جب انتخاب ممکن تھا
کریں گے اہلِ ہُنر کام اب ملے کچھ بھی
نہیں ہے وقت مِرے پاس ہر کسی کے لیے
مری بَلا سے وہ ہوتے ہوں آپ کے کچھ بھی
جو میرا حق ہے مجھے وہ تو دیجیے صاحب
طلب کیا نہیں میں نے جناب سے کچھ بھی
ذرا سی بات پہ تیرا یہ حال ہے باصرِؔ
ابھی تو میں نے بتایا نہیں تجھے کچھ بھی
باصر کاظمی

واقف نہیں ہیں شاید اپنے بُرے بھلے سے

جو لوگ اُس گلی میں پھرتے ہیں منچلے سے
واقف نہیں ہیں شاید اپنے بُرے بھلے سے
شکوہ کیا نہ ہم نے پوچھا نہ حال تم نے
ڈرتے رہے ہیں شاید ہم ایک دوسرے سے
وہ بات ہی نہیں جب تو بات کیا کریں گے
رُک بھی گیا اگر وہ باصرِؔ ترے کہے سے
باصر کاظمی

کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں
میں ربط دیکھ کے سورج مکھی سے سورج کا
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو
’ اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں‘
بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجدؔ
وہ حرف رہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں
ماجد صدیقی

دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
عرش قدموں میں ہو، لگے ایسا
دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا
مجھ سے بھی ہیں قرابتیں اُس کی
کاش وہ شخص بھی کہے ایسا
جس سے میرا بدن دو نِیم ہوا
وار دوراں نہ پھر کرے ایسا
دل یہ کہتا ہے خِرمن خواہش
راکھ بن کر اُڑے، جلے ایسا
جس سے واضح ہو وحشتِ انساں
کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا
ہو تاسّف پہ ختم جو ماجدؔ
مول خطرہ کوئی نہ لے ایسا
ماجد صدیقی

پگھلے بدن کے ساتھ مجھے تُو کہے گا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
گھِر کر بہ سحرِ قُرب بھلا اب کھنچے گا کیا
پگھلے بدن کے ساتھ مجھے تُو کہے گا کیا
خاموش کیوں ہے دے بھی مُجھے اِذنِ سوختن
شُعلہ نظر سے اور بھی کوئی اُٹھے گا کیا
یہ ولولہ مرا کہ ضیا بار تُجھ پہ ہَے
سُورج ہے گر تو میرے اُفق سے ڈھلے گا کیا
خواہش کا چاند آ ہی گیا جب سرِ اُفق
باقی کوئی حجاب بھلا اب رہے گا کیا
یہ لطفِ دید، یہ ترا پیکر الاؤ سا
منظر نگاہ پر کوئی ایسا کھُلے گا کیا
کرتا ہے کیُوں سخن میں عبث نقش کاریاں
ماجدؔ صلہ بھی کوئی تُجھے کچھ ملے گا کیا
ماجد صدیقی

یار کے تیر جان لے جا بھی

دیوان اول غزل 457
چھن گیا سینہ بھی کلیجا بھی
یار کے تیر جان لے جا بھی
کیوں تری موت آئی ہے گی عزیز
سامنے سے مرے ارے جا بھی
حال کہہ چپ رہا جو میں بولا
کس کا قصہ تھا ہاں کہے جا بھی
میں کہا میر جاں بلب ہے شوخ
تونے کوئی خبر کو بھیجا بھی
کہنے لاگا نہ واہی بک اتنا
کیوں ہوا ہے سڑی ابے جا بھی
میر تقی میر

تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 403
کسی کے جسم سے مل کر کبھی بہے نہ کہیں
تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں
عجیب رابطہ اپنے وجود رکھتے تھے
نکل کے تجھ سے تو خود میں بھی ہم رہے نہ کہیں
اسے تو پردے کے پیچھے بھی خوف ہے کہ مری
نظر نقاب پہ چہرہ لکیر لے نہ کہیں
بس اس خیال سے منزل پہن لی پاؤں نے
ہمارے غم میں زمانہ سفر کرے نہ کہیں
تمام عمر نہ دیکھا بری نظر سے اسے
یہ سوچتے ہوئے دنیا برا کہے نہ کہیں
اے آسمان! ذرا دیکھنا کہ دوزخ میں
گرے پڑے ہوں زمیں کے مراسلے نہ کہیں
ڈرا دیا کسی خودکُش خیال نے اتنا
ٹکٹ خرید رکھے تھے مگر گئے نہ کہیں
کئی دنوں سے اداسی ہے اپنے پہلو میں
ہمارے بیچ چلے آئیں دوسرے نہ کہیں
ہر اک مقام پہ بہکی ضرور ہیں نظریں
تری گلی کے علاوہ قدم رکے نہ کہیں
ہم اپنی اپنی جگہ پر سہی اکائی ہیں
ندی کے دونوں کنارے کبھی ملے نہ کہیں
ترے جمال پہ حق ہی نہیں تھا سو ہم نے
کیے گلاب کے پھولوں پہ تبصرے نہ کہیں
کبھی کبھار ملاقات خود سے ہوتی ہے
تعلقات کے پہلے سے سلسلے نہ کہیں
ہر ایک آنکھ ہمیں کھینچتی تھی پانی میں
بھلا یہ کیسے تھا ممکن کہ ڈوبتے نہ کہیں
اداس چاندنی ہم سے کہیں زیادہ تھی
کھلے دریچے ترے انتظار کے نہ کہیں
بس ایک زندہ سخن کی ہمیں تمنا ہے
بنائے ہم نے کتابوں کے مقبرے نہ کہیں
بدن کو راس کچھ اتنی ہے بے گھری اپنی
کئی رہائشیں آئیں مگر رہے نہ کہیں
دھواں اتار بدن میں حشیش کا منصور
یہ غم کا بھیڑیا سینہ ہی چیر دے نہ کہیں
منصور آفاق